اور بھی غم ہیں زمانہ میں محبت کے سوا۔۔۔۔۔۔بتول

محبت بہت خوبصورت احساس ہوتا ہے ۔اور یہ حسین جذبہ ہر کسی کے مقدر میں بھی نہیں ہوتا ۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں محبت نصیب ہوتی ہے ۔ اور اگر پیار محبت دو طرفہ ہو تو انسان کی زندگی کا ہر لمحہ حسین سے حسین تر معلوم ہوتا ہے۔ اس خوبصورت احساس سے ہم بھی آشنا ہوچکے ہیں۔ اور یہ احساس ہماری عمر بھر کا ساتھی بن چکا ہے ۔ گو کہ اب ہماری محبت ہمارے ساتھ نہیں مگر اس کی یاد یں تو ساتھ ہیں ۔ یہی یادیں ہمارا  کل سرمایہ ہیں۔
وہ کتنے خوبصورت دن تھے ہماری زندگی کے۔ہم ان سے اور وہ ہم سے والہانہ محبت کرتے تھے ۔ ہم ایک دوسرے کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ گھنٹوں فون پہ باتیں کرنا ہمارا روزانہ کا معمول تھا ۔ جس دن بات نہ ہو پاتی یوں محسوس ہوتا جیسے کچھ کمی سی ہے ۔ لوگ ہماری محبت کی مثالیں دیتے ۔ اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ پر نازاں رہتے ۔ ہم نے دنیا سے بغاوت کی قسمیں کھائیں ۔ ساتھ جینے مرنے کے وعدے ہوۓ ۔ مگر پھر یوں ہوا کہ کسی کی بری نظر ہمارے اس بے لوث رشتے کو برباد کر گئی ۔ بلکہ کسی کی بری نظر نہیں ان کے لالچ نے ہماری خوشیوں کو تباہ کر ڈالا۔ وہ جو ہمارے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کرچکے تھے انہیں ہم سے زیادہ کوئی اور چیز پیاری تھی اور ہم خوش فہم یہ سمجھتے رہے کہ انہیں ہم سے عشق ہے۔ تف ہے ان کے عشق پر اور ہم پر بھی کہ لالچی بے ضمیر انسان کی محبت میں گرفتار تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ بات ہم پر کھلی ورنہ ہم تو ساری زندگی اسی خوش فہمی میں رہتے کہ ہم سے زیادہ پیار وہ اس دنیا میں کسی سے نہیں کرتے۔ ۔ مگر کیا کِیا جاۓ کہ اس دنیا میں محبت سے زیادہ بھی کچھ چیزیں انسان کو پیاری ہوتی ہیں اور ان کے لیے انسان اپنی محبت بھی قربان کردیتا ہے ۔ہمارے ساتھ بھی ایسی ہی انہونی ہوئی  ۔ ایک دن ہم نے ان سے کہا کہ آپ کیا کرسکتے ہیں ہمارے لیے ؟ کہنے لگے جو آپ کہیں ۔ ہم آپ کے لیے چاند تارے توڑ کے لاسکتے ہیں ۔آپ دن کو رات کہیں ہم آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں گے ۔آپ جس راستہ سے چلیں ہم پھول بچھا دیں گے۔ آپ کی زندگی خوشیوں سے بھر دیں گے ۔۔۔ہم نے کہا بس کیجیے ہمیں یہ سب نہیں چاہیے ہمارے لیے آپ کا ساتھ ہی کافی ہے مگرآج ہم جو مانگنا چاہتے ہیں کہیں آپ انکار ہی نہ کر دیں ۔کہنے لگے یہ بھی کوئی  بات ہے ۔۔ آپ کہہ کر تو دیکھیں ہم دل و جان قربان کرنے کو تیار ہیں آپ کی خاطر ۔ مگرجھوٹے فریبی دھوکے باز ہماری ایک چھوٹی سی خواہش نہ پوری کر پاۓ ۔ ہم نے مانگا ہی کیا تھا جو چلے گۓ چھوڑ کر ۔ سارے وعدے توڑ کر۔ یہ کیسی محبت تھی ہم آج تک نہ سمجھ پاۓ۔ کیا کیا نہ کہا تھا اس دن انہوں نے ۔ کتنے طعنے دیے تھے یہ تک کہہ دیا کہ جائیں ہمیں کوئی اور محبت مل جاۓ گی ۔ کوئی  ایسا کرتا ہے کیا ؟ یہ کیسی محبت تھی ان کی ! ایک چھوٹی سی خواہش کا اظہار کیا اور وہ اپنے راستے الگ کر کے چل دیے۔اور واپس پلٹ کر نہ دیکھا ۔ ہم نے آخر مانگا ہی کیا تھا ان سے ؟ نہ چاند تارے ، نہ جان و دل بس اتنا ہی تو کہا تھا کہ روزانہ سردیوں کی سوغات ”چلغوزے “ دے جایا کرو ۔ اتنی سی بات پہ تعلق توڑ گیا ۔اخروٹ کہیں کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *