• صفحہ اول
  • /
  • فیچرڈ
  • /
  • بدھو کمہار کا مقبرہ اورنج ٹرین کی زد میں۔۔۔۔ذیشان محمود

بدھو کمہار کا مقبرہ اورنج ٹرین کی زد میں۔۔۔۔ذیشان محمود

سنا ہے کہ تھا ایک بدھو کمہار
بڑا نامور اور بڑا شہسوار
مہاراج رنجیت کے دور میں
اسی ہی کا چرچا تھا لاہور میں
گدھا ایک تھا اپنے بدھو کے پاس
گدھے کی سواری تھی بدھو کو راس
سواری کا تھا بدھو کو اشتیاق
مہاراج بھی تھے بڑے پُر مذاق
حضوری میں بدھو بلایا گیا
اسے حکمِ شاہی سنایا گیا
سنا ہے کہ تم ہی ہو بدھو کمہار
بڑے نامور ہو بڑے شاہسوار
گدھے پر ذرا چڑھ کے دکھلاؤ تم
ہماری خوشی آج کر جاؤ تم
کہا اس نے صاحب نہ کر پاؤں گا
گدھے کی سواری نہ دکھلاؤں گا
مہاراج بولے کہ انعام لو
کہا اس نے صاحب نہ یہ نام لو
کہا تم کو پھانسی چڑھا دیں گے ہم
کہا اس نے نہیں مجھ کو اس کا غم
مہاراج بولے یہ کیا بات ہے
گدھے کی سواری تو دن رات ہے
مگر آج انکار کرتے ہو تم
نہ لالچ ہے تم کو نہ ڈرتے ہو تم
کہا اس نے بھولے ہو تم بادشاہ
نہ کی تم نے اس بات پر کچھ نگاہ
یہ ناچیز بدھو نرالا ہے کیوں
مہاراج کا حکم ٹالا ہے کیوں
نہ میں ہی رہوں گا نہ باقی حضور
مگر یاد قصہ رہے گا ضرور
کہ بدھو گدھے پر چڑھایا گیا
اسے شہر بھر میں پھرایا گیا
مجھے جان و انعام کھونا پسند
نہیں مجھ کو بدنام ہونا پسند!

بچپن میں ایک نظموں کے مجموعے کی کتاب ’’کلیوں کی مالا‘‘ میں یہ نظم درج تھی۔ ہم بضد و شوق سےاپنی والدہ محترمہ سے یہ نظم تحت اللفظ سنتے اور خوش ہوتے۔میں تو یہ ہی سمجھتا رہا تھا کہ بدھو کمہار بھی ٹو ٹ بٹوٹ کی طرح کا ایک کردار ہے لیکن بھلا ہو اورنج ٹرین کا جس نے بچپن میں یاد کی گئی اس نظم جو تحت الشعور میں گم ہونے کے قریب تھی، دوبارہ یاد دلا دی ۔ خبرو ں میں سنا کہ اورنج ٹرین سے جن عمارات کو تحفظات حاصل ہوئے۔ ان میں ’’بدھو کمہار کے آوے‘‘ نامی عمارت بھی شامل ہے ۔ بدھو کمہار کا نام سنتے ہی یہ نظم یاد آگئی اور اس بارے  میں کچھ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ تو واقعی ایک تاریخی شخصیت ہے اور لاہور میں اس کا مقبرہ بھی موجود ہے۔ مزید ورق گردانی کی تو یہ بات بھی تاریخ کے نازک ستونوں پر ایستادہ نظر آئی کیونکہ اس کے مقبرے  کے بارہے میں بھی یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیایہ اسی کامقبرہ ہے یا کسی اور کا؟ نظم میں تو رنجیت سنگھ کے دور  کا ذکر کیا گیا ہے لیکن بدھو کمہار اس سے دوسو سال قبل شاہجہاں کے دور میں گزرا ہے۔

بدھو کون تھا؟
بدھو کے بارے  میں سب کچھ ہی   سنا  سنایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مغلیہ عمارتوں کی اینٹیں اس مقبرے میں دفن بُدھو کے بھٹے میں تیار ہوتی تھیں۔ بُدھو کے والد کا نام سدھو تھا، جنہوں نے لاہور میں ہی ایک بڑا بَھٹا قائم کیا۔ کہتے ہیں کہ شاہ جہان کے دور میں اس  بھٹے  کی آگ ایک دن بھی نہیں بجھی۔سدھو نے جہانگیر کی حکومت میں فنِ تعمیر کے لیے اینٹیں فراہم کی تھیں۔ اس کے بعد بُدھو نے بھی شاہجہاں سے وہی کاروباری معاملات جاری رکھے اور شاہی محل سے اینٹوں کی لین دین جاری رکھی۔جب بادشاہ شاہجہاں کے زمانے میں شالامار باغ کی تعمیر شروع ہوئی تو سدھو کے بیٹے بدھو کو اینٹیں پہنچانے کا حکم ملا۔ شالامار باغ کی چار دیواری اور اس کی عمارت  کے لیے لاکھوں کروڑوں اینٹوں کی کھپت تھی اس لیے بھٹے کی حدود بھی بہت دور تک پھیل گئیں اور بدھو کمہار ’’شاہی خشت پز‘‘ کہلانے لگا اور امراء اور دیگر حکمرانوں تک اس کی رسائی ہو گئی۔

بدھو کا آوا
آوا برتن پکانے کی جگہ کو کہتےہیں چاہے وہ بھٹا ہو یا کوئی گڑھا ۔ آوے کا آوا بگڑا ہونے کا محاورہ بھی اسی سے ہے ۔ آوے میں برتن ایک ترتیب سے رکھے جاتےہیں تا کہ ان کو آگ برابر پہنچے اور سارے برتن مکمل طور پر پک جائیں۔ اگرایک برتن بھی گر جائے تو اپنے ساتھ کئی برتنوں کی ترتیب کو خراب کر جاتا ہے۔ اسی لئے جب کوئی ایک کام خراب ہو جانے سے دیگر امور بھی متاثر ہوں تو کہتے ہیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے۔
بدھو کے آوے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مغلپورہ سے واہگہ تک ساری زمین پر بُدھو کا آوا ہوا کرتا تھا۔ اگر بُدھو شاہجہاں کے زمانے میں اینٹیں بنا کر شاہی محل کو دیتا تھا تو یہ بات لازماً ماننی پڑے گی کہ لاہور میں مغلیہ ادوار اور خاص طور پر شاہجہاں کے زمانے میں جو مساجد، عمارتیں اور مقبروں کی تعمیر میں جو اینٹیں لگی ہیں وہ اسی آوے یا بھٹے سے تیار ہو کر آئی ہوں گی۔لیکن ان تمام باتوں کے نہ ہی کوئی آثار ملتے ہیں اور نہ ہی مستند تاریخی حوالے سوائے زبانی روایات کے۔اب بھی سننے میں ہے کہ اس مقبرے کے قریب اب بھی چند خاندان ایسے ہیں جو بُدھو اور سدھو کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔
بدھو کا مقبرہ
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے عین سامنے 17ویں صدی کی ایک عمارت بدھو نامی ایک کمہار سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے پکی اینٹوں کے کام سے اتنی دولت جمع کر لی کہ اپنے لیے ایک شاندار مقبرہ تعمیر کروا سکے۔ قریب ہی بدھو کے آوے یعنی اینٹ پکانے والی بھٹی کے آثار بھی تھے۔ لیکن چند مؤرخین کے نزدیک یہ خان دوراں نصرت جنگ کی بیوی کا مقبرہ ہے، جو شاہ جہاں کا ایک وزیر تھا۔ اس بارہ میں خود محکمہ آثارِ قدیمہ بھی شش وپنج کا شکار ہے جس کااظہار مقبرے کے باہر آویزاں بورڈ سے ہوتا ہے جس پر لکھا ہے کہ

’’عام طور پر یہ مقبرہ بدھو کے نام سے موسوم ہے۔ جو شاہجہاں کے زمانے میں شاہی عمارتوں کی تعمیر کے لئے اینٹیں مہیا کرتا تھا۔ لیکن تاریخی اعتبار سے یہ مقبرہ خان دوراں کی بیوی سے موسوم ہے جس میں اس کی بیوی بھی مدفون ہے۔ خانِ دوراں بہادر نصرت جنگ شاہجہاں کے عہد میں اہم امراء دربار میں شمار ہوتا تھا۔ وہ 1643ء میں فوت ہوا اور اپنی بیوی کے نزدیک مقبرہ میں مدفون ہوا۔ غالباً یہ مقبرہ ایک چہار دیواری والے باغ کے اندر تھا جس کے چاروں طرف محرابی دالان تھا۔ بلند گنبد کو روغنی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔‘‘

اس مقبرے کے اندر دو قبروں کا ایک ساتھ ہونا پنجاب محکمہ آثار قدیمہ کے پاس سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ مقبرہ خان دوراں اور ان کی بیوی کا ہے۔ ہمارے ہاں زبانی روایات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہےاور اتنی بڑی تعداد میں زبانی روایت کی موجودگی اور کچھ زمینی حقائق بھی عبداللہ قریشی صاحب محقق نے محمد دین فوق کشمیری کے حوالہ سے درج کئے ہیں جو اس بات کا ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ بدھو کمہارسے متعلق روایات محض کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ روایات اے حمید صاحب نے اپنی کتاب ’’لاہور کی یادیں‘‘ میں بھی نقل کی ہیں۔ مقبرہ میں موجود دوسری قبر کے متعلق ایک واقعہ بیان کر تے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ:۔

’’روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت میاں میر صاحب کا ایک مرید عبدالحق بارش کی شدت میں سردی سے ٹھٹھرتا آگ کی تلاش میں یہاں آیا۔ بدھو کے ملازموں اور خود بدھو نے اسے وہاں سے نکال دیا اور پناہ نہ دی۔ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ آوے کو پکانے کے خس و خاشاک، کوڑا کرکٹ اور لکڑیوں کے ہزارہا من صرف ہو گئے مگر اینٹیں پختہ نہ ہو سکیں۔ بدھو اس غم میں بیمار پڑ گیا۔ اس نے ایک رات خواب میں اپنے باپ سدھو کو دیکھا جو اس کو غم و غصہ کی حالت میں کہہ رہا تھا کہ اگر تو اپنی بہتری چاہتا ہے تو حضرت میاں میر صاحب کے مرید اور فقیر عبدالحق سے جا کر اپنی تقصیر معاف کروا۔ بدھو دو چار دن کی تلاش کے بعد درویش عبدالحق کے پاس پہنچا اور ان کے قدموں پر گر پڑا اور معافی کا خواستگار ہوا۔ درویش نے کہا۔ حکمِ الٰہی ایسا ہی تھا۔ اب اینٹوں کا پختہ ہونا تو ناممکن ہے البتہ آدھی پکی اور سڑی جلی اینٹیں بھی پختہ اینٹوں کے نرخ پر فروخت ہو جائیں گی۔ چنانچہ انہی ایام میں لاہور میں اس کثرت سے عمارات شروع ہوئیں کہ بدھو کی تمام نیم پختہ اینٹیں اصلی نرخ پر فروخت ہو گئیں۔درویش اور میاں میر صاحب کے مرید عبدالحق کا انتقال 1671ء میں عالم گیر کے عہد میں ہوا۔ بدھو نے ان کی قبر‘ گنبد بہادر خان کے شمال کی طرف تعمیر کرائی۔ چند برس بعد خود بدھو کا انتقال ہوا تو اس کی قبر بھی اس درویش کے متصل ہی تعمیر کی گئی۔‘‘

عمار ت کی زبوں حالی
مقبرہ کی عمارت کی زبوں حالی محکمہ آثار قدیمہ کی ناقص کارکردگی کو ظاہر کر رہی ہے۔ پہلے اس احاطہ کے گرد لوہے کا اونچا جنگلہ اور گیٹ لگا ہوتا تھا، اب وہ بھی اکھاڑ دیا گیا ہے اور یہ بہت تاریخی خوبصورت عمارت پہلے سے زیادہ ویرانی سے دوچار ہے۔ایک جگہ لکھا ہوا پڑھا کہ۔۔۔۔

’’ورکشاپس میں گھرا مقبرہ کسی زمانے میں بڑے وسیع عریض علاقے پر محیط تھا جس کا اندرونی دروازہ باغ میں کھلتا تھا، مگر گزرتے وقت اور تجاوزات کی تیزی نے اب اس مقبرے کو محض ایک کنال تک ہی محدود کر دیا ہے۔ سنا تو یہ ہے کہ باغبانی اور آثارِ قدیمہ نے اس مقبرے کی دیکھ بھال کے لیے چار عدد ملازمین بھی رکھے ہیں۔‘‘

لیکن اب تو عرصہ سے اس کے دروازے پر پڑا تالا ہی اس بے یارو مددگار مقبرے کا محافظ اور نگران ہے۔ عمارت کی ظاہری حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہ بڑی شاندار رہی ہو گی۔ اس عمارت کی طرزِ تعمیر خصوصاً اس کے گنبد پر برصغیر کی ثقافت کے واضح آثار نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے گنبد کی خستہ حالی بزبانِ حال حکمرانِ وقت اور اپنے نگرانوں سے اس امر کا تقاضا کر رہی ہےخدارا رحم کرو۔ اوراب تو رہی سہی کسر اورنج ٹرین نے پوری کر دینی ہے جس کی دھمک سے آہستہ آہستہ اس کے بچے کچے آثار بھی زمین بوس ہو جائیں گے۔

پاک و ہند میں مغلیہ دور کی تمام عمارتیں ایک عمدہ اور جاوداں شاہکار ہیں جو ہر آنکھ کو ورطۂ حیرت میں مبتلاکر دیتی ہیں۔ہر حکمران نے بلند و بالا عمارات اور حسین فن تعمیرات میں اپنے ذوق کے مطابق حصہ ڈالا۔انہوں نےجو بھی عمارتیں، قلعے، مساجد اور مقبرے تعمیر کرائے۔ ان کی فن تعمیر، نقوش اور مختلف تہذیبوں کو ظاہر کرنے والے عمدہ ڈیزائن کا کوئی ثانی نہیں اور آج ان خوبصورت عمارتوں کو اینٹیں مہیا کرنے والے کے مقبرے کی اپنی اینٹیں آج گرنے کے قریب ہیں۔ان مغل بادشاہوں اور اکابر کے مقبرے فنِ تعمیر کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ آج بھی قریباً اسی طرح موجود ہیں لیکن بُدھو کا لاوارث مقبرہ جو شاید بُدھو کا ہے بھی اور نہیں بھی جیسا کہ انتظامیہ کہتی ہے، خستہ حالی اور ویرانی کا شکار ہے۔قطع نظر اس بات کے کہ یہ مقبرہ کس کا ہے ۔ تاریخ کے اوراق نے جیسے تیسے بدھو کو کسی نہ کسی طور پر محفوظ رکھا۔ اور اب یہی تاریخ اسی طرح آئندہ ہمیں اس عمارت کی تباہی کی ذمہ دار قرار دے گی۔

انتظامیہ اسی شش و پنج میں مبتلا ہونے کے سبب اس مقبرہ کو زمانہ کے رحم و کرم پر چھوڑ کو اس سوال کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ مقبرہ کس کا ہے؟ کیونکہ حفظِ مراتب کا تقاضا ہے کہ مقبرہ کی دیکھ بھال کی جائے اگر اس میں بڑے لوگ مدفون ہیں تو اس کو سنبھالا جائے ورنہ کون بدھو اور کہاں اس کا آوا؟؟؟؟

Avatar
ذیشان محمود
طالب علم اور ایک عام قاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *