ہمہ یاراں دوزخ۔۔صدیق سالک/تبصرہ ۔۔رضوانہ وسیم

آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں برقی آلات کی کرشمہ سازیوں نے مطالعہ کی اہمیت اور افادیت کو وقتی طور پر پس پشت ڈال دیا ہے ہر چند کہ  موبائل کلچر نے عوام کے ہاتھوں سے کتابیں چھین کر اُنھیں  ایک الگ نشے   میں مبتلا کردیا ہے، اُس کے باوجود اچھا قاری آج بھی اچھی کتاب کا منتظر رہتا ہے۔ اِس ضمن میں آج ایسی ہی ایک کتاب کا ذکر کر رہی ہوں جو کہ “سقوط ڈھاکہ” کے پس منظر میں لکھی گئی ہے ،مصنف صدیق سالک جو کہ فوج کے اعلیٰ افسر ہیں ، نے اس تصنیف میں اپنے ذاتی تجربات, دِلی کیفیات , اسیری کی ذِلت آمیز سختیاں، دُکھے دل سے بڑے پُرسوز انداز میں بیان کی ہیں۔

زیرِ نظر کتاب میں مصنف کے الفاظ باقاعدہ سسکیاں لیتے سنائی دیتے ہیں جو درد کی یہ شدت رکھنے والا ہر قاری با آسانی محسوس کرسکتا ہے، کیونکہ دورانِ مطالعہ کتنی ہی بار میں نےخود چشمہ اُتار کرآنسو صاف کیے تب جا کر آگے پڑھنے کے  قابل ہوئی لیکن کتاب کی جس خوبی نے اُس کو چار چاند لگائے اس کی وجہ اُن کے الفاظ کی  سادگی، زبان و بیان کی چاشنی، بھرپور معلومات،حقائق کا منصفانہ تجزیہ اور جا بجا  طنز و مزاح میں ڈوبے برجستہ جملے ہیں جس کی وجہ سے قاری کا ذہن بوجھل نہیں ہوتا۔۔

tripako tours pakistan

مصنف کا انتہائی متانت اور باوقار طریقہ سے ان تمام مصائب سے نبرد آزما ہونا اور اس کے باوجود اس عزم و ہمت کا اظہار کرنا اور اُمید کا دامن نہ چھوڑنا ، یہ سب قاری کوحوصلہ عطا کرتا ہے۔
وہ 16 دسمبر 1971ء کو تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہیں۔
جب پاک فوج کے یہ جیالے ملکی سیاست کا شکار ہوگئے، 90 ہزار پاک فوج کے سپاہی ہتھیار ڈالنے کے  ذِلت آمیز عمل کا حصہ بنے۔

وہ سپاہی جو جذبہء شوق ِ شہادت میں دشمن سے بےتیغ بھی لڑنےکے لئے بھی تیار تھے۔ اقتدار کے لالچی لوگوں نے نہ صرف وطن کی ناموس کو تاراج کیا بلکہ وطن کو ہی دولخت کر دیا اور فوج کو بھی ذِلت اور ناکامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

اس واقعے کے پسِ منظر میں کچھ بے ضمیر ہم وطن بھی سرِ فہرست نظر آتے تھے شاید اسی لیے شاعر نے کہا ہے۔
دیکھا جو تِیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

یہ سانحہ ملک کے وقار کو پارہ پارہ کر گیا، مصنف   نے اپنی کتاب میں رونما ہونے والے واقعات اور اُن کی وجوہات کی بھی واضح نشاندہی کی ہے کہ کس طرح ملک کی معیشت اور سیاست میں اقتدار اور اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم نے قومی اتحاد میں دراڑیں ڈالیں۔

جس کی وجہ سے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا شکست اور غلامی کی ذِلت نے ہمارے بہادر سپاہیوں کو کس طرح زخم زخم کر دیا۔

ہندوؤں نے ہمارے سپاہیوں سے ہتک آمیز سلوک روا رکھا، بھارت نے اپنے روایتی حریف پاکستانی سپاہیوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا تھا۔ قیدوبند کی صعوبتیں تو تھیں ہی، لیکن بےجا پابندیوں میں قید تنہائی اور یہاں تک کہ کاغذ قلم کا رشتہ بھی موقوف کر دیا تھا۔۔۔

اورایک لکھاری کے لئے اس سے بڑی اذیت اور کیا ہو سکتی ہے؟
بقول شاعر:
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر مبحوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں

اور کاغذ قلم کی بھوک مصنف کے اِس اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔

“ایک روز پلیٹ دھونے کے لئے جب میں نل کے پاس پہنچا تو پاس ہی کسی ہندو سپاہی کا پھینکا ہوا لائف بوائے کا کاغذی پیراہن نظر آیا تو پلیٹ مانجھنے کے بہانے اُسے اٹھا لیا اور نہایت چالاکی سے محفوظ کرلیا پھر جب میں بیت الخلاء گیا تو رم کی خالی بوتل دیکھی تو اس کا لیبل گیلا کر کے اُتار لیا اور اُس متاعِ بے بہا کو سیل میں اپنے ساتھ لے آیا اور جب مطالعے کی بھوک چمکی تو رم کی بوتل کا لیبل نکال کر پڑھنا شروع کردیا اور اُسے بار بار پڑھتا رہا لیکن شدید خواہش کے باوجود لائف بوائے والا کاغذ اگلے روز کے لئے اُٹھا کر رکھ  چھوڑا۔
“کیوں کہ اسلام اِسراف کی اجازت نہیں دیتا”

مصنف لکھتے ہیں کہ کال کوٹھڑی کا دروازہ جب بھی کُھلتا تو ان کے تنِ مُردہ میں جان سی پڑ جاتی تھی ایسے میں کُھلے آسمان اور چاند تاروں کی روشنی کو دیکھنا کسی عیاشی سے کم نہیں لگتا تھا مصنف نے جابجا بھارت کے جُھوٹے پروپیگنڈے کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بھارتی جنیوا کنونشن کا ذکر بڑے زور وشور سے کرتے تھے لیکن قوانین میں اس طرح کی کوئی سہولت یا مراعات کا ہلکا سا شائبہ تک نظر نہ آتا تھا اس کے علاوہ دنیا بھر میں بھارت کو بہت ترقی یافتہ اور پُر کشش ملک بنا کے پیش کیا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے بھارت میں عام گلی کوچوں میں جگہ جگہ بکھرے کثافت اور گندگی کے ڈھیر بھوک و افلاس سے مُرجھائے چہرے ٹیڑھی میڑھی گاڑیاں بقول مصنف سارا شہر ہی کباڑ خانے کا منظر پیش کرتا تھا، اُن کی فلموں میں دِکھائے جانے والا کلچر کہیں بھی نظر نہ آتا تھا۔۔ اسیری کے  دوران عید اور بقر عید اور دیگر تہوار بھی آئے اور اسیری کے ایام کی تلخ یادیں بھلانا ان کے لیے ناممکن ہے۔  مصنف نے اپنی کیفیت کو بڑی سچائی اور خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے ،لہٰذا میرے خیال میں نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگہی حاصل کرنے کے لئے اورآزادی کی قدروقیمت سمجھنے کے لیے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ،کیونکہ اس سے ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گا، پتہ چلے گا کہ ہمارا وطن کیوں دو ٹکڑے ہوا ،کیونکہ آنے والی نسلوں کوہی اب اِس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔۔ اس کتاب میں بہت سے ایسے حقائق موجود ہیں جس سے نئی نسل ناواقف ہے اِس کو پڑھ کر آئندہ کی منصوبہ بندی کرنا آسان ہوگا اور وہ غلطیاں جو ہمارے بزرگوں نے کی  ہیں ،نئی نسل ان غلطیوں کو نہیں دُہرائے گی۔

مصنف لکھتے ہیں کہ دوران اسیری اک بار پھر سولہ دسمبر کی منحوس تاریخ آگئی، وہ دن جو کہ بنگلہ دیش کی پہلی سالگرہ اور متحدہ پاکستان کی پہلی برسی تھی یہ دن اِن پر کتنا بھاری گزرا اور کس قدر مُشکل سے گزرا ،اس کی روداد قاری کو خون کے آنسو رُلا دیتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں آج پھر میری سوچ کے دٙھارے پھوٹ پڑے ،میرے  سچ کا مرکز یہ نہ تھا کہ تقسیمِ پاکستان کا ذِمہ دار کون ہے ؟ بلکہ سوچ کا یہ پھندہ میری گردن میں تنگ ہوتا جا رہا تھا کہ اگر میں اور مجھ جیسے ادنٰی پُرزے اپنی جگہ ٹھیک کام کرتے تو مشینری کیوں خراب ہوتی؟ کیا آئندہ نسلیں مجھے موردِ اِلزام ٹھہرائیں گی؟ کیا میرے بچے میری قبر اُکھاڑ کر کہیں گے کہ یہ اُس شخص کا پنجرہ ہے کہ جس نے اپنے ہاتھوں سے پاکستان کا آدھا دٙھڑ گور میں اُتار دیا۔۔

نہیں نہیں مجھ جیسا آدمی کیسے اتنا بڑا المیہ تخلیق کرسکتا ہے میں تو بے گناہ ہوں۔میں دوسرے پاکستانیوں کی طرح زیادہ محبِ وطن ہونے کا دعویٰ دار نہیں لیکن ارضِ پاکستان کی قدرو مٙنزِلت کا جو احساس اس کال کوٹھڑی میں ہوا وہ عام حالات میں کبھی ممکن نہ تھا قیدِ تنہائی میں جب کچھ بھی ساتھ نہ تھا ایسے میں کبھی بھلے وقتوں میں حِفظ کی ہوئی قرآنی آیات سرمایہ حیات تھیں جنہیں  نا صرف تنہائی کے جان لیوا لمحات میں ان اَسیروں کو سہارا دیا، بلکہ اللہ تعالی سے قُربت کا احساس اُمید اور حوصلے کا پیغام ثابت ہوا۔یہ قرآنی آیات ایسا سرمایہء حیات تھیں جنہیں کوئی بھی ہم سے چھین نہیں سکتا تھا۔ اسیری میں گزرا ایک ایک لمحہ اُن کے دل پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگیا اور 16 دسمبر 1971ء سے لے کر 30 اپریل 1974ء تک کا  ہرپل   ان پر قیامت بن کر گزرا۔ اس کتاب میں قارئین کے لئے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں ۔میری نظر میں یہ کتاب ہر لحاظ سے دنیاء  ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *