• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ ؓ عیسائی تھیں ؟ ۔۔۔کمیل اسدی/ قسط2

کیا ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ ؓ عیسائی تھیں ؟ ۔۔۔کمیل اسدی/ قسط2

احناف و جعفریہ کے درمیان عزیز مصر کو دعوت اسلام سے وفات تک کی تاریخ ایک جیسی ہی ہے طوالت کو مد نظر رکھتے ہوئےجو اضافی معلومات ہیں صرف انہوں کو تحریر کروں گا۔
جعفریہ کتب کے مطابق بی بی مصر کے ملوک میں سے ایک ملک (بادشاہ) کی بیٹی تھیں۔ مقوقس نے نامہ میں لکھا کہ میں نےآپ کی بھیجی ہوئی دعوت کا اکرام کیا آپکی جانب دو کنیزیں روانہ کی ہیں کہ جو قبط کی عظیم سرزمین میں نہایت قابل احترام و منزلت والی ہیں ۔

کیا ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ ؓ عیسائی تھیں ؟۔۔۔کمیل اسدی/قسط1
جناب ماریہ قبطیہ کو جناب ہاجر، حضرت ابراھیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی داستان سے کافی دلچسپی تھی اور اس داستان کو کئی بار سن چکی تھیں کہ خداوند متعال نے کیسے حضرت ہاجرہ کی مدد فرمائی، جب وہ حجاز میں تن تنہا اور بے یار و مدد گار تھیں، خداوند متعال نے انھیں چاہ زمزم عطا کرکے، سر زمین حجاز کو ایک نئی زندگی بخشی تھی، وہ جانتی تھیں کہ جناب ہاجرہ کی زندگی تاریخ میں لافانی بنی ہےاور ان کا صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا مناسک حج کے ایک حصہ میں تبدیل ہوا ہے-

جناب ماریہ قبطیہ اپنے اور ہاجر کے درمیان پائی جانی والی شباہتوں پر غور و فکر کرتی تھیں، کیونکہ دونوں کنیز تھیں، جناب ہاجرہ کو جناب سارہ نے حضرت ابراھیم ؑ کی خدمت میں تحفہ کے عنوان سے پیش کیا تھا اور جناب ماریہ قبطیہ کو مقوقش نے رسول خدا {ص} کی خدمت میں تحفہ کے عنوان سے بھیجا تھا- لیکن ماریہ قبطیہ اور ہاجر کے درمیان صرف یہ فرق تھا کہ جناب ہاجر، حضرت اسماعیل کی ماں تھیں اور ماریہ قبطیہ رسول خدا ‍ﷺ سے ابھی صاحب اولاد نہیں ہوئی تھیں-

ابراھیم، ذی الحجہ کے مہینہ میں پیدا ہوئے- ان کی دایہ ” سلمی” تھیں- اس نے اپنے شوہر ” ابو رافع” کو یہ خوشخبری سنائی، اور انھوں نے رسول خدا {ص} کی خدمت میں حاضر ہوکر اس نومولود کی خوشخبری آنحضرت ﷺ کو دیدی- رسول خدا نے اس خوشخبری کے لئے ابورافع، کو ایک غلام انعام کے طور پر دیا اور نو مولود کا نام ابراھیم رکھا، کیونکہ آپ کے جد امجد کا نام حضرت ابراھیم {ع} تھا- جناب ابراھیم ؑ سات دن کے ھوئے تو آنحضرت ﷺ نے عقیقہ کے عنوان سے ایک بھیڑ ذبح کیا اور نو مولود کے بال منڈوائے اور ان کے وزن کے برابر راہ خدا میں چاندی دیدی-

ابراھیم کے ساتھ پیغمبر اسلام انتہائی محبت فرماتے تھے، انس بن مالک کہتے ہیں:
” جب ابراھیم پیدا ہوئے، جبرئیل امین پیغمبراسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس طرح آپ کی خدمت میں سلام کہا:” السلام علیک یا ابا ابراھیم؛” ” سلام ھو آپ پر اے ابراھیم کے والد-”

پیغمبر اکرم نے حضرت ابراھیم ؑ کی ولادت کے بعد فرمایا:” کل رات میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا  کہ میں نے اسے اپنے باپ ابراھیم کے ہم نام قرار دیا”-

انصار کی خواتین حضرت ابراھیم ؑ کو دودھ پلانے میں رقابت کر رہی تھیں، اور اس طرح جناب ماریہ قبطیہ کے نزدیک تر ہونا  چاہتی تھیں، کیونکہ وہ بخوبی جانتی تھیں کہ پیغمبر اسلام  کس قدر ماریہ قبطیہ کو دوست رکھتے ہیں- حضرت ابراھیم  کی دایہ بننے کی سعادت ” ام بردہ خولہ بنت منذر بن زید” کو حاصل ھوئی- پیغمبر اسلام خوشی اور مسرت کے عالم میں حضرت ابراھیم کے بڑے ہونے کا مشاہدہ فرما رہے تھے-

ایک دن پیغمبر اسلام ﷺ کسی کام کے سلسلہ میں گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے، کہ آپ  کو حضرت ابراھیم  کی حالت خطرناک صورت میں خراب ہونے کی خبر ملی، فوراً گھر تشریف لائے اور اپنے لخت جگر کو ماں کی گود سے اٹھا کر اپنی آغوش میں لے لیا، آپ {ص} کے چہرہ مبارک سے غم و آلام کے آثار نمایاں تھے اور اسی حالت میں فرمایا: ا إبراهِيم لَو لا اَنَّهُ اَمْرٌ حَقٌّ وَوَعْدٌ صِدقٌ ، وَأنَّ آخِرَنا سَيَلْحَقُ بِأوَّلِنا ، لَحَزِنّا عَلَيْكَ حُزْناً هُوَ اَشَدُّ مِنْ هذا ، تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَ يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَ لا نَقُولُ إلاّ ما يَرضي رَبَّنا وَاللهُ يا إبْراهِيم ، إنّا بِكَ لَمَحْزُونُون.” ” اے ابراھیم؛ اگر موت حق اور وعدہ صادق الہی نہ ہوتی اور ہم سب آخر کار اسی سے ملحق ہونے والے نہ ہوتے، تو میں تیرے بارے میں اس سے زیادہ غمگین ہوتا، میری آنکھیں پر نم ہیں اور میرا دل غم و اندوہ سے لبریز ہے، لیکن میں ہرگز زبان پر ایسا کلام جاری نہیں کروں گا جس میں خدا کی رضامندی اور خوشنودی نہ ہو- لیکن ابراھیم ؛ جان لو کہ ہم تیرے فقدان اور موت کی وجہ سے غمگین اور محزون ہیں”-

جناب ماریہ قبطیہ بھی اس مصیبت میں کافی غمگین تھیں اور اپنے لخت جگر حضرت ابراھیم کے لئے یوں مرثیہ پڑھتی تھیں:” اے ابراھیم، تم میرے بیٹے تھے اور ابھی تمھیں دودھ پلانا بند نہیں کیا تھا، اب بہشت میں فرشتے تمھیں دودھ پلائیں گے”-
جناب ماریہ قبطیہ، پیغمبر اسلام  کی محبوب شریک حیات تھیں- وہ حضرت زہراء  اور ان کے شوہر حضرت علی ابن ابیطالب سے کافی لگاو رکھتی تھیں اور ان کا کافی احترام کرتی تھیں – رسول خدا  نے بھی ان کے آرام و آسائش کے لئے ان کے گھر کو مدینہ کے اطراف میں ایک باغ میں قرار دیا تھا، جسے ” مشربہ ام ابراھیم” کہا جاتا ہے
حضرت علی ؑ اور فاطمہ زہراء ؑ جناب ماریہ قبطیہ کے بارے میں خاص خیال رکھتے تھے- چنانچہ کہا گیا ہے کہ حضرت ابراھیم کی ولادت کے بعد حضرت علیؑ بہت خوش ھوئے- حضرت علی ؑ ہمیشہ ماریہ قبطیہ کی حمایت کرتے تھے اور ذاتی طور پر ان کے مسائل کو حل کرنے میں اقدام کرتے تھے، وہ جناب ماریہ قبطیہ کا خاص احترام کرتے تھے-
جناب ماریہ قبطیہ ایک پاک، دیندار، صالح، نیک اور شائستہ خاتون تھیں- اس کے علاوہ رسول خدا ﷺ کی منظور نظر بیوی تھیں- مورخین و سیرت نگاروں نے ان کی دینداری کی ستائش کی ہے- پیغمبر اسلام نے اپنے ایک بیان میں اس خاتون کے ساتھ اپنے لگاؤ کا یوں اظہار فرمایا ہے:” جب مصر کو فتح کروگے، وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا کیونکہ میں ان کا داماد ہوں”-

جاری ہے۔۔

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کیا ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ ؓ عیسائی تھیں ؟ ۔۔۔کمیل اسدی/ قسط2

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *