پوشیدہ اور اعلانیہ صدقات کا معاملہ

SHOPPING

قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے چھپا کر اور ظاہر کر کے دونوں صورتوں میں اپنے اموال مستحقین پر خرچ کرنے کی اجازت دی ہے . ارشاد باری تعالیٰ ہے .

SHOPPING

الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( سورہ بقرہ آیت 274 )
جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔
ایک اور مقام پر بھی سورہ بقرہ ہی میں دونوں صورتوں کی اجازت دی کہ تم چاہو تو پوشیدہ خیرات کرو اور چاہو تو ظاہر کر کے خیرات کرو ،لیکن یہاں پوشیدہ خیرات کرنے کو بہتر قرار دیا ۔ گویا افضل اور پسندیدہ طریقہ اللہ رب العزت نے خود متعین کر دیا کہ وہ پوشیدہ طور پر خیرات کرنا ہے۔
إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ( سورہ بقرہ آیت271 )
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے .
یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ اعلانیہ اور ظاہر کر کے مال خرچ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی جب کہ اس میں ریا کا واضح خطرہ ہے اور ریا صالح سے صالح عمل کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے , یہاں تک کہ ریا کو شرک ِ خفی کہا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعے اللہ کی رضا اور خوشنودی کا طالب بننے کی بجائے غیر اللہ کی رضا کا طلبگار بن جاتا ہے، حالانکہ یہ اللہ ہی کا حق ہے کہ ہم اپنے اعمال ِ صالح اسکی رضا کے حصول ہی کے لئے بجا لائیں ۔ اللہ رب العزت نے خود بھی تصریحاً ریا کی مذمت فرمائی ہے . ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے .
وَالَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ رِئَـآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۗ وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطَانُ لَـهٝ قَرِيْنًا فَسَآءَ قَرِيْنًا ( سورہ النسا آیت 38)
اور جو لوگ اپنے مالوں کو لوگوں کے دکھانے میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے، اور جس کا شیطان ساتھی ہوا تو وہ بہت برا ساتھی ۔
اس کے علاوہ احادیث میں بھی پوشیدہ صدقے کی فضیلت بیان کی گئی ہے . صدقے کو اسقدر پوشیدہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ دائیں ہاتھ سے دو اور بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو . چنانچہ بظاہر یہ بات عجیب محسوس ہوتی ہے کہ جب صدقات کو ریا سے بچانے کا بھی حکم ہے تو اعلانیہ صدقات کی اجازت ہی کیوں دی گئی جس میں سرا سر ریا کا اندیشہ ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ پوشیدہ صدقے کو افضل قرار دیا گیا اور احادیث میں بھی اس کی ترغیب دی گئی ہے ۔
اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے ۔ اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو صدقات ِ واجبہ یعنی زکوٰاة کی وصولی کیسے ممکن ہوتی ؟ یہ وصولی ریاست عاملین ِ زکوٰاة کے ذریعے کرتی ہے ۔لہٰذا اس میں اخفا ممکن ہی نہیں تھا ۔ ثانیاً اگر زکوٰاة پوشیدہ طور پر ادا کی جاتی تو ادا کرنے والے پر زکوٰاة چوری کی تہمت آ سکتی تھی ۔ ثالثاً عاملین سے حساب و کتاب تبھی ممکن تھا اگر اس کی ادائیگی اعلانیہ ہوتی اور اس میں اخفا نہ ہوتا ۔ چنانچہ یہ باری تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے اعلانیہ صدقات دینے کی اجازت فرمائی ۔
اسی لئے علما نے لکھا ہے کہ زکوٰاة پوشیدہ نہیں بلکہ ظاہر کر کے ادا کرنا افضل ہے جبکہ نفلی صدقات پوشیدہ اور چھپا کر ادا کرنا افضل ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے فرائض مسجد میں ( سب کے سامنے ) ادا کرنا افضل ہے اور نوافل گھر میں ۔ آج کل ہم زکوٰاة حکومت کو نہیں دیتے ،لہٰذا نہ تو اس کا ظاہر کرنا بایں طور ضروری ہے کہ اخفا ممکن نہیں اور نہ ہی عاملین درمیان میں موجود ہیں کہ حساب کتاب میں مسئلہ پیش آ سکتا ہے البتہ تہمت کا اندیشہ اب بھی ہے کہ ایک متمول شخص اگر چھپا کر زکوٰاة دیتا ہے تو اس کے بارے میں یہ بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ زکوٰاة ادا نہیں کرتا اور نتیجةً وہ متہم بھی ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا اگر وہ زکوٰاة کی ادائیگی اس تہمت سے بچنے کیلئے اعلانیہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اسی طرح کا معاملہ ان صدقات نافلہ کا ہے جن کی وصولی کیلئے حکومت کسی ہنگامی صورت حال کے پیش ِ نظر CALL دیتی ہے ۔ یہاں بھی ریا کا اندیشہ مقابلةً کم ہو جاتا ہے اور جذبہ ُ مسابقت پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے تو ایسے صدقات نافلہ اعلانیہ دینے میں بھی کوئی قباحت نہیں رہتی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
فاستبقو ا لخیرات (سورہ بقرہ آیت 148 ) نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاوُ
غزوہُ تبوک کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ ڈالا اور سب کا ایثار ایک دوسرے کے سامنے ہی تھا ۔

SHOPPING

Avatar
محمدخلیل الرحمن
بندہ دین کا ایک طالب علم ہے اور اسی حیثیت میں کچھ نہ کچھ لکھتا پڑھتا رہتا رہا ہے ۔ ایک ماہنامہ کا مدیر اعلیٰ ہے جس کا نام سوئے حجاز ہے ۔ یہ گذشتہ بائیس سال سے لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔ جامعہ اسلامیہ لاہور کا ناظم اعلیٰ ہے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ممبر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *