آپ کون ہیں؟۔۔۔۔سید شاہد عباس کاظمی

پاکستان میں سیاسی دنگل کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔ پارٹی ٹکٹ اس وقت کاغذ کا ایسا پرزہ بن چکا ہے کہ  جس کے لیے اُمیدوار ہر حد سے گزرنے کو تیار ہیں۔ یہاں یہ بات یقیناً  قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی صف اول کی تمام سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں لیکن ہر پارٹی کے ٹکٹ کی وقعت الگ ہے۔ کہیں پہ کوئی پارٹی خود ٹکٹ ہاتھوں میں لیے اُمیدوار تلاش کر رہی ہے تو کسی جگہ ایک سے زیادہ اُمیدوار پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے نہ صرف آپس میں باہم دست و گریباں ہیں بلکہ پارٹی قائدین کی رہائشگاہوں کے باہر دھرنے دیے بیٹھے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین ایسی جماعتیں ہیں جو ٹکٹ کے لحاظ سے اس وقت ہاٹ کیک ہیں۔

پاکستان میں انتخابات 2018 کی گہما گہمی پورے عروج پر ہے۔ تمام پارٹیاں اُمیدوار فائنل کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سبقت تحریک انصاف لے گئی۔ اور سب سے زیادہ حلقوں سے اُمیدوار نامزد کر دیے  اور یہی سبقت لے جانا پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کے میدان میں بھی لے آیا ہے۔ چاروں طرف سے لفظوں کے پھالے، طنز کے تیر، آنکھوں کے نیزے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بظاہر چھیدتے جا رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ پاکستان تحریک انصاف کی بلوغت کی طرف اہم قدم ہیں۔ انسان اٹھارہ سال کی عمر میں بالغ ہو جاتا ہے مگر ایک سیاسی پارٹی بائیس سال کی عمر میں بھی طفل مکتب ہو تو حیرانگی نہیں ہوتی۔

پاکستان تحریک انصاف نے اس دفعہ پارٹی ٹکٹس کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف پرانے کارکنوں کو موقع دیا ہے بلکہ کثیر تعداد میں نئے آنے والوں کو بھی ٹکٹس دیے ہیں۔ اور یہی عمل تنقید کی وجہ بن رہا ہے۔ جس پہ پارٹی چیئرمین سے لے کے ایک علی محمد خان(جو ایک انتہائی قابل شخصیت اور پارٹی کے دیرینہ ساتھی ہیں اور خود بھی پارٹی ٹکٹ سے محروم رہے) وضاحتیں دے رہے ہیں۔ اور ٹکٹ ہولڈر سے زیادہ لوگوں کو پارٹی سے وفاداری کا درس دے رہے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی کلچر میں تنقید روزِ اول سے اہم ہتھیار ہے۔ مگر ہم جو تنقید تبدیلی کے نام پہ کر رہے ہیں۔ ہماری نظر میں کیا تبدیلی ہے؟ کیایہ تبدیلی نہیں ہے کہ ایک ایسی سیاسی پارٹی جس کے ٹکٹ کی مانگ اس وقت ایسے ہی ہے جیسے شدید گرمی میں کولڈ ڈرنکس والی شاپ پہ رش ہوتا ہے وہ اتنی مانگ کے بعد بھی اپنے کارکنوں سے غافل نہیں اور ان کا احتجاج نہ صرف سن رہی ہے بلکہ اس پہ فیصلے بھی کر رہی ہے۔ NA-59 کا ٹکٹ غلام سرور خان کو مل گیا(وہ NA-63 سے بھی نامزد اُمیدوار ہیں)۔ 2013 میں اجمل صابر راجہ نے نہ صرف پارٹی ٹکٹ پہ انتخاب میں حصہ لیا تھا بلکہ چوہدری نثار جیسے اُمیدوار کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ اجمل صابر نے بنی گالہ جا کے احتجاج کیا، پارٹی نے نا صرف احتجاج سُنا بلکہ چیئرمین نے ملاقات کی اور NA-59 کا ٹکٹ بھی اُن کو دیا۔ یعنی اجمل صابر نے دلائل دیئے ہوں گے، چیئرمین کو یقیناً  قائل کیا ہو گا۔ NA-72 میں بھی معاملہ پارٹی کے اندر ہی سلجھ گیا۔ NA-53 میں بھی چوہدری الیاس مہربان سے خود چیئرمین نے ملاقات کی جس کے بعد سے وہ بھی خاموش ہیں۔ یقین دہانیاں ہوئی ہوں گی۔ اعتماد پیدا ہوا ہو گا۔4500 سے زائد ٹکٹ کی درخواستیں موصول ہونے کے بعد یہ تو ممکن تھا نہیں کہ سب اُمیدوار بن پاتے، اور یقیناً  جن کو ٹکٹ نہیں مل پاتا وہ مایوس بھی ہوتے ہیں۔ لیکن حیرت اس بات پہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ دینے نہ دینے کے معاملے پہ دوسری پارٹیاں تنقید کے نشتر کیوں برسا رہی ہیں۔

خبر ہے کہ حکومتی پارٹی کو جھنگ سے اِس دفعہ اُمیدوار ہی نہیں مل پایا۔ کیا اس طرح کی انہونیوں کی خفت مٹانے کو تنقید کی جا رہی ہے؟
ٹکٹس کی تقسیم تو پاکستان تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے۔ اُمیدوار اگر برے ہیں تو انتخابی مہم میں میدان کھلا ہے۔ تنقید کریں اُمیدواروں کے کردار پہ بحث کریں۔ اُن کی خامیوں پہ بحث کیجیے۔ اُسے تحریک انصاف نے ٹکٹ کیوں دیا اسے تو پارٹی کا اندرونی معاملہ رہنے دیجیے۔ جس طرح سے تنقید کا بازار گرم ہے اس سے اشارے  تو یہی ہیں کہ باقی جماعتیں تحریک انصاف کے اُمیدواروں کی نامزدگی سے ہی پریشان ہو رہی ہیں الیکشن تو ابھی پچیس جولائی کو ہونے ہیں۔ شاید اس دفعہ الیکٹیبلز کی جو اصلاح سامنے آئی ہے اس پہ تنقید کی وجہ یہی ہے کہ باقی پارٹیوں کے پاس الیکٹیبلز کی تعداد مطلوبہ تعداد میں نہیں رہی۔ اور پی ٹی آئی کے ٹکٹس کی تقسیم پہ احتجاج تو اس بات کو بھی ظاہر کر رہا ہے کہ لوگ ٹکٹ لینے کے لیے کس قدر بیتاب ہیں۔ چلیے عمران خان نے نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹ نہیں دیا آپ کسی نظریاتی کو ہی دے دیجیے۔ آپ ثابت کیجیے کہ آپ نے ان سے اچھے امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پارٹیوں کی طرف سے اُمیدواروں کی فہرستیں بنانے، وقت سے پہلے اعلان کرنے جیسے فیصلوں کی روایت ہی نہیں تھی عوام کو ،بس کوئی اُمیدوار آتا تھا، انتخابی نشان سجے بینر دیتا تھا اور بس۔ اب تو نامزدگیوں پہ بحث ہونے لگی ہے۔ احتجاج ہو رہے ہیں۔ نامزدگیوں کی واپسی ہو رہی ہے۔ امیدواروں کے تحفظات سنے جا رہے ہیں۔ کمیٹیاں بن رہی ہیں۔

لیکن عرض اتنی سی ہے کہ پارٹیوں کے اندرونی معاملات کو اپنی انتخابی مہم کا موضوع نہ بنائیے۔ بلکہ کارکردگی دکھا کے ووٹ مانگیے۔ کیوں کہ کسی ووٹر کے سامنے آپ نے کسی پارٹی کے ٹکٹس دینے کو موضوع بحث بنا لیا اور ووٹر پوچھ بیٹھا کہ بھئی پارٹی اُن کی، ٹکٹ دیں نہ دیں اختیار اُن کا، کس اُمیدوار کو دیں فیصلہ اُن کا، آپ بیچ میں کون ہیں، آپ کون ہیں جو پارٹی کے اندرونی معاملات زیر بحث لا رہے ہیں تو آپ کے پاس کیا جواب رہ جائے گا؟
یہ”زُبانِ اہلِ زمیں “ہے۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *