حسِ رقابت۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

علامہ مرحوم کی یہ بات سر آنکھوں پر کہ تصویرِ کائنات میں رنگ، وجودِ زن کا مرہونِ منت ہے، مگر اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ وجودِ زن کی رنگینی میں عشّاق کا خونِ جگر شامل ہے، جانوں کے لالے ہی ہیں جنہوں نے ہونٹوں کو لالی بخشی ہے ، محبوب کی ادائے بے نیازی کیا عاشق کو مرغِ بسمل میں بدلنے کے علاوہ بھی کچھ ہے؟
رقیب کی موجودگی نے انسانی معاشرے میں جمالیاتی پہلو کی داستانِ سادہ کو نہ صرف دلچسپ بنایا، بلکہ عشّاق کرام کے دل پر بجلیاں گراتے رقابت کے احساس کو بیدار کرتے ہوئے، انسانی نفسیات کے دلچسپ ترین پہلوؤں کو اہلِ ذوق کی نظروں میں اجاگر کیا، اجتماعی طور پر یہ احساس اپنے اندر اگرچہ تحقیق کے مختلف پہلو لئے ہوئے ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ انفرادی سطح پر بِتانے والے کیلئے یہ احساس قیامتِ صغری سے کم نہیں، اور اکثر اوقات انسان کے نفسیاتی تالاب میں ہلچل کا باعث ثابت ہوا ہے۔
ارتقائی نکتۂ نظر سے حسِ رقابت کی ابتداء، احساسِ ملکیت کے آغاز سے منسلک ہے ، جو شعبۂ زراعت (اسٹیبلشمنٹ نہیں) کی دریافت سے وابستہ ہے، غار میں رہنے والا شکاری انسان اپنے اندر جذبۂ ملکیت کی جبلّت سے عاری تھا، اسی لیے سب کچھ ” سانجھا ” اور مشترک تھا، زراعت کے آغاز نے انسان کو خانہ بدوشی سے مستقل مکانت کی ڈگر پر ڈالتے ہوئے، گویا کہ کچے دھاگے سے ایک گھروندے سے باندھ ڈالا، یہیں سے میرا کھیت، میرا اناج، میرا گھر اور میری بیوی کا تصور پروان چڑھنا شروع ہوا، اور ساتھ ہی رقابت کے احساس کی داغ بیل ڈلی۔
جس طرح افراد میں حسِ رقابت کی کمی یا زیادتی کی مختلف نوعیت دیکھنے میں آتی ہے، اسی طرح معروف رائے میں مختلف اقوام میں رقابت کے احساس کے درجات بھی مختلف ہیں، یہ ایک قابلِ بحث موضوع ہےاور اس پر احباب کی مختلف آراء سامنے آ سکتی ہیں، عمومی تصور یہی ہے کہ جہاں جنسیات کی آزادی ہو، وہاں یہ احساس کم ترین سطح پر پایا جاتا ہے، اور غیرمخلوط معاشرے حسِ رقابت کا حقیقی گڑھ واقع ہوئے ہیں، اسی طرح بے شمار دوست اس احساس کو غیرت کے نام سے بھی پکارتے دکھائی دیتے ہیں، کہ جہاں مردوں کی غیرت و عقل پہ اکبر اللہ آبادی والا پردہ پڑ چکا ہو، اور جہاں خنزیر خوری رائج ہو، وہاں انسان غیرت و حمیت جیسے احساسات سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور شخصی آزادی کا نعرۂ مستانہ بلند کرتے ہوئے محبوب کی ہرجائی فطرت پر غوغاں تک کا مرتکب نہیں ہوتا، جبکہ دوسری طرف سے یہ رائے سامنے آتی ہے کہ زراعت کی ابتداء سے اٹھنے والے اس جذبے کو انسان نے اپنے نفسیاتی ارتقاء کے ساتھ ساتھ نہ صرف لگام ڈالی، بلکہ اس کی بنیاد پر اٹھنے والے شکوک اور اگلے قدم میں جرائم پر قابو پایا، اور تمام وہ اقوام جو نفسیاتی ارتقاء کا سفر کچھوے کی رفتار سے طے کر رہی ہیں، ابھی تک اس دلدل میں غرق ہیں۔
یہ تمام آراء اپنی جگہ جزوی طور پر شاید درست بھی ہوں، مگر راقم الحروف کا مشاہدہ ہے کہ رقابت کے احساس میں فرق، اقوام کے درمیان نہیں، بلکہ اجناس کے درمیان ہے، مشرقی ممالک میں مرد ، جبکہ مغربی ممالک میں صنفِ نازک کی اکثریت حسِ رقابت کی شدّت کے علمبردار ہیں، مشرقی ممالک میں زیادہ تر خواتین چونکہ معاشی طور پر مرد کی مرہونِ منت ہوتی ہیں، اسی لیے مرد تحت الشعور میں اپنی محبوبہ، زوجہ، بہن یا بیٹی کو واقعتاً اپنی ملکیت تصور کرتا ہے اور اپنے املاک پر کسی بھی قسم کی سانجھے داری کو نگاہِ غضب سے دیکھتا ہے، مگر مغرب میں عورت کا انحصار مرد پر نہیں، اسی لیے نہ تو وہ مرد کی ملکیت ہے، اور نہ ہی مرد حسِ رقابت کی بابت اس شدت کا اظہار کرتا ہے جو کہ مشرق میں رائج ہے، جبکہ دوسری طرف مشرق، بالخصوص مسلمانوں میں مرد کیلئے زیادہ ازواج ایک عام سی بات تھی ، اور ہے، اس روایت یا ضرورت نے عورت کی نفسیات اور ، صرف میری امانت، جیسے جزبے کو دولخت کر دیا، معاشی حاکم ہونے کے ساتھ ساتھ مرد کیلئے جنت میں وعدۂ حور کے عقائد نے عورت کو جنسیاتی توکل پر مجبور کیا، جس سے مشرق میں مستورات کی حسِ رقابت کی آگ پر گویا کہ سماجی و مذہبی پانی چھڑکا گیا۔
جیسا کہ مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ صرف پتھر ہی اپنی رائے بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں، اسی طرح یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ صرف جمادات ہیں جو حسِ رقابت سے ناواقف ہوتے ہیں، دوسرے جانداروں میں اگرچہ اس احساس کی موجودگی دیکھنے میں آئی ہے، مگر اس کا اصل نشانہ حصرتِ انسان ہی ہے، یہاں اہم سوال یہ ہے کہ حسِ رقابت کی کیا کچھ حدود بھی ہیں ؟ کون طے کرے گا کہ کس نکتہ کے بعد اس احساس کا اظہار دراصل ایک نفسیاتی پیچیدگی کی علامت ہے، اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟
اس احساس کا سب سے بڑا محرک انسان کا عزتِ نفس کے معاملے میں حساس ہونا ہے، اپنے مجبوب یا عزیز فرد کی بے رخی یا ہرجائی پن یقینا ایک حساس انسان کیلئے نہ صرف یہ کہ تکلیف دہ واقع ہوا ہے ، بلکہ عزیز فرد کے اس رویے کی وجہ سے اس کے اپنے مستقبل کی بابت اٹھتے خدشات بھی انسان کو ذہنی اذیتوں میں مبتلا کر سکتے ہیں، اس حد تک یہ ایک مثبت رویہ یا ایک صحت مند جذبہ ہے، اس سے آگے کی صورتِ حال ایک بھیانک حقیقت ہے، جس کا خمیازہ مختلف معاشروں کو مختلف صورتوں میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
عزتِ نفس کی غیر معمولی حساسیت انسان میں خود پسندی اور نرگسیت کو جنم دیتی ہے، ایسی صورت میں محبوب کا رقیب سے میل جول انسان کی برداشت کے تمام پیمانوں کو توڑتے ہوئے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے، جس میں محبوب سے نفرت ، محبوب اور رقیب کے قتل، یا گاہے، خود کشی تک معاملہ جا سکتا ہے، یعنی کہ انسان نرگسیت کے زیرِ اثر یہ برداشت ہی نہیں کر پاتا کہ کوئی اور اس کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک اور دلچسپ نکتہ ملاحظہ فرمائیے، عربی محاورے کے مطابق، انسان دوسروں کو خود پر قیاس کرتا ہے، یعنی کہ انسان کو دوسروں میں وہی نظر آئے گا جیسی اس کی اپنی حقیقت ہوگی، ایسے عشّاق کرام جو ناحق اپنے محبوب ، بیوی (یا شوہر ) کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، بلکہ اس بنیاد پر ان کا جینا حرام کئے ہوتے ہیں،
درحقیقت یہ عشّاق اپنے تحت الشعور میں کسی متوقع معشوقِ ثانی کے ساتھ ہم آغوشی کی خواہش پالے ہوتے ہیں، اگر عاشق نفسیاتی طور پر پاکیزہ ہو تو ناحق شک اور وسوسوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
واقعۂ بے وفائی کے بعد کچھ افراد محبوب کی بجائے رقیب میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں، یہ جاننے کے بعد کہ ان کا محبوب کسی رقیب سے وصل کا داغ اپنے دامن پہ سجا لایا ہے، تو اس رقیب کے بارے جاننے، اس کے متعلق تمام معلومات لینے اور لمحاتِ وصل کب، کہاں، کیسے طے پائے، جیسے لوازمات کی تفصیلات وغیرہ کی خواہش جنم لیتی ہے، اس موقع پر رقیب کے قتل کی منصوبہ بندی جیسے عزائم عاشق کے ذہن میں پروان چڑھتے ہیں، انہی قیامت خیز لمحات میں ایک وقفہ ایسا بھی آتا ہے، جب رقیب کے ساتھ ہمدردی اور اس کے ذوق پر دادِ تحسین دیتے ہوئے اس کے قرب کو من چاہتا ہے، نفسیات کے ماہرین کی رائے میں، ہم جنس پرستی کا تحت الشعوری جھکاؤ رکھنے والے افراد میں اپنے رقیب بارے ایسے ملے جلے جذبات پائے جاسکتے ہیں، آخر فیض کی نظم، رقیب سے، کس جذبے کے تحت لکھی گئی؟
میدانِ محبت میں افراد کی دو مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، ایک وہ جو محبوب کو محبت دینے کے علاوہ کوئی اور خواہش نہیں پالتے، محبوب کی طرف سے بے وفائی کے بعد ایسے افراد عموماً شاعری، تصوف، یا کوئی اور بے ضرر رجحان رکھتے ہیں، دوسری قسم وہ ہے، جو محبوب سے جوابی محبت کے طلبگار ہوتے ہیں، یعنی کہ معشوق کا معشوق ہونا ان کیلئے انتہائی ضروری ہوتا ہے، اگر ایسے افراد کا محبوب بے وفائی کا مرتکب ہوگا تو خدشہ ہے کہ محبوب، عاشق اور رقیب میں سے کوئی ایک، دو یا تینوں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *