والٹیئر کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ۔۔ ملک جان کےڈی

والٹیئر کی عمر اس وقت 39 برس تھی مگر وہ غیر شادی شدہ تھا جب کہ 27 سالہ ایمیلی شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں تھی اور اس میں جنسی کشش بے پناہ تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی۔ فرانسیسی کے علاوہ لاطینی زبان جانتی تھی۔ سائنسی علوم سے اسے گہرا لگاؤ تھا اور وہ تاریخ اور لسانیات کے مطالعے کی بڑی شوقین تھی۔ والٹئیر یپار سے اسے فلسفی اور گڈرنی کہا کرتا تھا۔ ایمیلی پر محبت کرنے کا جنون سوار تھا۔

جب والٹئیر سے اس کی ملاقات ہوئی تو وہ محبت کی متلاشی تھی، جو اس کو اپنے شوہر مارکیوس سے نہ ملی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایمیلی کے شوہر کے مالی حالات زیادہ اچھے نہ تھے۔اس لیے وہ عموماً گھر سے دور فوجی مہموں میں مصروف رہتا تھا۔ والٹیئر سے پہلے پیرس میں ایمیلی  کے چار پانچ معاشقوں کا بڑا چرچا ہوا تھا، جن کو اس کے شوہر نے کوئی اہمیت نہ دی تھی بلکہ ایمیلی کے تمام معاشقوں کو ذہنی طور پر قبول کر رکھا تھا۔بلیجم کی سرحد کے قریب سائبرے کے مقام پر ایمیلی کی ایک قدیم دیہی حویلی تھی ،اسی حویلی میں اس نے والٹئیر کو رہنے کی پیش کش کی۔ والٹیئر کی رہائش کے بعد ایمیلی بھی اسی حویلی میں آگئی اور پھر دونوں مل کر رہنے لگے۔ان کی رفاقت برسوں تک رہی۔ وفات کے اس سفر میں  اتار چڑھاؤ آتے رہے ۔ دونوں کا مزاج آتشی تھا ۔ وہ آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد گھل مل جاتے۔

ایک موقع  پر والٹیئر نے سائبرے کی رنگین شاموں کو یاد کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ” میں شہوت انگیز ایمیلی کے خوبصورت جسمانی خدوخال اور ذہنی رفاقت سے بے حد متاثر اور مطمئن ہوا۔ مجھے ایمیلی جیسی عورت ہی پسند تھی اور میں سائبرے کی عیش و عشرت پر مبنی راتوں کا شیدائی تھا۔ چنانچہ مسرت اور سرمستی کے ان لمحوں کو پاکر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں ارضی جنت اور حوروں کے جھرمٹ میں آگیا ہوں ”۔

جب 1749 کو ایمیلی کا انتقال ہوا ،جو بلاشبہ والٹیئر کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔اپنی زندگی کے اس منحوس ترین دن کو یاد کرتے ہوئے والٹیئر نے اپنی بھانجی(مادام ڈینس) کو ایک خط کے ذریعے اپنا دکھ یوں بیان کیا  کہ” بدقسمتی سے میں اپنی محبوبہ  ایمیلی سے محروم نہیں ہوا بلکہ میں خود اپنے وجود کا آدھا حصہ گنوا بیٹھا ہوں، اور ایک نامکمل انسان ہوں کیوں کہ میری اس ایمیلی کے ساتھ برسوں پرانی رفاقت ختم ہوگئی ہے جو میری روح اور دل میں سمائی ہوئی تھی اور جس نے مجھے دوستی ، وفا اور محبت کا درس بھی دیا تھا”۔

ایمیلی کی موت کے بعد چند دن والٹیئر سائبرے کی حویلی میں سوگ مناتا رہا اور پھر وہ پروشیا کے بادشاہ فریڈرک اعظم کے بلاوے پر جرمنی روانہ ہوگیا۔ وہاں پوسٹ ڈکے شاہی دربار میں والٹیئر نے تین سال گزارے۔ وہاں سے نکل کر جینوا کے نزدیک ایک نئے علاقے ”فرنے” میں جھیل کے کنارے پر واقع ایک محل نما مکان میں رہنے لگا۔ یہ علاقہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدوں کے قریب واقع تھا۔ ‘فرنے’ کا محل اس نے اپنی بھانجی مادام ڈینس کے نام پر خریدا تھا جو مصورہ تھی ۔ اور جس نے والٹیئر  کے خون کو گرم رکھنے کی خاطر مکان کی درودیوار کو ننگی تصویروں سے بھر دیا تھا ”۔ فرنے” میں قیام کے دوران دو کتابیں فلسفیانہ لغت، اور مشہور ناول  کاندید ، لکھا۔  اس کے علاوہ اس کی  کئی فلسفیانہ کہانیاں ” جیسنوئٹ اور کولن، چالیس کراؤن رکھنے والا آدی، جینی کی تاریخ ، بابل کی شہزادی، سفید سانڈ، اور سیاہ و سفید” وغیرہ بھی شامل ہیں جو دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی تھیں۔

ان کہانہوں کے علاوہ والٹیئر  نے اس زمانے کے حالات و واقعات ، سیاسی جبر و استحصال اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف بے شمار مضامین اور پمفلٹ بھی لکھے جنہوں نے عوام کے دلوں میں سیاسی شعور پیدا کیا، خوشحالی کےلئے والٹیئر نے اس علاقے کے ادرگرد بہت سے درخت لگوائے اور زراعت کو ترقی دی۔ محنت کشوں کےلئے ایک کالونی تعمیر کروائی۔ مزدوروں کےلئے رہائش کا بندوبست کیا اور ان سب کی تفریح کےلئے ایک تھیٹر اور عبادت کےلئے ایک گرجا گھر بھی بنوایا ،اس نے گھڑیاں بنانے والے کاریگروں کو سوئٹزرلینڈ سے لاکر یہاں آباد کیا ،جس کی وجہ سے ” فرنے” گھڑی سازی کی صنعت کا ایک اہم مرکز بن گیا اور اس کی شہرت پورے یورپ میں پھیل گئی ۔ اس کی رہائش  گاہ یورپ میں نیا شعور رکھنے والوں کےلئے زیارت گاہ بن گئی ،جہان  وا بے شمار لوگ اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے آتے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *