ٹرمپ کارڈاور فکر اقبال

ارادہ تو تھا کہ فاضل مدیر کی بھیگی بھیگی فہمائش و فرمائش کے بعد منصوبہ بندی کے محکمانہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قلم کا ڈھکن اتار کر اپنی سہل پسندی کے برعکس یوم اقبال کی مناسبت سے کچھ ہلکا پھلکا جائے اور اقبال کے اشعار کا جو حال پہلے قوال اور صاحبِ اعمال کرتے تھے اب موجودہ دور میں کیا صورتحال ہے اس کااحوال بیان کیا جائے ۔ ماضی بعید میں تو کچھ یوں ہوتا تھا بقول ضمیر جعفری مرحوم
کبھی اِک سال میں ہم مجلس اقبال کرتے ہیں
پھر اُس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں
پھر نیا دور آیا، ساتھ اپنے سوشل میڈیا کی علت لایا، جہاں سب لکھاری ہیں۔ بزعمِ خویش بشمول میرے اور اب تو فیس بکی نسل نے اقبال(رح )کے اشعار کا ایسا قافیہ تنگ کیا ہے کہ ناطقہ سربہ گریباں ہے اسےکیا کہئے۔ اقبال بھی سوچتے ہوں گے خودی کا مطلب سیلف کی بجائے شائد سیلفی ہوتا ہے ۔ظلم تو یہ ہے اقبال (رح )کے نام سے ایسے ایسے اشعار منسوب کرکے کوٹ کیے جاتے ہیں جن کے ساقط الوزن اورمروجہ بحور کی بجائے بحرِ مردار میں ہونے کی وجہ سے بانگِ درا کے مصنف کی بجائے بانگِ دہل کے شاعر امام دین گجراتی بھی اپنی بیاض میں شامل کرنا پسند نہ کریں ۔
دوستوں سے رائے لی کس پر لکھوں یومِ اقبال (رح) پر یا ٹرمپاں دے بال پر؟ اکثریتی رائے سے ثانی الذکر کی طرف اشارہ کیا گیا جس سے دو باتیں پتا چلیں ایک تو یہ کہ لوگ حکومت کی طرف سے چھٹی نہ دینے کی وجہ سے ایک دن سونے کی عیاشی یا سیر و تفریح سے محرومی کی وجہ سے نالاں ہیں ،دوسرے ہمارا مزاج مانیں یا نہ مانیں اب اس طرح کا بن گیا ہے کہ مرچ مصالحے والی خبریں اور تبصرے ہمیں زیادہ بھاتے ہیں بہ نسبت سنجیدہ موضوعات پر بات کرکے ،پڑھ کے اورسن کے۔ تو چلئے پھر آپ کا کہا سر آنکھوں پر ،نو نومبر کو ہوئے ان دونوں واقعات کو ایک ہی تاگے میں پرو کر مالا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صاحبو مضمون تو لکھنا تھا حضرت اقبال پر مگر اکثریتی ووٹ سے قرعہ فال ٹرمپ کے نام کا نکل آیا تو ہم بھی وہی استادی داؤ کھیلنے کی سعی کریں گے کہ امتحان میں مضمون جس مرضی موضوع پر لکھنے کے لئے دیا جائے اور یاد صرف فٹ بال میچ کا آنکھوں دیکھا حال ہو تو کیسے اسےکسی نگینے کی طرح فٹ کیا جاتا ہے ،آگے ممتحن کی مرضی ہے پاس کرے یا برداشت کرے ۔
پنجابی کی کہاوت ہے "رب نیڑے کہ گھسن" اور جس طرح تازہ تازہ لگے زخم پر پھاہا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو آج ہم بھی آپ کو ثابت کرکے دکھائیں گے کہ کس طرح اقبال کے شاہین بچے کی مانند ڈونلڈ ٹرمپ نے سب کے بل نکال دیے ہیں.
اقبال سے موسوم جس شعر پر ہم نےبزبان راوی بر لب دریائےِ راوی سے منسلکہ اس کوچے کے اک کوٹھے پر اقبال پر بیتے گئے واقعہ کا احوال سنانا تھا ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی معرفت پتہ چلا وہ بھی ان سے غلط طور پر منسوب ہے اور انکی شہرہ آفاق غزل کا مقطع نہیں ہے ۔جب شعر ہی ان کا نہیں تو یقینی طور پر ان سے منسوب واقعہ جو کالج دور میں کیمسٹری کے پروفیسر صاحب نے سنایا تھا بھی مشکوک ٹھہراتو اس سے صرف نظر کرتے ہوئے فی الحال شعر پڑھیے اور اسکی تشریح امریکا میں ڈھونڈتے ہیں ۔
اقبال تیرے عشق نے سب بل دیے نکال
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی

تو لیجئے اب آپ کے الٹے سے سیدھا ہونے کی باری آرہی ہے ،کافی عرصہ تک الٹا لٹال کر جو پانجہ آپ کولگایا جا رہا تھا اب اس میں کچھ مزید مقاماتِ آہ فغاں کے اضافہ کی توقع ہے اور آپ بزبان شاعر پکا ر اٹھیں گے ٹرمپاں دے بال نے سب بل دئے نکال۔پچھلے دنوں ریڈیو پر سنی ایک بات دل کو لگی جو سچ ثابت ہوئی ،وہ یوں تھی کہ
۔Hillary is winning on Air whereas Trump is winning on ground

جو جنگ صرف میڈیا پر لڑی جائے پورا ایک ماحول بنا کر ضروری نہیں میدانِ جنگ میں بھی ویسے ہی لڑی جا رہی ہو ۔ٹرمپ ایک بزنس مین ہے اور اس مخصوص سسٹم کا جزو لا ینفک جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے اور ثابت ہوا اخلاقیات گئی تیل لینے اور معاشیات نے ڈھول کا پول کھول کے رکھ دیا۔یہ صدارتی الیکشن میڈیا اور سروے رپورٹس کو جھٹلاتا ہوا اس لئے لگ رہا ہے کہ جان بوجھ کر زمینی حقائق کو تروڑ مروڑ کر اور چھپا کر پیش کیا جا رہا تھا اور انویسٹی گیٹنگ رپورٹنگ کی بجائے سنی سنائی پر یقیں کرکے سب کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی تھی اسی لئے تمام جغادری تبصرہ نگار اب جواز ڈھونڈنے میں لگے ہیں اپنی تجزیاتی رپورٹس کے الٹ نتائج پر ۔
ٹرمپ کا ٹرمپ کارڈ وہ سفید فام نسلی آبادی تھی جو ۴۰سال سے اوپر کے ایج گروپ اور زراعت سے وابستہ ریاستوں میں بستی ہے اور یہ لوگ اوباما اور اسکی پارٹی سے اب پوری طرح نالاں تھے اور تبدیلی انہیں ٹرمپ کی صورت نظر آئی ۔سوئنگ سٹیٹس میں وسیم اکرم کی طرح ریورس سوئنگ کرکے ٹرمپ نے سب کو کلین بولڈ کردیا۔خاتون سربراہ ان ریاستوں میں بسی قدامت پرست آبادی کو کسی شرط پر قبول نہیں تھی اور اس دفعہ ان ریاستوں میں ٹرن آؤٹ اور الیکٹورل ووٹ ٹرمپ کی جھولی میں جا گرے۔
یہ بات تو ماننی پڑے گی ٹرمپ قسمت کا دھنی ہے ،ایک اوسط درجے کے بزنس مین سے اٹھ کر ایک بلینئر ٹائکون بن کر ایک ایمپائر کھڑی کردینا کسی الو کا ہی کام ہوسکتا ہے کسی ہما شما کا نہیں ،یاد رہے امریکا میں الو عقلمندی کا نشان ہے جب کہ ہم اس کے پٹھوں کو کوستے رہتے ہیں ۔امریکا کا ۴۵ واں صدر ،۹ تاریخ اور سال ۲۰۱۶ ، تینوں کا مجموعہ ۹ بنتا ہے ،علم الاعداد کے ماہر ین کے مطابق ۹ طاقتور ترین عدد ہے ،ہندو جوتشیوں نے اسی لئے بطور خاص پوجا پاٹھ کی اور اپنے آشیر وادسے نوازا ۔ٹرمپ نے بھی مودی کی نقل کرتے ایک اشتہار میں کام کیا جس میں ہندی میں ;اب کی بار ٹرمپ سرکار; کا پیغام اپنی گلابی ہندی میں ریکارڈ کروایا ۔
تو دوستو وائٹ ہاؤس پھر سے سفید ہوگیا .تیار ہوجائیں مس ورلڈ اور The Apprentice کا اگلا سیزن یہیں ریکارڈ ہوں گے کہ ان کا سکرپٹ رائیٹر ادھر ہی ملا کرے گا. کسی اہم ایشو پر سی آئی اے اور امریکی تھنک ٹینک جناب صدر کے نازک کندھوں پر کوئی بوجھ نہیں ڈالے گا اور سابقہ پالیسیاں اسی طرح کی ہاسیوں کھیڈیوں میں جاری رہیں گی .
جہاں تک امریکیوں کا کینیڈا ہجرت کرنے کا سوال ہے تو بنا ویزا کسی روک ٹوک کے امریکی کبھی بھی بارڈر کراس کرسکتے ہیں اگر رہائش رکھنا چاہیں تو اس میں بھی کوئی بڑی اڑچن کا سامنا نہیں ہوگا .کینیڈین معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے .نکی نکی ڈھولکی اسی طرح بجتی رہے گی اور بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ یہ گانا چلتا رہے گا۔مزے تے ماہیا ہن آن گے۔کیا امریکی عنان حکومت ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھ آنے سے استرا بندر کے ہاتھ آیا ہے جو یا تو لوگوں کو زخمی کرے گا یا اپنے آپ کو اس کا پتا آنے والے دنوں میں بہت جلد لگ جائے گا .
آخر میں یوم اقبال کی مناسبت سے محترم امجد علی بھٹی کا ایک خوبصورت شعر:
شاعری نوں اقبال نہ آؤندا
جے دھرتی تے اقبال نہ آؤندا

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *