نائب صوبیدار کی ماں آنکھ۔۔قاضی شیراز احمد ایڈووکیٹ

جمہوریت،سیاست اور قانون پر چند نامور اور شہرہ آفاق کتب لکھنے والے ارسطو کا ایک مشہور فقرہ ہے۔”کہ قانون مکڑی کا وہ باریک جالا ہے جس کو بڑے جانور توڑ کر نکل جاتے ہیں جبکہ چھوٹے چھوٹے حشرات الارض اس میں پھنس جاتے ہیں۔اس کا عملی مظاہرہ چند یوم قبل دیکھنے کو ملا ،جب ایک کرنل صاحب کی زوجہ محترمہ ہزارہ موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے پولیس کے لگے عارضی ناکے کو انتہائی دلیری اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توڑ کر گزریں۔موصوفہ چیخ چیخ کر خود کو کبھی کرنل کی بیوی،کبھی آرمی آفیسر کی بیوی بتا رہی تھیں۔اب یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ موصوفہ اپنے قول کی کتنی سچی ہیں۔

خیر اب دنیا ان کو کرنل کی بیوی کے نام سے جانتی رہے گی۔پولیس اہلکاروں نے جب انہیں بتایا کہ وہ آگے رابطہ کر رہے ہیں اور جوں ہی اجازت ملتی ہے ان کی گاڑی کو چھوڑ یا جائے گا۔جس پر موصوفہ نے پوچھا کس سے رابطہ کررہے ہو تو اہلکار نے بتایا کہ حویلیاں ہیڈ کوارٹر 64 ایف ایف کے نائب صوبیدار صاحب سے تو موصوفہ کو سخت غصہ آگیا اور ان کے اندر ایک روایتی بیوی کی روح اتر آئی اور فوراً ہی تہذیب و شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک گالی دے ڈالی کہ نائب صوبیدار کی ماں کی آنکھ، وہ کون ہوتا ہے اجازت دینے والا۔میں ابھی جاکر اس کی وردی اترواتی ہوں۔اس سے قبل بھی میں نے کچھ لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا ہے۔میں کرنل کی بیوی ہوں۔

اب بھائی بیوی کرنل کی ہو یا عام پاکستانی کی ،بیوی تو بیوی ہوتی ہے۔جب وہ اپنے والدین کے گھر سے رخصت ہوتی ہے تو لامحدود اختیارات لے کر خاوند کے گھر آتی ہے۔بلکہ یوں کہہ لیں وہ سر پر کفن باندھ کر نکلتی ہے۔کیونکہ اس کو آگے ساس،سسر اور نندوں کا زنانہ وار مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔وہ یہ سر فروشی کی دھن سر پر سوار کیے نکلتی ہے کہ کچھ بھی ہوجائے سسرال میں اپنا مقام پیدا کرنا ہے۔اس کے لیے وہ سرد جنگ،زبانی گولہ باری اور ضرورت پڑنے پر ہاتھا پائی کے لیے ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتی ہے۔اور خاوند تو اس کے لیے نائب صوبیدار کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر کوئی تھوڑا سا بہادر نکل آئے تو وہ دشمن ملک کا جاسوس گردانا جاتا ہے۔اس موقع  پر مجھے مشتاق احمد یوسفی صاحب یاد آگئے۔آپ نے فرمایا”سارا دن ایک دوسرے سے لڑائی کے بعد رات کو ایک ہی مورچے میں آرام کرنے والے با اصول جنگجوؤں کو اردو میں میاں بیوی کہتے ہیں”۔

کرنل صاحب کی بہادر اور نڈر بیویوں جیسی عورتیں پاکستان کے ہر دوسرے گھر میں پائی جاتی ہیں۔مگر رب کائنات نے ان کی بہادری پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ہمارے پاکستانی ڈرامے ہماری بیگمات کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔گھریلو سیاست اور سازشوں کے جال بننا ہمارے رائٹر اور ایکٹر سکھاتے ہیں۔جس سے ان کی دال روٹی چلتی ہے اور باقی عوام کے چولہے بجھے رہتے ہیں۔رہی بات آرمی کے افسران کی بہادر بیگمات کی تو جناب وہ کہاں اور ایک عام پاکستانی کہاں۔پولیس اہلکار کی سادگی تو دیکھیں وہ قانون کا دفاع کرنے چلا۔دور جدید کے پڑھے لکھے ہمارے سادہ پولیس اہلکار قانون کی نظر میں سب کو برابر سمجھ بیٹھے۔ارے بھائی!ابھی کہاں وہ زمانہ آیا جب پاکستانی قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے اور ملکی آئین و قانون کا احترام عمل میں لایا جائے گا۔اس کے لیے ضروری ہے شہری پڑھے لکھے اور باشعور ہوں۔بہترین درسگاہوں سے تربیت یافتہ ہوں۔ہمارے ہاں تو نامور جامعات سے منوں کے حساب سے منشیات اور پروفیسر صاحبان کا لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنا  معمول بنتا جارہا ہے۔اور باقی رہی سہی ساکھ ماں کے لاڈلے میل طالب علم دنگے فسادات سے پوری کر رہے ہیں۔جو کسی بھی ملک اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔تو اس صورت حال میں ایف۔اے یا ایف۔ایس۔سی پاس ہمارے فوجی افسران کی بہادر بیگمات کو قانون سکھانے کی جسارت کرنے والے وہ پولیس کے بہادر سپاہی قابل ترس ہیں۔مگر پھر بھی اس پولیس اہلکار کی سر توڑ کوشش قابل تحسین ہے۔ایک شاعر کے سے معزرت کے ساتھ یہ ترمیمی شعر پیش ہے کہ۔
صوبیدار نے اتنا روکا، اتنا روکا ،جتنا روکا جا سکتا تھا،
لیکن کرنل کی بیوی کو کتنا روکا جا سکتا تھا۔۔۔؟

اس پر حیرت یہ ہوئی کہ سوشل میڈیا پر دو گروہ آمنے سامنے آگئے۔ایک اس خاتون کو وکیل یا وکیل صاحب کی بیوی ثابت کر رہا تھا اور دوسرا گروہ اس بہادر،جری اور بے باک خاتون کو کرنل کی بیوی ثابت کرنے پر سر گرم عمل تھا۔بیوی جس کی بھی تھی مگر تھی کمال، جس نے وائس آف امریکہ جیسے نیوز نیٹ ورک تک بھی رسائی حاصل کر لی۔انہوں نے بھی اپنے ویب پیج پر اس کو جگہ دی۔اس واقعے نے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام عوام کو یہ پیغام دیا کہ اس ملک میں قانون کی بالادستی نام کی کوئی چیز نہیں۔اگر کرنل صاحب کی بیوی کی جگہ کسی عام پاکستانی کی بیوی ہوتی تو یقیناً اس کی حالت باعث عبرت ہوتی کیونکہ ہماری بہادر پولیس اپنی دلیری اور پیشہ ورانہ صلاحیت ایک عام  پاکستانی کے لیے سنبھال کر رکھتی ہے۔اس کے علاوہ جو جگ ہنسائی ہوئی وہ الگ۔یہ ثابت ہوگیا کہ ہم کس قدر اخلاقی پستی کا شکار ہیں۔ہمارے ہاں قانون کی کس قدر حکمرانی ہے۔اور ہمیں ابھی ایک ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ قوم بننے میں کتنا عرصہ درکار ہے۔یہ افسر شاہی اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جہاں افسر اور امیر کے لیے الگ قانون اور غریب اور ماتحت کے لیے الگ قانون ہو۔خصوصا ً قانون نافذ کرنے والے ادارے دوہرے معیار کے حامل ہوں۔آرمی چیف نے اس واقعے کا نوٹس تو لیا ہے میں تو کہوں گا کہ اگر واقعی یہ موصوفہ کسی کرنل صاحب کی بیوی ہیں تو وہ کرنل نشان حیدر کا مستحق ہے جس نے اتنے عرصہ سے یہ مورچہ تن تنہا سنبھالا ہوا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *