• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فلم ریویو:لکشمی !غیر اخلاقی انسانی سمگلنگ۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

فلم ریویو:لکشمی !غیر اخلاقی انسانی سمگلنگ۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

لکشمی ہندی زبان کا لفظ ہے،جس کا مطلب ہے ،دولت یا دھن۔۔ہندو دھرم  میں لکشمی دیوی بھی موجود ہے ۔جس کی پوجا عقیدت سے کی جاتی ہے۔انسان کی بنیادی ضرورت آج کے دور میں  لکشمی ہے۔انسان لکشمی کے حصول کے لیے تن من کی بازی لگا کر لکشمی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔لکشمی اب مذاہب کی قید سے آزاد ہو چکی ۔اب لکشمی کے پجاری ہر مذہب میں  موجود ہیں ۔زمانہ قدیم کے انسان قناعت پسند تھے ۔ان کی بنیادی ضرورت محض خوراک اور جنس تھی۔زمانہ قدیم کے  انسان  کی خواہشات محدود تھیں ۔ زندگیوں میں سادگی ہی سادگی تھی ۔ان کی زندگیاں ہر گز پر تعیش نہ تھیں۔مگر جوں جوں انسان نے ترقی کی منازل طے کیں۔انسانی خواہشات بڑھتی گئیں ۔انسان پر تعیش زندگی گزارنے کا خواہش مند ہوتا گیا۔مگر ایسی زندگی کو گزارنے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت لکشمی کا حصول تھا
آج کا انسان قناعت پسندی سے کوسوں دور ہے ۔انسان پر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا جنون سوار ہے۔خواہشات کا حصول ممکن ہے مگر اس کے لیے ضرورت ہے ڈھیر ساری لکشمی  کی۔اب لکشمی کیسے اکٹھی کرنی ہے ؟لکشمی کو حاصل کرنے کے لیے انسان کوئی بھی راستہ اختیار کرنے میں  مصروف ہے۔جائز ناجائز ،اخلاقی،غیر اخلاقی۔ انسان کو بس لکشمی چاہیے اس ضمن میں اس کو ہر رکاوٹ اپنی دشمن محسوس ہوتی ہے۔مذہب اخلاقیات یا جو بھی ضابطے اور قانون انسان اور لکشمی کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کریں۔انسان تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے لکشمی کا ڈھیر جمع کرنا چاہتا ہے ۔اس لکشمی کو پانے کے لیے چاہے اسے  کسی کی جان لینی پڑے سماجی ضابطے توڑنے پڑیں ۔اپنی پیدا کردہ اولاد بھی قربان کرنی پڑے لکشمی کے پجاریوں کو کوئی غرض نہیں ۔بے لگام خواہشات کے اسیر انسان کچھ بھی کر گزرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں۔
بدقسمتی سے اس مقصد کے لئے عورت کا استحصال انتہائی بے دردی سے ہو رہا ہے ۔ لکشمی کے متعلق تمام تمہید بالی وڈ کی ایک فلم جس کا نام لکشمی ہے دیکھنے کے بعد ذہن میں  وارد ہوئی ۔لکشمی آندھرا پردیش بھارت کی ایک 14  سال کی بہادر لڑکی کی زندگی پر بنائی گئی ایک شاندار فلم ہے۔لکشمی فلم میں ڈائریکٹر نے کمال خوبصورتی سے پردہ سکرین پر دکھایا ہے کہ کس طرح دولت اکٹھی کرنے کی ہوس میں مبتلا انسان معصوم بچیوں اور لڑکیوں کی غیر اخلاقی سمگلنگ کے ذریعے ان کو بڑے شہروں میں لا کر ان کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں ۔ان کا برےطریقے سے جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔لکشمی کا باپ پیسوں کے حصول کے لیے اپنی پھول سی بچی کو بیچ ڈالتا ہے۔
المیہ دیکھیے  کہ  بچی کو خریدنے والی بھی ایک عورت ہوتی ہے۔عورت بچی کو دولت کی ہوس میں مبتلا انسان نما درندوں کو فروخت کر دیتی ہے۔پھر ان بچیوں کو شہر منتقل کیا جاتا ہے جہاں پر ہاسٹل کے نام پر ان لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں ۔ایک دن سماجی تنظیم کا نمائندہ کمسن بچی کا گاہک بن کر یہاں پر آتا ہے ۔اور تمام صورتحال کو کیمرے میں محفوظ کر کے پولیس کو اطلاع کرتا ہے مگر اس دھندے میں  ملوث افراد دولت کے بل بوتے پر بچ نکلتے ہیں ۔لکشمی نام کی بچی یہاں سے بھاگنے کی کئی کوششیں کرتی ہے ۔مگر ہر بار پکڑی جاتی ہے۔اور پھر اس بچی پر جسم کے رونگٹے کھڑے کرنے والا تشدد کیا جاتا ہے۔اور تشدد دیکھنے والا فلم بین کانپ کر رہ جاتاہے  ۔
بہرحال کہانی میں مختلف موڑ آتے ہیں ۔پھر لکشمی نامی یہ بچی کسی طریقے سے عدالت تک پہنچ جاتی ہے ۔جہاں پر طویل جدوجہد کے بعد بالآخر لکشمی کی جیت ہوتی ہے ۔سچے واقعے پر مبنی یہ فلم دیکھنے لائق ہے ۔اور فلم میں  ایک سین تو انتہائی وحشت ناک ہے۔لکشمی کو انصاف کے لیے کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے ۔اس کے لیے آپ کو فلم لکشمی دیکھنے پڑے گی۔فلم میں کئی مقامات پر دیکھنے والے شخص کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *