سوشل میڈیا صحافت اور حکومت ۔۔

محترم قارئین ہمیشہ کی طرح ایک بارپھر سرزمین بے آئین کا ایک اہم اور قابل مکالمہ ایشو کو لیکر حاضر خدمت ہوں۔
کہتے ہیں صحافت مختصر تعریف میں معلومات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اور اس کے مقاصد میں عوام میں انصاف اور جمہوریت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا شامل ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے صحافتی اقدار میں خاصی تبدیلی دیکھنے کو ملتا ہے۔ پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں بڑھتی ہوئی من مانی اور خود غرضی سے مایوس طبقے کیلئے سوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور اس نئی میڈیا کے آنے کے بعد ہر کوئی صحافی بن گیا۔ فیس بک اور ٹوئیٹر اور دیگر سافٹ وئیر نے صحافت کی دنیا میں ایک انقلاب کا آغاز کردیا۔اس وقت صحافی بننے کیلئے ذیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سمارٹ فون کے ساتھ تھوڑا بہت سیاست سماج اور ثقافت کا علم اس پلیٹ فارم کے ذریعے صحافی بننے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ فیس بک وٹس ایپ گروپ کے اشتراک نے اب سروس کو مزید بہتر بنایا اوراب لوگ فیس بک کے بعد وٹس ایپ پر بھی آگئے اور معلومات عامہ کو عام کرنے کے لئے اپنی طرف سے نئی صحافت کی ابتداء کردی۔ وٹس ایپ گروپس بن گئے جس میں معاشرتی مسائل پر ہرکسی کو بغیر کسی روک ٹوک کے اظہار رائے کی آذادی حاصل ہوگیا۔ لیکن اگر ہم گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھیں تو بدقسمتی سے آج اکیسویں صدی میں بھی اس خطے کے عوام کیلئے 3G اور 4G انٹرنیٹ ایک خواب سے کم نہیں دوسری طرف محدود پرنٹ میڈیا مختلف قسم کے مجبوریوں کا شکار اور مالی مفادات کے آگے بے بس ہونے کے سبب میڈیا میں وہ باتیں نشر نہیں کرپاتے جو حکومت وقت کے خلاف جاتا ہو ۔ یوں سوشل میڈیا اس وقت گلگت بلتستان کے یوتھ اور عوام میں ایک بہترین آذاد پلیٹ فارم کے طور پر لوگ معلومات کی شئیرنگ اور حکومت وقت کے خلاف اور معاشرتی مسائل اور سب سے بڑھ کر قومی شناخت کی حصول کیلئے اظہار رائے کے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر لوگ استعمال کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کے تحت سائبر کرائم جس کا مقصد مذہبی انتہاء پسندی کی روک تھام معاشرتی جبری ظلم اور جبر کے خلاف ریاستی رٹ کو یقینی بنانا ہے لیکن گلگت بلتستان میں اس وقت یہ قانون ویسے بھی قانونی طور پر اس خطہ پر نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ دستور پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان ایک متازعہ علاقہ ہے اور اس خطے کی مستقبل کا فیصلہ مسلہ کشمیر کی حل کے ساتھ منسلک ہے لیکن اس قسم کے قانون جس میں عوام کو دبائے رکھنے کا عنصر موجود ہوتا ہے یہاں نافذ کیا جاتا ہے لیکن جس اسمبلی میں یہ قانون پاس کیا اس اسمبلی کیلئے ووٹ دینے کا آج بھی یہاں کے عوام حقدار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر قومی حقوق کیلئے متحرک طبقے کو ایک طرح سے حکومتی اصطلاح میں اسٹیٹ کے خلاف بولنے والوں کا لقب دیا ہوا ہے حالانکہ اسٹیٹ کی تعریف یہ ہے کہ یہ خطہ آج اکیسویں صدی میں بھی متنازعہ اور اس خطے کی مستقبل کا فیصلہ مسلہ کشمیر کی حل سے مربوط ہیں۔ حقوق کی بات کرنے والوں پر فرقہ واریت کا الزام اس خطے میں ایک پالیسی کا نام ہے جو بوقت ضرورت سیاسی اشرافیہ اپنے مفادات کی پروٹیکشن اور مسائل کو الجھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔خوف کا یہ عالم ہے کہ اس وقت پرُامن سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگوں کو بھی شیڈول فور میں شامل کیا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس طوفان کو روکنے کیلئے اطلاعات یہ بھی نہیں کہ حکومت سے وابسطہ کئی افراد بھی مختلف فیک آئیڈیز کے ذریعے سوشل میڈیا پر متحرک افراد کو زدکوب کرنے کی شکایتیں بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حکومتی وزراء تنقید کو بلکل پسند نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ مقامی پرنٹ میڈیا پر ایسا ممکن نہیں لیکن سوشل میڈیا پر ایسا کرنا انکے نزدیک ریاست کے خلاف سازش سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ وزراء ایسے افراد کو یا تو اپنے فرنڈ لسٹ سے خارج یا بلاک کرتے ہیں۔ یعنی ہمارے حکمران مسائل کی نشاندہی اور بیڈ گورننس کی خبروں اور عوامی غم اور غصے سے آنکھیں بند کرکے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے جیسے محکوم معاشرے میں سوشل میڈیا ایک ایسے پلیٹ فارم کا نام ہے جہاں سے خبر بغیر کسی اسکرنینگ اور کاٹ پیٹ کے براہ راست عوام تک پونچی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خطے میں اخبارات پڑھنے کا رحجان سرکاری دفاتر کے علاوہ عوامی سطح پر کم ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ اخبارات ایک تو وہ خبر نہیں چھاپتے جو معاشرے کی ضرورت اور اس خطے کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں دوسری بات مقامی پرنٹ میڈیا بھی اس وقت مفادات کی جنگ میں اپنی ذمہ داریوں کو دیوار سے لگا رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام اب مقامی پرنٹ میڈیا پر انحصار نہیں کرتے۔
حالیہ اخبارات کی بندش کے معاملے پر سوشل میڈیا پر یوتھ نے اخبارات کی اشاعتی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ مقامی پرنٹ میڈیا میں اشاعتی پالیسی ایڈیٹر کے بجائے مالکان مالی مفادات کو سامنے رکھ کر طے کرتے ہیں ایسے میں سوشل میڈیا عوام کیلئے ایک غیر جانبدار متبادل سہولت بن کر ابھر آیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی اکثر مواقع پر غیر ذمہ دارانہ مواد کی اشاعت عوام کیلئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نئی نسل اور پڑھا لکھا طبقہ سوشل میڈیا پر صرف حقائق کی پرچار کو ہی اچھا سمجھتے ہیں۔سوشل میڈیا اس وقت انسانی زندگی کی ضرورت بن چکی ہے یہی وجہ ہے بڑے بڑے میڈیا ہاوسز اور میڈیا پرسنز اپنے اداروں اور پروگرامز کی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ یہاں مشکلات کے ساتھ ساتھ آسانیاں بھی ہے مثال کے طور پر جیسے میں نے اوپر ذکر کیا کہ ہمارے وزراء سیاسی تنقید کرنے والوں کو بلاک یا ان فرنڈ کرکے سکھ سانس لیتے ہیں حالانکہ ایسا کرنا عوام کے سامنے آنکھیں بند کرکے خود کو سیاسی طور پر محفوظ سمجھنے کے مترادف ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے سرپرست اعلی برجیس طاہر صاحب کا بھی یہی رویہ ہے وہ چونکہ غیرمنتخب اور غیرمقامی امیر گلگت بلتستان ہے لہذا ان کے حوالے سے بھی یوتھ شدید خدشات رکھتے ہیں کہا جاتا ہے کہ موصوف تنقید کرنے والوں کو فیس بک پیج سے بلاک کرتے ہیں ۔خود حفیظ الرحمن اخباری بیانات کے ساتھ سے سوشل میڈیا پر بڑا ایکٹو نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی نے عوام کے پاس جاکرمسائل سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ لہذا میرا سوشل میڈیا کے صحافیوں کیلئے یہی مشورہ ہے کہ اس بہترین پلیٹ فارم کو صرف تنقید کے بجائے تعمیری حوالے سے بھی استفادہ حاصل کریں حکومتی غلط پالیسوں کو عوام کے سامنے لانے کے ساتھ ساتھ خطے کو درپیش مسائل مستقبل کی ضروریات کے مطابق عوام کو اگاہی فراہم کریں۔ شعور اس وقت ہمارے معاشرے میں ناپید ہوچکی ہے لہذا اس بہترین پلیٹ فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اخلاقیات،معاشرتی روادری، بین المسالک ہم اہنگی اور معاشرتی میل ملاپ کیلئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ جب تک ہمارے عوام ایک دوسرے کے قریب آکر مکالمہ نہیں کرتے معاشرتی مسائل کا حل مجھے کم ازکم ناممکن نظر آتا ہے۔لہذا عرض یہ ہے کہ دنیا اب پیپر سے نکل کر سافٹ اور الیکٹرانک بن چُکی ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سہولت کو مثبت انداز میں استعمال کرکے معاشرے کو کرپٹ عناصر کی حکمرانی سے چھٹکارہ دلانے کیلئے کوشش کریں ۔
گلگت بلتستان حکومت کے وزراء سے خصوصی گزراش ہے کہ آنکھیں بند کرنے کے بجائے کرپشن اقرباء پروری اور لوٹ مار کی دنیا سے نکل کر عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں صرف تنقید کرنے والوں کو بلاک کرنے یا سرکاری ملازمین کے ذریعے سوشل ایکٹیوسٹ کو دھونس دھمکی کا زمانہ اب ختم ہوچُکی ہے میں یہ کوئی الزام نہیں لگا رہا بلکہ راقم کا شمار لکھنے کے جرم میں متاثرین دھمکی میں ہوتا ہے ۔ لہذا حکومت وقت کو چاہئے کہ ضیاء الحق کے سیاسی جانشین ہونے کے الزام کو مستردد کرنے کیلئے جمہوری بن کر دکھائیں یہی اس قوم کی ضرورت اور عوام کا مطالبہ ہے۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *