• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اہل مذہب کا سیاسی مقدمہ،تنقیدی مطالعہ کی روشنی میں۔۔۔۔۔ محمد انس انیس

اہل مذہب کا سیاسی مقدمہ،تنقیدی مطالعہ کی روشنی میں۔۔۔۔۔ محمد انس انیس

سیاسی لحاظ سے  اسلامی جماعتیں یا اہل مذہب انفرادی و اجتماعی طور پر ووٹ کی کمی اور  عدم مقبولیت کا کیوں شکار ہیں ،اس تنزل پر ہر باشعور فرد کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے خصوصاً ان حالات میں کہ جب مذہبی مکاتب فکر کی اکثریت آئینی و قانونی راستے پر خود کو ڈال چکی ہے جو کہ بلا شک و شبہ قابل تحسین و خوش آئند بات ہے اس سے بتدریج سیاسی لحاظ سے اپنی کامیابیوں و ناکامیوں کا ادراک کر سکیں گے جس سے شدت پسندی تفرقہ بازی میں بڑی حد تک کمی آئی ہے اور مزید آئے گی . اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو غور و فکر کے مختلف زاویے سامنے آتے ہیں جن پر سنجیدگی سے مکالمے کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے تاکہ باہمی افادہ و استفادے کی راہیں مسدود نہ کی جا سکیں۔

بلاشبہ آئینی و قانونی راستے کا انتخاب لائق تحسین ہے۔جمود کا شکار ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہیے بلکہ بتدریج اس سے آگے بڑھنا چاہیے۔
دیکھا جائے تو چند ایک مذہبی سیاسی جماعت  کے ماسوا باقی  جماعتیں جلد یا بدیر زوال کی جانب گامزن نظر آ رہی ہیں اور اس تنزل میں مختلف عناصر کا کردار بیک وقت شامل ہوتا ہے جس میں انفرادی عمل،جماعتوں پر شخصی تسلط،ٹھوس منصوبہ بندی کا فقدان، سماج سے دوری  اور اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ غیر آئینی طریق کا استعمال وغیرہ یہ سب عناصر مختلف انداز میں تشکیل و نمو پاتے ہیں۔

مشاہدہ یہ بتلاتا ہے کہ  مذہبی شعور کے فقدان،قومی و عالمی سیاسی حرکیات سے ناواقفیت کی بنا پر ہمارا ایک طبقہ شدید مایوسی و ڈپریشن کا شکار ہوچکا ہے یا ایسے مافیا کے شکنجے میں پھنسا بیٹھا ہے جنہوں نے ہر موسم کے موافق اسکی نفسیات پر گرہ لگا کر ذہنی و نفسیاتی طور پر اپاہج بنا رکھا ہے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم جس دور انحطاط سے گزر رہے ہیں اس کے مُستقبل میں اسباب و عواقب سے شدید بےخبری کا شکار ہیں. لاریب یہ کہ ہمارے ہاں اتحاد و اتفاق کا نعرہ بھی بلند کیا جاتا ہے اور ہر ہر مکتبہ فکر اس حوالے سے کسی نہ کسی عالمی تحریک کو لیے دلی جذبات رکھتا ہے لیکن مذہبی طور پر شدید انتشار و افتراق کا شکار ہے اور ان میں اتنا بانکپن ہی نہیں جو ایک حد سے اوپر اٹھا کر فکرونظر کے دیگر زاویے وا کرنے پر مجبور کر دے۔

المیہ یہ نہیں کہ شدید اختلافات اپنی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں(اختلافات اپنے دائرہ کار میں رہیں تو سراسر باعث رحمت ہیں) المیہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر اتحاد و اتفاق (یا کمتر درجے میں ان باہمی علمی نزاعات و مناقشات کو پبلک کے سامنے لانے والوں کی مسلکی یا جماعتی بالادستی کی بجائے بھرپور حوصلہ شکنی کی جاتی ) کی ایسی کوئی سبیل پیش نہ کی جا سکی جس سے تفرقہ بازی کا وہ لاوا نہ ابھرا جسے مقتدر طبقات اپنی خواہشات کی تکمیل، مذہبی جماعتوں کی باہمی دست و گریبانی، بین المسالک مناظروں مجادلوں کی شکل و صورت میں استعمال کرتے ہیں۔

اگرچہ سیاسی سطح پر ایسی اٹھک بیٹھک ہوتی رہتی ہے لیکن الیکشن کا بازار سرد پڑتے ہی سب پرندے حسب معمول واپس اپنے اپنے گھونسلوں کی جانب رخت سفر باندھ لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے سماج میں تفرقہ بازی کا مکروہ و مذموم عنصر عالمی خواہشات کی تکمیل کے لئے ریاستی سرپرستی میں اس شدت سے پیدا کیا گیا کہ جس کے زہریلے اثرات نے پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سماجی معاملات میں مذہب کے اخلاقی پہلوؤں کو بری طرح نظر انداز کر دیا گیا جس کے تلخ نتائج آج ہم گلیوں،کوچوں و چوراہوں میں بھگت رہے ہیں۔

معاشرتی مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے آج خطابت میں ہمارا واحد محبوب مشغلہ معاصر شخصیت پر مشق ستم ڈھانا رہ گیا  ۔جس کے نتائج یہ نکلے   کہ  یہاں مذہب و سیاست،سماج و اہل مذہب میں تفریق کی خلیج مزید گہری ہونے لگی جس میں پہلے سے ہی دینی و عصری تعلیم کے نام دراڑیں موجود تھیں۔
افسوسناک طور پر یہاں مذہب کی حیثیت ایک کاروبار کی سی ہو گئی جسے محض مفادات کے تحفظ کے لئے سیاسی و شخصی خواہشات کی تسکین کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔فرد کا رشتہ مذہب و اہل مذہب سے کمزور ہو کر ایک رسمی و رواجی طور پر رہ گیا اہل مذہب کی کمزوریوں، باہمی ناچاقیوں کا اثر یہ ہوا   کہ عوام کی مذہب سے بےرغبتی ( یہاں اسکا کمتر درجہ مراد ہے مطلب عدم شعور جسے ہم رواجی مسلمان کہہ سکتے ہیں)میں دن بدن اضافہ ہونے لگا اور اسکی حیثیت ثانوی درجہ کی سی ہوگئی۔یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جسکی بازگشت اب دور دور تک سنائی دے رہی ہے۔ دعوتی و تعمیری پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کا بھیانک نتیجہ یہی نکلا جو آج ہم گاؤں کے جاہل اور سادہ آدمی کی زبانی یوں سنتے ہیں نماز آپ کے پیچھے پڑھ لیں گے لیکن ووٹ ہم نے  اپنے جیسے فرد کو ہی دینا ہے آپ خود باہمی انتشار کا شکار ہیں ہم کسی اور کو ناراض نہیں کر سکتے۔ اس بیانیے میں مستقبل کے سنگین نتائج و مضمرات سے یقیناً آپ آگاہی رکھتے ہوں گے۔۔ جبکہ باشعور فرد جو سوال اٹھاتا ہے اسکے جواب تلاشنا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کسی صورت مفر نہیں  ، کیونکہ ہم ردعمل کی نفسیات میں جی رہے ہیں جبکہ زمانہ اپنی چال تقریباً چل چکا ہے۔

دوسرا پہلو یہاں جس سے راہ فرار ہمارے لیے ممکن نہیں وہ قومی و عالمی سیاسی فضا کے حوالے سے فکری و سیاسی تضادات و دوغلے پن کا شکار ہونا ہے جن کی جدوجہد کو سراہا جا رہا ہے انہی سے ہم حکمت عملی،بتدریج قانونی سفر سماجی نبض شناسی کا  ذرہ برابر حصہ کشید نہیں کر سکے ۔جہاں جہاں پرامن آئینی جمہوری تحریکیں چلیں وہاں وہ عالمی و مقامی اسٹیبلشمنٹ کے شدید دباؤ کا شکار رہیں جبر اً اسٹیبلشمنٹ کا جبر ختم ہوا تو انہیں کہیں جا کر یکسوئی نصیب ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ایک ہی کنویں میں ٹرٹرانے یا گھٹن زدہ ماحول پر یقین رکھنے کی بجائے اجتماعیت کو مدنظر رکھا اور پھر آئینی و قانونی طور پر انتھک جدوجہد کی آئینی بالادستی قائم کر کے بتدریج اس کے ثمرات سے مستفید ہوتے گئے ہمارے ہاں آئینی بالادستی کی آوازیں فریق مخالف کے کیمپ سے تواتر سے اٹھتی ہیں جبکہ اہل مذہب کی جانب سیاسی شعور کے فقدان کے باعث چند شخصیات کو مستثنٰی قرار دیکر شاذ و نادر ہی مجموعی طور پر اس جانب کوئی آواز اٹھی ہو۔

پرائیویٹ جہادی تنظیموں کے حوالے سے پیغام پاکستان نامی بیانیہ ریاست کی جانب سے مذہبی مکتبہ فکر کی متفقہ تائید سے پیش کیا جا چکا ہے جسکی عوامی سطح پر بھرپور آگاہی کی ضرورت ہے۔
حق یہ ہے کہ اہل مذہب ایسے افراد و جماعتوں کی بھرپور حوصلہ شکنی کریں جو شعوری یا لاشعوری طور پر مقتدر طبقات کے ہاتھوں یرغمال بن کر غیر آئینی جدوجہد کر رہی ہیں اور جن کے اثرات پورے مکتبہ فکر پر اپنے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔

Avatar
محمد انس
سچائی کی تلاش میں سرگرداں ایک طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *