فیچرڈ

مرد یا عورت؟۔۔ڈاکٹر عبیداللہ عبید/ترجمہ: قدیر قریشی

نوٹ: ڈاکٹر عبیداللہ پاکستان کے مایہ ناز پلاسٹک سرجن ہیں جو بچوں میں جنس کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل پر کام کرتے ہیں۔ یہ آرٹیکل نہ صرف ان کے کئی دہائیوں کے تجربے کا نچوڑ ہے بلکہ اس←  مزید پڑھیے

دلیپ کمار کی ایک پرانی تحریر(میری دو دنیائیں)ترجمہ/سعید احمد

تم دوسروں کی طرح کیوں نہیں رہے ہوا کے دوش پر اُڑنے والی گاڑیوں کی لگژری میں ڈوب جاؤ ایک رسالے کے ٹائیٹل سے دوسرے تک چھا جاؤ اور شہرت کی نئی بلندیوں تک پہنچ کے چالیس کروڑ انسانوں کے←  مزید پڑھیے

ماں کی چھاتی مت بیچیے۔۔۔ انعام رانا

صاحبو یہ واقعی سچ ہے کہ مرد نے عورت کے ساتھ سونا سیکھا ہے، جاگنا ابھی سیکھ رہا ہے۔ اور ہمارے پاکستانی سماج میں تو سیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ عورت اپنی ماہواری کی تکلیف بیان کر دے تو ہماری اقدار خطرے میں پڑ جاتی ہیں، وہ اپنی جنسی خواہشات کو بیان کر دے تو کاری ٹھہرتی ہے۔ حمل اور زچگی کے دوران وہ کن جسمانی اور نفسیاتی کیفیات سے گزرتی ہے، باپ بننے کی خوشی میں ہم ان سے جاہل رہ جاتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

مندر بنسی رام دھر۔۔طلحہ شفیق

یہ مندر انارکلی بازار میں جالندھر سویٹ کے سامنے واقع ہے۔ اگر ہم انارکلی سے گزر رہے ہوں تو اس مندر کی عمارت ہمیں متوجہ کرلیتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اس کا پُرکشش جھروکا ہے۔ مندر کی عمارت کافی←  مزید پڑھیے

کُرم ایجنسی کا علاقہ “علی زئی”۔۔عدیل رضا عابدی

ہمیں فخر ہے کہ اپنے حصے کے چراغ ہم خود جلاتے ہیں۔ایسا کہنا ہے بہار علی طوری کا۔ زیرِنظر تصویر میں ” بہار علی طوری“ اپنی ورکشاپ میں کام سیکھنے والے بچے ” مرتضیٰ حسین “ کو حسب معمول اسکول←  مزید پڑھیے

شیخ الخبیث کی وڈیو اور چند گزارشات۔۔انعام رانا

ایک انتہائی ذلیل شخص کی وڈیو وائرل ہوئی، جو بدقسمتی سے شیخ الحدیث، استاذ الاساتذہ اور جانے کیا کیا تھا۔ حسبِ  معمول و توقع تلواریں سونتی جا چکیں، کچھ دنوں کا ہنگامہ اور پھر کچھ نیا مل جائے گا۔ البتہ←  مزید پڑھیے

شیر خوارزم سلطان جلال الدین ’’ ہزار مرد‘‘ کے قلعے تک۔۔آصف محمود

سون کی وادی میں کچے راستے پر میلوں اندر جانے کے بعد ایک موڑ آیا تو دور پہاڑ کی چوٹی پر جلال الدین خوارزم شاہ کے قلعے پر پہلی نظر پڑی اور حیرت سے وہیں جم کر رہ گئی ۔←  مزید پڑھیے

9 مئی، ماؤں کا عالمی دن ۔۔سید مہدی بخاری

اماں کو بچھڑے گیارہ سال ہو چلے مگر آج بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہیں کہیں بیٹھی پیاز چھیل رہی ہو ں گی۔ ماں نے جب دل کی بھڑاس نکالنے کو رونا ہوتا تو وہ پیاز چھیلنے بیٹھ جاتیں۔←  مزید پڑھیے

شادی سے پہلے فیملی کونسلنگ۔۔مہرساجدشاد

کچھ سال پہلے جب سماجی بہبود کے کام کرتے ہوئے ہمارے سامنے سماجی رویوں کے اصلاح طلب معاملات آنے لگے خصوصاً ازدواجی زندگی میں درپیش مسائل اور جھگڑے تواتر سے اصلاح احوال کیلئے ہم تک پہنچنے لگے تو ابتدا میں←  مزید پڑھیے

مارچ: اپنی خواتین سے آزاد ہوئیے۔۔انعام رانا

پروفیسر کہنے لگا اب کے تم یہیں ہو تو ہمارے ساتھ عورت مارچ میں آؤ۔ عرض کی نہ  استاد جی، یہ نیو لبرلزم آپ کو ہی مبارک۔ اچھا اب اگر آپ مجھے پرانا پڑھتے ہیں تو میرے پروفیسر سے بھی←  مزید پڑھیے

محسن داوڑ سے خصوصی انٹرویو

حالیہ پشتون سیاست میں پشتون تحفظ مومنٹ ایک اہم فیکٹر ہے، اور اسی پی ٹی ایم کا ایک بہت اہم کردار محسن داوڑ ہیں۔ نقیب اللہ محسود سے شروع ہونے والی تحریک نے بہت تیزی سے ایک پشتون قومی تحریک←  مزید پڑھیے

کیا اصل مسلئہ ریپ ہے؟ ڈاکٹر اختر علی سید

16 دسمبر 2012 کو نئی دہلی کی سڑکوں پر سائیکو تھراپی کی ایک 23 سالہ طالبہ جیوتی سنگھ کو ایک چلتی بس میں چھ مردوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ریپ کے بعد جیوتی کے اندرونی اعضاء کو ایک←  مزید پڑھیے

وکلاء کی غنڈہ گردی اور پولیس، میڈیا و ریاست کی مجرمانہ خاموشی ۔۔۔ مکالمہ خصوصی

مصدقہ اطلاعات کے مطابق پنجاب بھر میں وکلاء کی جانب سے فوج کی بعد ریاست کے اہم ترین سیکیورٹی ادارے پولیس کا داخلہ پنجاب بھر کی تمام عدالتوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ بزدار حکومت جس کی اپنی تعیناتی خود بزدار صاحب کے لیے یقیناً حیرانگی کا باعث رہی ہوگی، اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش ہے۔ وکلاء کی جانب سے ناصرف ببانگ دہل یہ غیر قانونی بدمعاشی جاری ہے بلکہ کھلے عام بینرز اور آفیشل نوٹفکیشنز کے ذریعے پولیس کو “نشان عبرت” بنانے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

مکالمہ خصوصی: جسٹس فائز عیسٰی کا دوسرا خط ۔ مکمل اردو متن

جناب صدر صاحب، مورخہ ۲۸ مئی ۲۰۱۹ کو میں نے آپ کو (ایک خط) لکھا جس میں اپنے خلاف کسی ریفرینس کی بابت استفسار کیا گیا اور (درخواست کی گئی کہ) اگر ایسا ہے تو براہ مہربانی مجھے اس کی←  مزید پڑھیے

احوال مکالمہ دوبئی ۔۔۔ عظمت نواز

ہم سدا کے آوارہ گرد بنا میر محفل سے پوچھے کہ وہ خود دوبئی پہنچے بھی ہیں یا ابھی نندن معزرت ابھی لندن میں ہی ہیں، ابوظہبی سے دوبئی سوئے یار روانہ ہو گئے۔ مقام مطلوب پر ہم قریب ساڑھے پانچ پہنچے سکول کی سیکورٹی سے راہ و رسم بڑھانے کے بعد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مکالماتی ھال میں پہنچ کر ہاتھوں پیروں کے طوطے چڑیا سب اڑ گئے کہ ایک پروجیکٹر، اور بیٹھنے کا انتظام سمیت کرسیوں کے پورا تھا مگر ویرانی سے کوئی ویرانی تھی۔ ہم نے سب سے پہلے اپنی سیاسی قیادت کی کرسیوں کو شمار کرنے والی عادت پوری کی اور شماریات کرسیاں کا فریضہ نبھایا جو کہ کم و بیش سو کے قریب تھیں۔ چشم نیک سے بغور دیکھا تو ہر میز پر پانی اور جوس کو موجود پا کر یک گونہ اطمینان ہوا کہ کوئی آوے نہ آوے لنگر کا انتظام یہاں بہرحال برابر ہے۔ ←  مزید پڑھیے

قبل از اسلام عرب معاشرے کی عورت (حصۂ اوّل)۔۔۔ منصور ندیم

ایک مفروضہ ہمارے اذہان میں اس شدت سے راسخ کروایا گیا ہے کہ قبل از اسلام جیسے دنیا میں انسان بغیر کسی معاشرتی توازن و قوانین کے زندگی گزار رہا تھا، اور خصوصا عرب کے لوگ تو جیسے وحشت و بربریت اور جاہلیت کے ہی نمائیندے تھے۔ وہاں جنگل کا قانون نافذ تھا جبکہ انسانی تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں بھی قانون کی بنیاد رسوم و رواج ہوتے تھے رسوم و رواج کسی معاشرے کے اخلاق اور تربیت کرنے والے ایسے بنیادی اصول تشکیل کرتے ہیں جنھیں دہائیوں یا صدیوں کی دانش و روایت سے کشید کیا جاتا تھا۔←  مزید پڑھیے

متنازعہ موضوعات سے متعلق مکالمہ پالیسی پر ایک جائزہ

زیر قلم اس مضمون کی ضرورت تب پیش آئی جب مکالمہ کے چند قارئین نے عورت مارچ پر رائٹ ونگ کی جانب سے شائع شدہ مضامین پر اعتراض اٹھایا کہ یہ “غلط افکار” معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے خیالات کے حامل قارئین پر میں اس مضمون کے توسط سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مکالمہ حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار ہم قاری پر چھوڑتے ہیں اور اسے اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ کمنٹس میں اپنی جھنجھلاہٹ نکالنے کی بجائے ہمارے ایڈیٹرز کو اپنا جوابی مضمون بھیجیں تاکہ ہم اسے جواب یا جواب الجواب کے طور پر مکالمہ ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر شائع کر سکیں۔ میں مکالمہ کے قارئین کو اس حقیقت کی یاددہانی کروانا چاہتا ہوں کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین اختلافات کا وجود عین قدرتی ہے تاہم انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش سے انکار معاشرتی سطح پر ایک جرم کی طرح ہے۔←  مزید پڑھیے

رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

رانی کی نظر کونے میں لیٹی بیٹی شہزادی پر پڑی جس کی آنکھیں باپ کے خوف سے بند ہونے کے باوجود نم تھیں۔ اگلے کئی لمحات بشیرے کی جانب سے رانی کے بدن کو فتح کرنے کے سراب میں اپنی شکست سے آنکھیں پھیرنے میں صرف ہوئے۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اب تک اس تمام عمل کی عادی نہ ہوپائی تھی۔ جس رات بشیرے کا نشہ زیادہ ہوتا یہ جنگ جیسے لامتناہی مدت پا جاتی۔ آج بھی یہی معاملہ تھا۔ ←  مزید پڑھیے

مکالمہ کا بیس ہزار روپے کا انعامی مقابلہ

مکالمہ بحیثیت ادارہ ہمیشہ سے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا خواہاں رہا ہے۔ مکالمہ نے کبھی بھی خود کو ایک “بزنس پراجیکٹ” کے طور پر نہیں چلایا۔ اگرچہ ہمیں کسی امریکی یا روسی ایڈ کی مدد حاصل نہیں مگر←  مزید پڑھیے

بدھو کمہار کا مقبرہ اورنج ٹرین کی زد میں۔۔۔۔ذیشان محمود

سنا ہے کہ تھا ایک بدھو کمہار بڑا نامور اور بڑا شہسوار مہاراج رنجیت کے دور میں اسی ہی کا چرچا تھا لاہور میں گدھا ایک تھا اپنے بدھو کے پاس گدھے کی سواری تھی بدھو کو راس سواری کا←  مزید پڑھیے