ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔۔مجاہدافضل

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم نظام  تعلیم  کو تبا و برباد کرنے والوں کے لیے ،اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے، مگر ہم پرائیوٹ نظام تعلیم کیلئے پیسے لیکر لائسنس جاری کرنے والے ،سیاسی لٹیروں کی الیکشن کمپین میں لگے رہے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا ہم گندے سرکاری ہسپتالوں میں گلتے سڑتے مریضوں اور سیالکوٹ جیسے شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک غریب انسان کا 40 دن تک آپریشن نہ کرنے والے ہڈیوں کے شعبہ جات کے سربراہ ڈاکٹر سے انکی سستی اور نوکری سے بددیانتی کی وجہ گردانتے ،مگر ہم خواجاؤں کو اہل کروانےاور شور مچانے کے پیچھے لگ گئے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا، ہم دہشتگردی اور لوگوں کے قتل  میں ملوث ملزم کم مجرموں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے مگر ہم ان کو سیاسی ٹکٹ ملنے پر مبارک باد دینے اور ان کے ڈیروں سے مفت کی مٹن کڑاہی  اور جلیبی کھانے  میں لگےرہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا، ہم لوگ ڈ ھوک اللہ داد گجر خاں، ضلع راولپنڈی میں پانچ دن کی بچی کو زندہ دفن کرنے والے واقعہ پر اپنی زمانہ جاہلیت کی سوچ و تربیت کو روتے اورکم ازکم سوشل میڈیا پر اپنا پر اثر احتجاج ریکارڈ کرواتے ،مگر ہم نے بہت زیادہ غیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، عمران خان کی مذہبی تربیت کرنا شروع کردی، اور میرے جیسے زیادہ سمجھ رکھنے والے نوجوانوں نے عمران خان کے سجدے اور بوسےکو اسلامی فتووں سے جائز اور ناجائز قرار دینے کی سرتوڑ کوشش کی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا عمران خان ہماری طرف سے سڑکوں اور درباروں پہ دھمال ڈالتا پھرتا ،مگر ملک پاکستان کے لیے اس کا سیاسی اور معاشی منشور دیکھا جاتا ،مگر ہم نے ایک ویسٹرن گریجوایٹ سے سیاست کی جگہ مذہب سیکھنے کی رٹ پتہ نہیں کیوں لگا رکھی ہے ،اگر ہم نے اپنا مذہب کسی سیاسی راہنما سے سیکھنا ہے تو بہتر ہے ہم مولانا فضل الرحمٰن ،سراج الحق ،خادم حسین رضوی یا حق نواز جھنگوی جیسے کسی انسان سے سیکھ لیں ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا ہم اپنی ذہنی استطاعت اور اصلاحات کو بہتر بنانے کے لیے قرآن و حدیث کو دیکھتے ،مگر ہم ان مولوی حضرات کے پیچھے لگ گئے، جو کسی مسجد میں کئی سالوں سے درس دینے کا کام سرانجام دے رہے ہیں، مگر اپنے اردگرد سو, دو سو لوگوں کی زندگی کو بھی تبدیل نہیں کر سکے ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان اپنے سیاسی و معاشی منشور پر چوروں کو ساتھ ملائے  بغیر قائم رہتے ،مگر کسرنفسی سے کام لیتے ہوئے وہ بھی سیاسی لوٹا کریسی کی بھیڑچال میں نام لکھوانے میں کامیاب ہوگئے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم قائداعظم کاپاکستان زندہ رکھتے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کروانے کی جگہ دنیا کی معاشی سپر پاور بناتے، مگر ہم  ایک کالا باغ ڈیم تک نا بنا سکے.

ہونا تو بہت کچھ چاہیے تھا مگر افسوس صد افسوس ہم بین لاقوامی لحاظ سے معذور ،شرعی لحاظ سے عاری ،سماجی لحاظ سے نکھٹو ،معاشی لحاظ سے اسحاق ڈار اور تعلیمی لحاظ سے لولے لنگڑے سلطان نکلے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *