سقراطیت ۔ بیوی کے قدموں کی دھول۔۔سانول عباسی

SHOPPING
SHOPPING

سقراط علم و عرفان کا سمندر، تاریخی انسانی کا عظیم کردار ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب درس و تدریس کے کام میں مشغول ہوتا تو اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہ ہوتی ۔بےخودی کے عالم جب وہ کائناتی حقیقتوں کو بیان کرتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے کائناتی سچائیاں اس کے سامنے ہاتھ باندھے اپنا آپ پیش کر رہی ہوں جیسے تمام مابعدالطبیعاتی حقیقتیں سقراطی لفاظی کے اسلوب میں ڈھلنے کے لئے بےتاب ہوں یعنی اگر سقراط نے ان کو اپنے بیانئے میں شامل کر لیا تو انکی وجودیت مسلمہ سچائی کہلائے گی اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ سقراط، سقراط کیسے بنا تو اس کا اپنا بیانیہ ہے جو ایک محفل میں وہ بیان کرتا ہے۔

سقراط کی بیوی خونخوار حد تک جھگڑالو قسم کی تھی اور سقراط صاحب کافی صلح جو صابر قسم کے آدمی کبھی بھی انہوں نے اپنی بیوی کی زبان درازی کو سنجیدہ نہیں لیا بلکہ ہلکا سا مسکرا دیتے ۔ان کی اس روش نے ان کی بیوی کو ان پہ مزید مہربان کر دیا اور وہ سقراط کو سقراط بنانے کی دھن میں مگن ہو گئیں اور اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئیں بھلا ہو سقراط کی بیوی کا کہ تاریخ انسانی کو ایسا انمول عظیم کردار دیا جس پہ انسانیت ناز کر سکتی ہے۔

قصہ کچھ اس طرح ہے کہ سقراط کی بیوی جھگڑالو تو تھی ہی اب کے اس نے کچھ دنوں سے معمول بنایا کہ گھر کا سارا کوڑا کرکٹ جمع کر کے سقراط صاحب جہاں علم و عرفان کے موتی بکھیر رہے ہوتے ان کے اوپر ڈال آتی تو سقراط صاحب صابر انسان جیسے لاشعوری طور پہ ان پہ یہ بات عیاں ہو چکی ہو کہ سقراط بننے کے لئے ان مراحل سے گزرنا پڑے گا سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے سقراط صاحب ایک دن اسی طرح وجد میں بیٹھے حقیقتوں کے پردے چاک کر رہے تھے کائناتی سچائیاں ہاتھ باندھے ان کے سامنے ان کے بیانئے کی منتظر تھیں کہ سقراط اپنے لفظوں کے پیرہن سے ان کی خیالی حیثیت کو وجودیت عطا کرے، تو یکا یک ان کی زوجہ محترمہ نمودار ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے کوڑا دان کو سقراط صاحب کے اوپر پھولوں کی طرح بکھیر دیا سقراط صاحب جو دھن کے پکے تھے ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہوئے اور بیگم کا دل رکھنے کے لئے کہ کہیں طبع نازک پہ گراں نہ گزرے بیوی کو دیکھ کے مسکرا دیا تو ایک طالبعلم جو ابھی پختہ ذہن کا مالک نہیں تھا جسے سلوک کی منزلوں کی ابھی شدبدھ بھی نہیں تھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں تھا اس کا خون کھولا بےوقوف بےچارہ استاد کی بیوی کو مار ڈالنے والی نظروں سے دیکھتا ہے اور سقراط جو پہلے ہی اس نادان شاگرد کی جسارت کو بھانپ لیتا ہے اسے اپنی طرف متوجہ کر کے یہ تاریخ ساز جملہ کہتا ہے کہ!

“آج سقراط اسی بیوی کی وجہ سے سقراط ہے”

آج کے صف اول کے ادیب سفرناموں کے بےتاج بادشاہ بہت سے ٹی پروگراموں کی جان اور خاص طور پہ بچوں کے چاچا جی جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کا فرمان عالیشان ہے کہ بڑا آدمی بننے کے لئے انتھک محنت کی ضرورت ہے ۔صبح، شام، دن، رات ایک کرنے پڑتے ہیں تب جا کے کامیابی کے چراغ کی لو ہلکی سی ٹمٹماتی ہے اور پھر قربان جاؤں چاچا جی کے ،اس کے بعد فرماتے ہیں بہت بڑا آدمی بننے کے لئے یعنی ایک عظیم انسان کہلوانے کے لئے ایک عدد جھگڑالو بیوی درکار ہے اور جتنے مراتب کی بلندی چاہتے ہیں جھگڑالو بلکہ خونخوار بیویوں کی تعداد بڑھاتے جائیں اور دیکھیں گے کہ کامیابیاں ہاتھ باندھے سامنے قطار اندر قطار کورنش بجا لائیں گی۔

جناب خلیل الرحمن قمر بہترین اور مایہ ناز ڈرامہ نگار جنہوں نے پاکستانی ٹیلی ویژن کو ایسے بہت سے بہترین ڈرامے دان کئے ہیں جو ہر خاص و عام میں یکساں مقبولیت کے حامل ہیں لنڈا بازار، صدقے تمہارے، پیارے افضل اور ایک بہت بڑی فہرست ہے ان کے بہترین سدا بہار ڈراموں کی، ایک بار وہ سٹیج پہ آئے تو ان سے ان کی کامیابیوں سے متعلق سوال کیا گیا کہ بہترین سکرپٹ کیسے لکھ پاتے ہیں جب پوچھا گیا تو وہ اپنی کامیابی کی داستاں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوتا کہ میری کامیابی کے پیچھے میری بیوی کا ہاتھ ہے تو یہ سن کے سامعین مسکرانے لگتے ہیں اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگتے ہیں جیسے پوچھ رہے ہوں کہ کیسے قبلہ کچھ وضاحت فرمائیں تو وہ پیاز کی مزید پرتوں کی طرح جب بات کو کھولتے ہیں تو فرط جذبات سے سب کی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے وہ بتاتے ہیں کہ میری بیوی کی ضد تھی کہ مجھے لکھنے نہیں دینا اور میرا جنون تھا کہ میں لکھوں گا تو زندگی میدانِ کارزار بنی رہی اور آج میں آپ کے سامنے ہوں۔

SHOPPING

یہ وہ اعلی اخلاقی کردار ہیں جنہوں نے سچائی کو اپنی ذات پہ فوقیت دی اب آتے ہیں راقم الحروف کا مشاہدہ ، اسے کوئی دانشورانہ رائے نہ سمجھا جائے  اپنے منہ کیا میاں مٹھو بننا میں کوئی ایسا دانشور بھی نہیں جس کے سامنے سچائیاں دوزانو  اپنا آپ کھول دیتی ہیں اس کی بھی شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ میں ابھی تک اس قسم کی جھگڑالو بیوی سے محروم ہوں مگر ایسا کفران نعمت بھی کیا کرنا کچھ نہ کچھ بات میں وزن ضرور ہے کیونکہ عائلی زندگی میں رفیقہ حیات حسب منشاء و حسب ضرورت ہمیں سقراطی ڈگر پہ لانے میں کوشاں رہتی ہیں تقریبا روز کوئی نہ کوئی موقع بن ہی جاتا ہے کبھی موبائل کے کثرت استعمال پہ، تو کبھی بھلکڑ پن پہ، تو کبھی بچوں کو نہ پڑھانے پہ، اور کبھی جو امور خانہ داری میں جو فرائض ہمیں تفویض کئے گئے ان کی انجام دہی میں کوہتاہی برتنے پہ ایک بہت بڑا اصلاحی لیکچر ہمارے کند ذہن میں ڈالنے کی مکمل کوشش کی جاتی ہے خیر وہ جس تیزی سے ہمارے ذہن میں داخل ہوتا ہے اس سے زیادہ روانی سے بہہ جاتا ہے اور جاتے جاتے ہماری فکری صلاحیتوں چار چاند لگا دیتا ہے جس کا ثبوت خود یہ مضمون بھی ہے جو میں نے لیکچر کے دوران ٹائپ کیا ہے۔انسانی تاریخ اور فی زمانہ اعلی اذہان کی عائلی زندگی کی عرق ریزی سے ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے اور میرا خیال ہے کہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ جہاں”جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے وہیں فہم و فراست اور سقراطیت بیوی کے قدموں کی دھول ہے”

 

SHOPPING

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *