کورنٹائن کسے کہتے ہیں؟۔۔درخشاں صالح

SHOPPING
SHOPPING

ایک خاص مدت کے لئے کسی بیماری کی وجہ سے ایک جگہ پر رہنا Quarantine کہلاتا ہے اس کو طبّی قید بھی کہتے ہیں جس کی مدت چالیس دن ہے۔

قرنٹائن عربی کا لفظ ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے (خصوصا ًبندرگاہیں) ہیں جہاں ایسی اشیاء اور جانداروں کو مخصوص مدت کے لیے مشاہدے اور علاج کی غرض سے رکھا جاتا ہے، جس سے کسی مرض کے پھیلنے کا خدشہ ہو، ان کو شفا یاب ہونے تک اس مخصوص مقام پر رکھا جاتا ہے۔ اس میں لوگوں اور سامان کی آمدورفت محدود کردی جاتی ہے تاکہ وبائی امراض سے بچا جا سکے۔
کورنٹائن صرف ان لوگوں کو کیا جاتا ہے جن کے بارے میں پورا یقین ہو کہ یہ لوگ وبائی امراض سے متاثرہ ہیں تاکہ صحت مند افراد میں یہ مرض منتقل نہ ہو سکے۔
حضرت محمدﷺ نے سب سے پہلے کورنٹائن ہونے کی ہدایت  دی  تاکہ pandemic امراض سے بچا جا سکے، جس کی پیروی فارسی طبّی اسکالر ابن سینا نے بھی کی تھی۔

ابن سینا کے مطابق کچھ بیماریاں مائیکرو آرگنزم سے پھیلتی ہیں جو کسی بھی انسان کو انسانی آلودگی سے لگ سکتی ہیں، اس طرح کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا اس میں لوگوں کو چالیس دن کے لیے الگ تھلگ رکھا گیا، انہوں نے اس طریقہ کار کو “ال اربائینہ” چالیس دن کا نام دیا۔

کچھ تاجر جو اٹلی کے شہر وینس سے آئے تھے انہوں نے ‏ جب وبائی بیماریوں کے علاج کے کامیاب طریقہ کار کو دیکھا تو وہ اس معلومات کو اپنے ساتھ اٹلی لے گئے اور اس کو Quarantine کا نام دیا یعنی چالیس دن۔

رضاکارانہ برادری میں سب سے پہلے Quarantine کی دستاویز خلافت عثمانیہ میں 1938 میں بنائی گئی۔

پیلے، ہرے اور کالے  رنگ کا جھنڈا، اس بات کی علامت ہے کہ یہاں وبائی امراض کے مریض موجود ہیں۔ آجکل اس مقصد کے لیے جو جھنڈا استعمال ہو رہا ہے اسے “Lima” (L)” کہتے ہیں۔ کبھی کبھی اس کو Yellow Jack کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔Yellow Fever یعنی وبائی بخار۔

سیلف کورنٹائن COVID 19, Pandemicکے وقت میں سب سے زیادہ 2020 میں، زیادہ تر ممالک میں اپنائی گئی ہے۔ جہاں شہریوں کی اس لئے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کے وہ زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہیں تاکہ وائرس نہ پھیلے۔

سخت قسم کا COVID 19, Quarantine ‏کی صورت میں حال ہی میں پوری دنیا میں اپنایا جا رہا ہے۔

SHOPPING

میں اپنی بات دوہراؤں گی کہ
“گھر پر رہیں، صحت مند رہیں”

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *