ابو جی ، باہر کوئی” کھسرا ” آیا ہے ۔۔۔۔۔۔میاں جمشید

کھسرا نام کی شخصیت کو میں بچپن سے ہی حیرت سے دیکھتا آیا ہوں ۔ اور یہ عادت ابھی تک ہے ۔ یہ کیا ہوتے ہیں ، ان کا اصل نام کیا ہے ، یہ ایسے کیوں دکھتے ہیں وغیرہ جیسے سوالات چھوٹے ہوتے میرے ذہن میں اٹھتے تھے ، مگر کوئی بھی تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا تھا ۔ سب ہنس کر ٹال دیتے تھے یا پھر ان کے بارے عجیب باتیں بتا کر ڈرا دیتے تھے۔ جب ہم بڑے ہوۓ تو ان کے بارے میں ریسرچ کی تو یقین مانیں تو ندامت و افسوس کی وجہ سے بہت شرمندگی ہوئی ۔ ان کھسروں پر نہیں، بلکہ اپنے بڑوں پر جنہوں نے ہمارے ذھنوں میں ان کے بارے میں غلط تصورات بٹھا دیے تھے ۔

آپ سب بھی اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ ان کے اوپر بے شمار مضامین لکھے جاتے ہیں ، ڈاکومنٹریز بنائی جاتی ہیں ۔ سیمینارز منعقد ہوتے ہیں۔ مگر سب کچھ باتوں کی حد  ت  تک رہ جاتا ہے ۔ کوئی مستقل اور فائدہ مند عملی حل ابھی تک رائج نہیں ہو سکا ۔ سب کچھ وقتی ہوتا بس ۔ ان کھسروں کو کسی ڈرامہ یا فلم میں لینا ، کسی شو میں بلوا لینا ، کسی تقریب میں شامل کرنا وغیرہ کے کاموں سے ان کی بہتری بالکل بھی نہیں ہو سکتی نا ہی ایسے معاشرے میں کوئی مقام پا سکتے ہیں ۔

آپ جانتے ہیں کہ ان سمیت ہم سب کے حالات میں اصل تبدیلی آتی ہے” تعلیم و تربیت ” سے ۔ اس کے بعد پھر اچھے ” روزگار ” سے ۔ اب سب سے پہلے آپ ذرا اپنے ارد گرد کے تعلیمی اداروں میں دیکھیں کہ کتنے   کھسرے زیر تعلیم ہیں ؟ ذرا دفاتر و دکانات میں چیک کریں کہ کتنے کھسرے ملازمت کر رہے ہیں؟ اول تو آپ کو کوئی ملے گا نہیں ، مل گیا تو اس کھسرے کو ایسے ہائی لائٹ کر کے بتایا جائے گا جیسے پتا نہیں وہ ہم سب سے کتنی کہ الگ قسم کی مخلوق ہے ۔ اور یہی ” بنیادی ” وجہ ہے ۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق رکھنے سے ” شرمانا “۔ ان کو نارمل نہ لینا ، صرف مزاحیہ شخصیت سمجھنا اور سب سے بڑھ کر جنسی شوقین جاننا ۔ پھر ایسی باتوں کی تربیت اپنی نسلوں کو دینا اور پھر چل سو چل ۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ چلیں اگر ہماری سوسائٹی میں یہ نارمل گھل مل نہیں سکتے ، ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے تو کیوں نہ ان کے لئے علحیدہ سے اسکول و کالج کھولے جائیں؟ اگر یہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں بھی تو کیا انہیں کسی بھی دفتر میں آفس بواے تک نہیں رکھا جا سکتا ؟ کسی بڑی دکان یا برانڈڈ شاپ میں کوئی سامان اٹھانے والا ، سیٹ کرنے والا بھی نہیں رکھا جا سکتا ۔ کیا واقعی ہماری سوسائٹی میں کوئی ایسا روزگار نہیں جس سے ان کو گھر گھر جا کر یا سگنل پر کھڑے ہو کر مانگنے جتنی کمائی ہو سکے؟ کیا یہ فطری کمی کے باعث ذہنی و جسمانی طور پر بھی نا اہل ہو جاتے ہیں؟

کیا یہ کھسرے با صلاحیت نہیں ہوتے ؟ کیا ان کو موٹیویشن کی ضرورت نہیں ہوتی؟ کیا ہم لائف سکلز کے بارے میں ان کو نہیں بتا سکتے ؟ اپنے زندگی کا مقصد تلاش کرو ، اپنے passion والا کام کرو ، جیسی باتیں و لیکچر ان کو نہیں دے سکتے ؟ کیا ہمارے بچے بھی باہر آے کھسرے کو دس بیس روپے دیتے اور ان پر ہنستے ہوے رہیں گے ؟ کیا ہم ان کو زیادہ نہ سہی مالی ، پلمبر ، درزی ، باورچی تک کا مقام و نام نہیں دے سکتے؟ ایسے تمام سوالات مجھ سمیت آپ سب سے بھی ہیں کہ ہم نے عملی طور پر ان کے لئے کیا کرنا ہے ۔ کیا ثواب سمجھ کر بھی ان کے لئے کچھ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا کھسرے یتیم و غریب نہیں ہوتے ؟ کیا ان کو مچھلی دینے کی بجاے مچھلی پکڑنے کا سامان مہیا نہیں کیا جا سکتا ؟ یا پھر ان کے لئے سب کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، کوئی ثواب نہیں ملتا ؟

چلیں ان تمام باتوں پر آپ بھی سوچیں میں بھی ذرا فری ہو کر سوچتا ۔ ابھی میں فی الحال باہر آے کھسرے سے نبٹ لوں ذرا ۔ کب سے شور کیے جا رہا ہے ۔ بچے بھی گیٹ کے پاس کھڑے اس کا تماشا دیکھ رہے ۔ کسی بچے کو ہی نہ لے جائے ۔ ہوتے تو ایسے کے ہی ہیں یہ ” کھسرے ” ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *