اور اب۔۔ ہزارگی کلچر ڈے۔۔۔۔۔۔ظفر معراج

معلوم نہیں ہزارہ قوم کے دوستوں نے کلچر کے نام پہ کون سی پوشاک پہنی، کون سے ساز بجائے، کس دھن پر کون سا رقص کیا۔ کس در، کس دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر فخریہ طور پر تصویر بنوائی۔ میں ایسا کچھ دیکھ نہیں سکا۔ کیونکہ وہ تو اپنے مسلکی اور پیدائشی جرم کی سزا میں ایک طرح سے مقید کر دیے گئے ہیں۔ اُنہیں دوسری اقوام کی طرح کب یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ جیسے جی چاہے، جہاں جی چاہے، کلچر کے نام پر جلوس جلسے یا رقص و موسیقی کے مظاہرے کریں۔ ہاں بس اتنا سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے شاید ایک اتوار کو ایسا کوئی دن منایا ہے۔ قیدی کی کیا عید، کیا شب برات۔ جو کچھ ہوتا ہے، جیل کی چہار دیواری میں ہی ہوتا ہے، جو آزاد لوگوں کودکھائی نہیں دیتا۔ بہرحال! جو بھی ہوا ہے، ہماری طرف سے رسمی مبارک باد۔ ویسے ہی جیسے ہم اپنے پٹھان، بلوچ اور سندھی دوستوں کو اُن کے ثقافتی دنوں کی مناسبت سے دیتے ہیں۔

جہاں تک میری معلومات ہیں، اس روایت کی ابتدا اجرک، سندھی ٹوپی سے ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ یہ کوئی قومی جوش و جذبہ تھا، یا پھر کسی نے سیاسی طور پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا۔ دیکھا دیکھی دوسرے بھائیوں نے بھی اپنی اپنی پرانی پیٹیاں کھول لیں۔ باپ دادا کے وہ پہناوے جو آؤٹ آف فیشن ہو کر اُن ہی کے زمانے کے بکسوں میں ٹھونس دیے گئے تھے، دوبارہ نکال کر، جھاڑ پونچھ کر پہن لیے گئے۔ اور ایک روزہ کلچر کے مظاہرے کا اہتمام شروع ہوگیا۔ سندھی کے بعد بلوچ، پھر پٹھان اور اب، ہزارہ برادری۔ ان سب کو یکے بعد دیگرے یہ احساس ہوگیا کہ اُنہیں اپنی ثقافت پرانے بکسوں سے نکال کر کم از کم ایک دن کے لیے دنیا کے سامنے ڈسپلے کر دینی چاہئے۔ یہ خود کو یا پھر شاید دوسروں کو اپنے وجود کا احساس دلانے کی ایک جذباتی کوشش ہے۔ اس میں اب تک پنجابی شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یا پھر پنجابیوں نے اپنی ثقافت کی تیز دھاتی دھار والی ڈور سے اتنے معصوموں کی گردنیں کاٹ دیں کہ بسنت کے نام پر ہونے والی اُس ثقافتی نمائش پہ پابندی لگا دی گئی۔

یوں تو سرکاری طور پہ سبی کے میلے، لاہور کے میلے مویشیاں، 23 مارچ اور 14 اگست کے دنوں میں ان گم گشتہ ثقافتوں کی فلوٹس کی صورت میں رونمائی کروائی جاتی ہے، (اور ساتھ ہی اُن ہی تقریبات میں یہ قومی نغمہ بھی سنایا جاتا ہے،”نہ میں سندھی، نہ پنجابی، نہ بلوچ، نہ پٹھان۔۔۔“) لیکن اُس کو ناکافی سمجھ کر اچانک سے یہ احساس ہوا، یا کروایا گیا کہ کلچر کو زندہ رکھنے کے لیے اجرک ٹوپی، واسکٹ پگڑی، لنگی صدری کا ایک روزہ فوٹو شوٹ ہونا ضروری ہے۔ اب اس فوٹو شوٹ کے لیے کیسی بھگدڑ مچتی ہے، کتنی ہلڑ بازی ہوتی ہے، کتنا غل غپاڑا، کتنی بدنظمی اور کہیں کہیں پہ گالم گلوچ اور دست و گریباں ہونے تک کی نوبت آتی ہے۔ تو اس بدتہذیبی کا کلچر سے کوئی تعلق نہیں۔ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔

اگر آپ ناراض نہ ہوں تو مجھے عرض کرنے دیں کہ ٹوپی، پگڑی اور دستار کی نمائش کے نام پر آپ کو جو ثقافتی ٹوپی کرائی گئی ہے، یہ کلچر نہیں، کلچر کے زوال کی ابتدا ہے۔ کیونکہ اس طرح کی حرکتیں یا تو آقاؤں کے چونچلے ہوتے ہیں، یا غلاموں کی عیاشی۔ کہ اُن کے پاس فخر کرنے کو صرف لباس ہی بچتا ہے۔ باقی سب کچھ یا تو لُٹا دیا گیا ہوتا ہے۔ یا پھر لوٹ لیا گیا ہوتا ہے۔ کسی بھی طبقے کا سماجی شعور جب زمیں بوس ہوتا ہے تو اُس کی ثقافت محض لباس تک محدود ہو جاتی ہے۔ کیونکہ تب تک اُس کے شاعر و ادیب مار دیے گئے ہوتے ہیں۔ اُس کے فنکار و موسیقار بھوکے مر چکے ہوتے ہیں۔ اُس کی کہانیاں بھی لباس کی طرح پرانے صندوقوں میں بند ہو گئی ہوتی ہیں۔ جنہیں کبھی کبھی نکال کر بند کمروں میں فخرو غرور کے ”دم“ لگا کر یا پھر رقص و مستی کے جام لٹا کر سنے سنائے جاتے ہیں۔ اور پھر صندوقوں میں دوبارہ بند کر کے کہانیوں کی بجائے احکامات سننے کے لیے ویسے ہی دست بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اُس قوم کا کیا کہنا، جو کتاب خریدنے کے بجائے ایزی لوڈ کو زیادہ فائدہ مند سمجھتی ہو۔ جو کتاب کے بجائے سوشل میڈیا کے بے ربط ٹوٹے ٹکڑوں کی معلومات کو ہی علمیت جانتی ہو۔ ایسے حالات میں قومیں وہاں پہنچتی ہیں، جہاں فخر کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ البتہ فخر بے بہا ہوتا ہے۔ کلچر رویوں کی پیداوار ہوتا ہے میرے بھائی! اور رویوں کی کانٹ چھانٹ، اُن کی تربیت اور پرورش، آپ کے شاعر، ادیب، فنکار، موسیقار، کہانی کار اور دستکار کرتے ہیں۔ جس اجرک، ٹوپی، پگڑی اور دستار کو زندہ رکھنے کے لیے آپ یک روزہ جذبات کا مظاہرہ کرتے ہیں، اُنہیں سنبھالنے کے لیے غربت کی لکیر سے نیچے کے آپ کے لاکھوں کروڑوں غریب بہن بھائی موجود ہیں۔

بولان سے لے کر چترال تک اور کوہِ سلیمان سے لے کر کھیرتھر تک اُن کی غربت اور ضرورت نے جھونپڑیاں، گدانیں اور جھگیاں سنبھال رکھی ہیں۔ آپ نے اپنے کلچر کو زندہ رکھنا ہے تو براہِ کرم اپنی زبان، اپنی بولی سنبھالیے۔ اپنے گیت، اپنی کہانیاں سنبھالیے۔ اپنے شاعر، اپنے موسیقار سنبھالیے۔ اپنے ادیب، اپنے فنکار سنبھالیے۔ اپنے مزاج، اپنے رویے سنبھالیے۔ جو مر رہے ہیں، ختم ہو رہے ہیں، مفقود ہو رہے ہیں، آلودہ ہو رہے ہیں۔ خدا کے لیے آپ اپنا تشخص، اپنی شخصیت سنبھالیے۔ اس کا تعلق پہناوے سے نہیں، رویے، سوچ اور تربیت سے ہے۔

کلچر صندوقوں میں بند نہیں ہوتے میرے بھائی۔ وہ آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ایک روزہ نمائش کے لیے نہیں ہوتے۔ اُن کی نمائش ہر لمحہ، ہر گام پہ کرنی پڑتی ہے۔ چاہے آپ مسجد کے منبر پہ بیٹھے ہیں یا پارلیمنٹ کے ڈیسک پر۔ کاروبار کے ٹھیئے پر بیٹھے ہیں، یا دفتر کی کرسی پر۔ فرض کی وردی پہنے ہوئے ہیں یا خلعتِ سلطانی۔ آپ کا کردار اور آپ کا رویہ ہی آپ کی پہچان ہے کہ آپ کس کلچر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ وہاں اپنے کلچر کے لیے گالی بن رہے ہیں، تو پھر اُسے کوئی ٹوپی، کوئی اجرک، کوئی دستار، کوئی پگڑی، کوئی صدری، کوئی واسکٹ، کوئی شال، کوئی لنگی، کوئی چاپ، کوئی اتنڑھ، کوئی لڈی، کوئی جھومر، کچھ نہیں بچا سکتا۔

اتنی لمبی تقریر کا مقصد قطعاً یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے کلچر ڈے کی ”عید“ نہ منائیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ٹوپی، دستار اور پگڑیاں فخر اور غرور کے پہناوے نہیں، رواداری، بہادری اور مہمان نوازی کی علامات ہیں۔ اگر آپ اتنی آزادی، بے خوفی اور بے باکی سے اپنا کلچر ڈے منا رہے ہیں، تو آپ کا ہمسایہ (ہزارہ قوم) گھر کی چہار دیواری میں بند ہو کر کیوں اپنی ”عید“ منا رہا ہے؟۔
اس بار جب اپنا کلچر ڈے منائیں تو رواداری، بہادری اور مہمان نوازی کی یہ علامات اپنے سر پہ رکھتے ہوئے ضرور سوچیں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *