دورِ جدید اور ہماری ذمہ داری۔۔۔۔شہلا نور

اسلام مذہب انسانیت ہے-اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے-اسلام امن و محبت کا مذہب ہے- دنیا میں علم کی روشنی”اقرا” ہی کے طفیل پھیلی- سب تعریفیں اللہ پاک کے لیے جس نے ہمیں دین اسلام پر پیدا کیا اور بے شمار رحمتیں و لا تعداد درود و سلام اس نبی ہادیﷺ پر جو مقصد تخلیق کائنات بھی ہیں اور معلم کائنات بھی- جنھوں نے ہمارے قلوب و اذہان کو منور کیا اور فرمایا

“انّما بعثت معلما”(میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں)

(سنن ابن ماجہ،کتاباالسنۃ،باب فضل العلماء)

اوروہ ایسے معلم ہیں کہ دینی، معاشی، خانگی غرضیکہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے لیے “اسوۃ حسنۃ” بن گئے- ان کے نقش قدم پر چلنے والے بھی دین و دنیا میں کامیاب ہو گئے اوردنیا و آخرت میں کامیابی مانگنا تو خود رب کریم نے سکھایا اور درس دیا کہ مانگوں تو یوں مانگوں :

ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الٰاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار

اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر ۲۰۱)

اس سے پہلے آیت میں بھی دعا مانگنےکا طریقہ ارشاد ہوا جو کہ یہ ہے

فمن الناس من یقول ربنا اٰتنافی الدنیا ومالہ فی الا خرۃ من خلاق
کوئی آدمی یہ کہتا ہے اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں انکا کچھ حصہ نہیں

(سورۃ البقرۃ، آیت۲۰۰)

مندرجہ بالا آیتوں میں دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ایک وہ کافر جن کی دعا میں صرف دنیا کی طلب ہوتی تھی

آخرت پر انکا اعتقاد نہ تھا انکے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں انکا کچھ حصہ نہیں —-دوسرے وہ ایماندار جو دنیا و آخرت میں بہتری طلب کرتا ہے وہ بھی امر جائز اور دین کی تائید و تقویت کیلئے اسکی یہ دعا بھی امور دین سےہے۔۔۔اور حضورﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے

اللٰھم اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الٰاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار

(تفسیر خزائن العرفان)

معلوم ہوا کہ فقط دنیا کو ہی مانگنا کفار کا طریقہ ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں بہتری اور بھلائی کا طلبگار ہونا طریق ایمانی و مسلمانی ہے- اور یہی مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و نجات کا ذریعہ ہے کہ اپنے دین و دنیا دونوں کو سنوارنے کی جستجوکرے۔۔

مگر بد قسمتی سے!

آج وہ وقت ہے کہ ہم دنیا کی کا میابی کے پیچھے آخرت کو فراموش کر رہے ہیں- دن بدن دین سے دورہوتے جا رہے ہیں اور دین و دنیا کو الگ الگ دیکھنے لگے ہیں گویاکہ دین کچھ اور چیز ہے اور دنیا کچھ اور– یہی فرق نظر ہمارے رہن سہن، تعلیم،اور پھر نوکریوں تک پر  مسلط ہو گیاہے-

یہ بات توقابل افسوس ہے ہی کہ اکثریت دین سےغافل ہوتی جارہی ہے مگر صد افسوس یہ کہ جو لوگ دین پرعمل پیرا ہیں’ دین کی تبلیغ کر رھے ہیں انکی عزت و حوصلہ افزائی کے بجائےان پر تنقید ہوتی ہے کہ یہ مولوی دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں یہ ملاٹھیک ہو جائیں تو آدھا نظام ٹھیک ہوجائے اور نجانے کیا کیا-

گویامحسوس ہوتا ہے کہ۔۔۔مسلمان کو دین سے دور کرنے کےساتھ ساتھ،آہستہ دین سے نفرت پیدا کی جارہی ہے اور عوام میں یہ بات پھیلائی جا رہی ہےکہ دین ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دین پر چلنے والے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے اور عوام بھی بنا سوچے سمجھے مصروفِ تقلید ہیں

بنائے ملت بگڑ رہےہیں ،لبوں پر ہیں جان مر رہے ہیں

مگر طلسمی اثر ہے ایسا کہ خوش ہیں گویاابھر رہے ہیں

بلکہ جدھر مدرسے کے طالبعلم کو دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ کوئی انتہا پسند، دقیانوسی سوچ رکھنے والا ہےاور دہشت گردی کا سبق پڑھ کر ہی نکلا ہوگا:

یہ سوچ دیکھ اور سن کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ

آج کے مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے؟

انکے دماغ کس نے تبدیل کیے ہیں؟

انکے منہ میں کن کی زبانیں ہیں؟

اور اپنے اسلاف کے علمی کا رناموں کو کس طرح فراموش کردیا کہ جدید ترقی کی بنیاد رکھنے والے مسلمان علماء، سائنسدان اور حکمران تھے کہ جنھوں نے اپنے ادوار میں علمی تحقیق اور تمدنی ترقی کی راہیں وا کیں ؛ مگر افسوس کہ آج ہم ان سب کاوشوں کا سہرا ان غیر مسلموں کے سر سمجھ رہے ہیں جنھوں نے مسلمانوں سے ہی تعلیم حاصل کی-

اندلس کے اندر مسلمانوں نے جو تعلیم و تعلیم اور نصاب کے حوالے سے لازوال کارنامے انجام دیے اسکے بارے میں ڈاکٹر طفیل ہاشمی کہتے ہیں:

اسلامی عہد میں اسپین میں تعلیم کے مختلف درجات تھے پرائمری سطح پر قرآن پاک، عربی زبان کے مختلف ادب پارے،خطوط نویسی،انشاء پر دازی اور عربی گرائمر کی تعلیم دی جاتی تھی- اسپین کی ہر بڑی بستی میں کئی مدارس قائم تھے جن میں ثانوی تعلیم کا انتظام تھا- قرطبہ ، ملا غہ، سرقسطہ،جیان میں اعلٰی تعلیم کی یونیورسٹیاں تھیں جہاں بالعموم بلا معاوضہ تعلیم دی جاتی تھی اکثر اساتذہ کو حکومت کی طرف سے مشاہرءے ملتے تھےاور نادار طلبہ کی ضروریات کی کفالت بھی حکومت کرتی تھی ان یونیورسٹیوں میں حدیث ، تفسیر، ادبیات، تاریخ اور سائنس کے علوم پڑھائے جاتے تھے- جامعہ قرطبہ کو دنیا کے تعلیمی اداروں میں نمایاں مقام حاصل ہوگیا تھا یہ جامعہ ازہر اور جامعہ نظامیہ سے سبقت لے گئی تھی- یہاں نہ صرف سپین کے مسلمان، نصرانی اور یہودی طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے بلکہ یورپ،ایشیاء اور افریقہ سے تشنگان علم بھی اپنی پیاس بجھانے کے لئے یہاں آتے تھے،

(اندلس میں مسلمانوں کے سائنسی کارنامے،ص ۸۸،۸۷)

علم کی پیاس بجھانے کیلئے ، علم کے متلاشی یورپ کے طول و عرض سے اسپین کے مدارس کی جا نب دوڑ پڑے انھوں نے عربوں سے علم سیکھا، تہذیب سیکھی اور یورپ کو علم و تہذیب کے نور سے منور کرنے کے لیئے اپنی زندگیاں وقف کریں—- اور یہ مسلمانوں کی اعلٰی ظرفی تھی کہ بلا تفریق ہر خاص و عام اس علم کے دریا سے سیراب ہورہا تھا۔اور یہ تو عربوں کی صورتحال تھی اسوقت بر صغیر میں کیا اندھیرا کا راج تھا؟؟؟ یا  یہا ں مدارس سے علم وعرفاں کے چشمے نہیں پھوٹ رہے تھے؟؟

نہیں—- ایسا نہیں تھا،ہندوستان کی تاریخ دیکھیں تو ہر حاکم کے دور میں علم و عرفاں کا ایک نیا دریا بہتا نظر آئے گا-

انگریز جنرل سالومان(سلیمان) نے مسلمانوں کی تعلیم کا جائزہ لینے کے بعد لکھا:

” جو علوم ہمارے بچے لا طینی اور یونانی زبانوں میں اپنے کالجوں میں حاصل کرتے ہیں وہی یہ لوگ (ہندوستانی مسلمان کے بچے) عربی اور فارسی میں سیکھتے ہیں سالہا سال کے درس کے بعدایک طالبعلم اپنے سر پر دستار فضیلت باندھتا ہے اور اسی طرح روانی کے ساتھ سقراط،ارسطو،بقراط،جالینوس اور بو علی سینا پر گفتگو کرسکتا ہے جس طرح آکسفورڈ کا کامیاب طالبعلم—(ہمارا نصاب تعلیم کیا ہوا؟س۱۰۱،۱۰۲)

یہی وہ مدارس تھےجنہوں نے فارابء ، بو علین سینا،خوارزمی، جابر بن حیان جیسے نامور اہل علم پیدا کیے یہ وہ شخصیات ہیں جوجدید علم کے بانیوں میں شمار ہوتی ہیں مگر انہوں نے مدارس سے تعلیم لی اور اپنی مذہبی تشخص و اسلامی ثقافت ساتھ لءکر چلے،ابن سینا جو مسلم دنیا کا بڑا سائنسدان اور نامور حکیم تھے جب انہیں کوئی مسئلہ سمجھ نہ آتا تو اللہ طرف رجوع کرتے –

خود اپنی کتاب میں لکھا:

کبھی کسی مسئلہ میں دقت پیش آتی اور وہ کسی طرح حل نہ ہوتا تو مءں مسجد کی طرف چلا جاتا اور نماز کے بعد دعا مانگتا یہاں تک اللہ اس مسئلہ کی گرہ کھول دیتا—(۱۰۰ عظیم مسلما ن سائنسدان،ص۲۳۵)

اور اس بات سے کہ مسلمان نہ صرف خود علمی پیاس بجھارہے  تھے بلکہ عیسائی ، یہودی غرض ہر عام آدمی ان جامعات سے فیضیاب ہو رہا تھا تو عیسائی پادریوں اور یہودیوں کے رہنماؤں کے لئے یہ بات صدمے سے کم نہ تھی وہ ماتم کناں تھے- لہذاٰ اس کینہ اور دشمنی کو نکالنے کے لئے انھوں نے سازشوں کا جال بچھایا۔۔۔

*مسلمانوں سے انکی پہچان چھیننے کی سازش

*مسلمانوں کی اللہ و رسول سے محبت ختم کرنے کی سازش

* اسلام کو مٹانے کی سازش

اور یہ سب حسد کی وجہ سے تھاجس کا بیان رب عزوجل نے قرآن میں فرمایا:

ود کثیر من اھل الکتاب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق —الاّیۃ

بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنی دلوں کی جلن سے بعد اسکے کے حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے-(سورۃ البقرۃ آیت۱۰۹)

معلوم ہوا کہ غیر مسلموں، یہودیوں ، عیسائیوں کا یہ طریق اور سازشیں شروع سے ہیں اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہود کا مسلمانوں کے کفر و ارتداد کی تمنا کرنا اور یہ چا ہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہوجائے حسد سے تھا—(ماخوذ تفسیر خزائن العرفان)

علامہ اقبال و اکبر الٰہ آبادی کے اشعار، حکیم سعید و اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ اور دیگر مفکرین کے بعد افکار نے بارہا اسکی طرف توجہ دلائی کہ

اے مسلمانوں سوچو—-

کیا وہ چاھتے ہیں کہ تم مہذب اور تہذیب یافتہ کہلأو؟؟؟

علامہ اقبال فرماتے ہیں

اور یہ “اہل کلیسا” کا نظام

ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اسکی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے

قوم جو کرنہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے غلاموں کو معاف

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ مسلمان اس وقت تک دنیا پر حکومت کرتے رہے جب تک دین ک ے پاسبان رہے اپنے دینی تشخص کے نگہبان و عامل رہے اور جب مسلمانوں نے دین سے دوری اختیار کی فرائض و احکامات سے چشم پوشی کا آغاز ہوا—-مگر اس میں ہماری کوتاہی کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن قوتیں بھی متحد ہوئیں ، مسلمانوں کے دلوں سے اللہ و رسول اور مذھب کی محبت ختم کرنے کی سازشیں کار فرما ہوئیں —– مسلمانوں نے کارنامے انجام دیئے’ تہذیب و تمدن کا گہوارا سلام کو بنایا یا دینا میں ترقی کی تو یہ بات غیر مسلموں کو کیسے برداشت ہو سکتی تھی؟؟؟

وہ یہودی اور عیسائی جن کے بارے میں خود رب تعالٰی نے ارشاد فرمایا:

یایھاالذین اٰمنو لا تتخذوو الیھود و النصٰرٰی اولیآ ء بعضھم اولیآء بعض و من یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لا یھدی القوم الفاسقین

اے ایمان والویہود و نصری کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گاتو وہ انھیں میں سے ہے بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا—–(سورۃ المائدۃ،آیت ۵۱)

اس آیت سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے آپس میں اگر چہ کتنے ہی اختلاف کیوں نہ ہوں مگر وہ مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں لہذٰا مسلمانوں کو ان سے دوستی نہ رکھنی چاہیے اگر چہ وہ بظاہر دوستی کا دم بھریں – جیسے سانپ کی فطرت ہے ڈسنا وہ ڈسے گا سو یہ لاگ بھی فطرت کے اعتبار سے اسلام کے مخالف ہیں –اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں سے تعلیم حاصل کرکے ، ترقی منازل طے کرتے ہوئے اس مقاام پر پہنچے کہ وہ آج دنیا سے مسلمانوں کی محنت اور کارنامے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے اسی مقصد کے تحت کہ مسلمانوں سے جنگ کے ذریعے تو جیتا جا نہیں سکتا کیونکہ انکے دلوں میں نور ایمان ہے تو آؤ اس نور کو ان کے سینے سے نکالیں انکے رسول ﷺ کی محبت کھرچ ڈالیں۔۔۔۔

بقول علامہ اقبال

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روح محمدﷺ اسکے بدن سے نکال دو

اسی مقصد کے تحت انہوں نے ایسے لوگ تیار کیے جو بظاہر پابند شرع مگر حقیقتاً انکے کارندے– انکے اشاروں پر چلنے والے– ان لوگوں کو مسلمانوں کے درمیان پھیلادیا گیا ہماری مسجد و منبر انکو حوالے کئے گئے یہ نمازیں پڑھاتے اور اندر ہی اندر زہر گھولتے ہیں-

اس حقیقت سے پردہ کیسے اٹھا؟؟

آئیے—–نواب راحت خان چھتاری سے سنتے ہیں نواب راحت خان چھتاری ۱۹۴۰ کی دھائی میں ہندوستان کے صوبے اُتر پردیش کے گورنر رہے وہ اپنی یا دداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بُلایا گیا انکے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں ایک کلکٹر رہ چکا تھا کہا آئیے آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراؤں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی دو روز بعد کلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے کر آیا اور کہا ہم کل صبح چلیں گے۔

اگلی صبح نواب   صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئےشہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہوگیا جنگل میں ایک پتلی سڑک موجود تھی جوں جوں چلتے گئے جنگل گھنا ہوتا گیا سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھی نہ کوئی پیدل مسافر نواب صاحب حیران بیٹھے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے آدھے گھنٹے سے زائد ہوگیا تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا پھر دور سامنے ایک وسیع و عریض عمارت دکھائی دی عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کیہ اپنی گاڑی وہی چھوڑدیں اور آگے جو فوجی گاڑی ہے اسمیں بیٹھیں نواب صاحب اور کلکٹر اس فوجی گاڑی میں بیٹھ گئےا ب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا دونو فرف جنگلی درختوں کی دیواریں تھیں نواب صاحب گھبرانے لگے تو کلکٹر نے کہا بس منزل آنے والی ہے آخر دور ایک اور سرخ پتھر کی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا کے آگے آپ صرف پیدل چل سکتے ہیں راستے میں کلکٹر نے نوا صاحب سے کہا کہ یاد رکھیے آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں بولنے یا سوال کرنے کی اجازت نہیں عمارت کے شروع میں دالان تھا اس کے پیچھے متعدد کمرے تھے دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے ، سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلادوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان نکلے پہلے نے عربی لہجے میں السلام علیکم کہا تو دوسرے نے وعلیکم السلام کیا حال ہے کہا نواب صاحب یہ منظر دیکھ کر کچھ پوچھنا چاہتے تھے کہ کلکٹر نے اشارے سے منع کردیا چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کی اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے عربی لباس میں موجود کئی طلباء فرش پر بیٹھے ہیں اسکے سامنے استاد اسطرح بیٹھا ہے جس طرح اسلامی مدرسوں میں استاد پڑھاتے ہیں طلباء کبھی عربی کبھی انگریزی میں استاد سے سوال کرتے ہیں نواب صاحب نے دیکھا کہ کسی کمرے میں قرآن کا درس ہو رہا ہے کسی جگہ بخاری کا درس ہو رہا ہے کہیں مسلم شریف کا درس سیا جا رہا ہے ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مناظرہ ہورہا تھا ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہورہی تھی سب سے بڑے کمرے میں قرآن مجید کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جارہا تھا انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلہ پر زور ہے مثلاََ وضو نماز روزے سجدہ سہو کے مسائل ، رضاعت اور وراثت کے جھگڑے، لباس اور داڑھی کی وضع قطع، چاند کا نظر آنا ، غسل خانے کے آداب، حج کے مناسک بکرا، دنبہ کیسا ہو، حج بدل اور قضا نمازوں کی بحث، امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھی جائے کہ نہیں اور تراویح آٹھ رکعت ہیں یا بیس وغیرہ ایک استاد نے سوال کیا پہلے عربی پھر انگریزی پھر نہایت شُستہ اردو میں جماعت بتائیے کہ جادو، نظر بد، گنڈا، آسیب کا سایہ برحق ہے یا نہیں ؟؟

۳۵/۴۰ کی جماعت نے پہلے انگریزی میں ، پھر عربی اور پھر اردو میں یہی جواب دیا۔۔۔یہ سب دوکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب صاحب نے کلکٹر سے پوچھا اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے چھپا کر کیوں رکھا ہے ؟ انگریز نے کہا ارے بحئی ان میں سے کوئی بھی مسلما ن نہیں تعلیم مکمل ہونے پر انھیں مسلمان ملکوں خصوصا مشرق وسطیٰ، ترکی، ایران اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے وہاں پہنچ کر یہ بڑی مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں- پھر نمازیوں سے کہتے ہیں ہم یورپی مسلمان ہیں اور مکمل عالم ہیں مصر کی جامعہ ازھر میں تعلیم پائی ہے- یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ ادھر تعلیم دے سکیں- سر دست تنخواہ نہیں چاہتے صرف کھانا ، سر چھپانے کی جگہ درکار ہے وہ مؤذن ، امام، بچوں کو قرآن پڑحانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں——

نواب صاح ب کو انگریز نے یہ بتا کر حیران کردیا کہ اس عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:

۱) مسلمانوں کو وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے

۲) حضور ﷺ کا درجہ جس طرح بھی ہوسکے گھٹایا جائے اس انگریز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ۱۹۲۰ میں توہین رسالت کی کتاب لکھوانے میں یہی ادار ہ شامل تھا ، مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی کہہ کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا اسکی  کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت میں رکھی جاتی تھی- اور ایک خبر کے مطابق سلمان رشدی کی کتاب لکھوانے میں بھی اس ادارہ کا ہاتھ ہے—

(مضمون حویلی کا راز از نواب راحت خان چھتاری، رسالہ ضیائے حرم)

کیونکہ

ستیزہ کا ر رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شراربو لہبی

اک اور ———- حربہ؛

انکا دوسرا حربہ “میڈیا “ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مرضی کی چیزیں دکھائیں- انکی تہذیب و ثقافت کو یا تو دکھایا ہی نہ جائے یا پھر سو وہ پیش کیا جائے اور اپنی ثقافت و کلچر کو فروغ دیا جائے – بے پردگی و بے حیائی کو فیشن کا نام دیکر ہماری خواتین کو زینت محفل و بازار بنا یا جائے——

اکبر الٰہ آبادی نے اسی پر فرمایا؛

بے پردہ کل جوآئیں نظر چند بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑگیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا

ان کا مشن یہیں ختم نہیں ہوا——!!

بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا مخلوط تعلیمی نظام کو ترقی کی راہ بتا کر ہمارے نوجوانوں کا برین واش کیا ، فتنوں کا دروازہ کھولا گیا اور مسلمانوں کو وہ راہ دکھائی جو بظاہر روشن درحقیقت اندھیری نگری ہے—–

یوں قتل سے بچوں کہ وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

آئیے جانتے ہیں ۔۔۔۔۔

ملت کی ترقی اور نشو نما کے لئے تعلیم کی بنیادی اہمیت کیا ہے؟

نصاب کی تشکیل کن امور کو سامنے رکھ کر کی جائے؟

ترقی و نشو نما کی نہج کیا ہونی چاہیئے؟

ماہر تعلیم مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں؛

۱) اسلام کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور تعلیم کا محو دین اسلام ہونا چاہیے کیونکہ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لئے یہ جاننا ضروری ہے وہ کیا ہے اور سین اسلام کیا ہے۔۔۔

۲) مقصدیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تعلیم کا بنیادی مقصد خدا رسی اور رسول شناسی ہونا چاہیے تا کہ ایک عالمگیر فکر ابھر کر سامنے آئے سائنس اور مفید علوم عقلیہ کی تحصیل میں مضائقہ نہیں۔۔

۳) اولیت پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں ابتدائی سطح پر رسول اکرمﷺ کی محبت و عظمت کا نقشہ طالب علم کے دل میں بٹھایا جائے کہ اس وقت کا بتایا ہوا پتھر پر لکیر ہوتا ہے ۔ اسکی ساتھ اصحاب و اولیاء کی محبت و عظمت دل میں پیدا ک جائے۔۔

۴) صداقت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں جو کچھ پڑھا جائے حقائق پر مبنی ہو جھوٹی باتیں انسان کی فطرت پر برا اثر ڈالتی ہیں۔۔

۵) صداقت کے بعد افادیت پر فرمایا کہ صرف انھیں علوم کی تعلیم د ی جائے جن کا دین و دنیا میں فائدہ ہو، غیر مفید علوم کو نصاب سے خارج کیا جائے اس سے افراد کی توانائی ، مال اور عمر تینوں ضائع ہو تے ہیں ۔۔

۶) افادیت کے بعد للٰہیت پر زور دیتے ہیں کہ اساتذہ اور شاگردوں کے لئے لازمی ہے کہ ان کے دل میں اخلاص و محبت ہو، قومی تعمیر کی لگن ہو و ہ علم کو کھانے کمانے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اعلٰی نمونہ ہوں۔۔

۷) حمیت و غیرت پر زور دیتے ہیں کہ طلباء میں خود داری و خود شناسی کا جو ہر پیدا کیا جائے تا کہ وہ دست سوال دراز نہ کریں۔۔

۸) حمیت کےبعد حرمت پر بات کی طالبعلم کے دل میں تعلیم اور متعلقات علم کا احترام پیدا کیا جائے۔

۹) حرمت کے بعد صحبت پر روشنی دالتے ہیں کہ طالبعلم کو بری صحبت سے بچایا جائے وہ مفید علم اور سیر و تفریح کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں کہ مسلسل تعلیم سے طالبعلم اکتا نہ جائے۔۔

۱۰) آخر میں حضرت بریلوی سکنیت پر زور دیتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کے ماحول پر سکون اور باوقار ہونا چاہیے تا کہ طلباء کے دل میں انتشار پیدا نہ ہو۔۔

عزیزان گرامی:

ان اسلام دشمنوں کے کلیسائی نظام تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔۔۔ اور آج انکا مشن خود مسلما ن کامیاب بنا رہے ہیں خود اپنے اسلا فکے کارناموں کو فراموش کرکے ، اپنی تہذیب و ثقافت سے چشم پوشی کر کے اپنی مسجدوں کو ویران کر کے، اپنے مدارس کو تنقید کا نشانہ بنا کر ، اپنے اسلامی تشخص سے منہ موڑ کر اور اہنے دینی شعائر کا مذاق بنا کر ۔۔۔۔۔ وہی مولوی اور ملا جو القاب علم و فضل ہوا کرتے تھے مغربی اقدار و تعلیم کے رنگ و روغن کی وجہ سے انکا تقدس پامال ہوگیا ہے۔۔۔۔ یہ دونوں تعظیمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے ہیں، مسجدوں کے اماموں پر جمعراتی ،شبراتی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے کہا جانے لگا ہے۔۔۔۔

مگر!!

لو سے جھلسی ہوئی دوپہر میں پنکھوں اور اے سی میں بیٹھ کر باتیں کرنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ محلے کی مسجدوں میں ظہر کی اذان ہر روز اپنے ،قررہ وقت پر کیسے ہوتی ہے؟

کڑکڑاتے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لیٹے ہوئے اجسام کو اس با تپر حیرت نہیں ہوتی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان کون اسقدر پابندی سے دے جاتا ہے؟ دن ہو یا رات ، آندھی ہو یا طوفان ،امن ہو یا فساد، ہر گلی،ہر شہر، ہر قریہ، چھوٹی بڑی مسجدیں انھیں ملاؤں ، مولویوں، اماموں اور مؤذنوں کے دم سے آباد ہیں ۔۔۔۔۔

یہ انھیں کا فیض ہے کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، اور کہیں نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم ہیں یہ انھیں مسجد و مدرسے والوں کی برکت ہے کہ ہمارا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا ہے۔

یہ نغمہ فصل گل و لالہ نہیں پابند

بہا ر ہو کہ خزاں لا الہ الاّ اللہ

عزیزان ملت۔۔۔

یہ مدارس سے پھیلا ہوا ہی علم تھا جس نے مسلمانوں کو انفرادیت عطا کی اور جب تک حکمران اس علم کی سرپرستی کرتے رہے عالم اسلام ترقی کرتا رہا انکی نظریاتی و علاقائی سرحدیں محفوظ رہیں.

نادان مسلمانو!!

اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔۔ اپنے دشمنوں کو پہچانو۔۔۔۔ ان آستین کے سانپوں کو اپنی صفوں سے نکا ل باہر کرو جو تم سے تمہارا سب کچھ چھیننا چاِہتے ہیں ۔ انکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیئے آگے بڑھو مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ خود کو اللہ و رسول کے قریب کرو اپنے دین کی قدر و منزلت پہچانو، دین پر عمل شروع کرو دنیا تمہاری ہو جائے گی خدارا اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی طرف آؤ۔۔۔

آؤ روشنی کی طرف آؤ

آؤ خدا کی اطاعت کی طرف آؤ

آؤ محبت رسول کی طرف آؤ

آؤ کامیابی کی طرف آؤ

یا د رکھو۔۔۔۔۔۔۔!!

اگر دین سے منہ پھیرا تو ہاتھ کچھ بھی نہیں آئیگا نہ دنیا کی کامیابی نہ اخروی ۔۔۔ تمہاری مثال یہی ہوگی کہ

دنیا پیچھے دین گنوایا تے دنیاوی ہتھ نہ آئی

بقول علامہ اقبال

قوم مذہب سے ہےمذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

ایک مسلما ن ہونے کے ناطے ہم اپنے فرائض اپنی حدود کو سمجھیں اور اپنے دین کی سر بلندی کو پیش نظر رکھیں تو نا ممکن نہیں کہ ترقی ہمارے قدم چومے اور ہمارے وطن کے خزاں رسیدہ ماحول میں بہار آجائے کیونکہ ہم کلمہ پڑھنے والے امت محمدیہ سے ہیں لہذاٰ مغربی تقلید کو خاطر میں نہ لاؤ

علامہ اقبال نے فرمایا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

اگر ہم نے اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کو اپنا لیا تو یقین جانیئے کہ امت مسلمہ کا تابناک مستقبل ہمارے سامنے ہوگا۔۔ ان شاءاللہ۔۔۔۔ ۔ مگر اس کے لئے ہم سب کو متحد ہونا ہوگا، دین و دنیا کے مابین فرق کو ختم کرنا ہوگا ہم عصری تعلیم کالج، یونیورسٹی سے حاصل کریں یا مدار س سے علم کی روشنی لے کر نکلیں ہمیں اپنے دلوں کے اندر جذبۂ مسلمانی پیدا کرنا ہوگا اور عشق محمد ﷺ کی شمع فروزاں کرناہوگی اس عشق کی روشنی جب پھیلی تو اغیار کی سازشیں بے نقاب ہوجائیں گی اور دنیا و آخرت کی ترقی و کامیابی کی راہیں ہموار ہو جائیں گیمگر تاجدار مدینہ ﷺ کے اسوہ ٔ حسنہ پر عمل شرط ہے

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمدﷺ سے اجالا کردے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”دورِ جدید اور ہماری ذمہ داری۔۔۔۔شہلا نور

  1. ماشاء اللہ بہت عمدہ تحریر…اللہ پاک مزید آپ کے علم میں اضافہ فرمائے اور لازوال ترقی وعروج سے نوازے….آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *