آن لائن عاشقی۔۔۔حسن کرتار

سنو جاناں 1

سنو جاناں 2
سنو جاناں 3
سنو جاناں 4
سنو جاناں 5۔6۔7۔8۔9۔10۔11۔۔۔۔

کیوں دیکھتی ہو کس کس نے پوسٹ لائیک کی
کیوں دیکھتی ہو کس نے کیا کمنٹ کیا
کیوں ان سے جلتی ہو جو نہ میری ہیں نہ اور کسی کی
کیوں ہر وقت چیک کرتی رہتی ہو

میں کب آخری بار آن لائن تھا
میں اگر دن کو آن لائن ہوں
چاہے رات کو دیر گئے آن لائن ہوں
میرا یقین کرو میں کسی سے خاص چیٹ نہیں کرتا
جب تم سے ہی چیٹ نہیں کرتا تو پھر اور کس سے کروں گا اور کیا کروں گا؟

کیا تم نہیں جانتیں اکثر دیسی ایک جیسے ہیں؟
ہاں میں بھی تمہارے جیسا ہوں مگر
چرسی بھی ہوں، شرابی بھی ہوں
جواری بھی ہوں کھلاڑی بھی ہوں
اور پھر اس جیون میں
سنگیت بھی ہے، بے زاریاں بھی ہیں، ناکامیاں بھی
سیاست بھی۔ ہزار سوال بھی ۔ ہزار جواب بھی
مقدس کتابیں بھی۔ فیس بک بھی۔
غرض سواۓ جاناں کیا ہے جو نہیں ہے؟

سوچو جس کو اتنے مرض لاحق ہوں
سوچو وہ کیسے ان لڑکیوں سے لمبی لمبی چیٹ کرسکتا ہے
وہ لڑکیاں جو بس چیٹ ہی کرنا چاہتی ہیں
وہ لڑکیاں جو بس چیٹ ہی کر سکتی ہیں
سوچو کیا میں اب اتنا دیسی ہوں؟
بند کرو یہ فون
جاؤ تم بھی اب سو جاؤ۔
وہ تصویریں تکو جو زندہ نہیں ہوسکتیں
وہ تکیے چومو جنہیں جیسے بھی چومو کچھ نہیں کہتے
وہ تکیے جن کے ساتھ کچھ بھی کرو اُف نہیں کرتے
وہ تکیے جو تم بھی ہو وہ تکیے جو میں بھی ہوں
وہ تکیے ،وہ کمبل ،جو کچھ دیر بعد سب نوجواں دلوں کے جانو 1۔2۔3۔4۔5۔6۔7۔8-9۔-10۔11۔۔۔۔ ہوں گے

بند کرو یہ نیٹ اب سو جاؤ
میں بھی یہ آخری سگریٹ پی کر شاید سو جاؤں
گڈ نائٹ!
اور ہاں تم بھی میری طرح
سونے سے پہلے
دس بیس بار ضرور چیک کرنا کہ
کون کون آن لائن ہے؟۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *