برطانوی پولنگ سسٹم۔ ۔۔فخر ملک

تین مئی کو لوکل کاؤنسلز کے الیکشنز تھے ۔ میں بھی ووٹ ڈالنے گیا زیادہ سے زیادہ دو منٹ  لگے ہُوں گے اورمیں ووٹ ڈال کر باہر بھی آگیا تھا ۔برطانیہ میں ووٹ ڈالنے کا نظام بُہت سادہ اور آسان ہے ۔عُموماً پولنگ سٹیشنز سُکولوں میں بنے ہوتے ہیں اور پولنگ ڈے کو سُکولوں میں اور جنرل الیکشنز والے دِن عام تعطیل  ہوتی ہے ۔
اور عُموماً ٹرن آؤٹ کی شرح ساٹھ سے ستر فیصد کے درمیان رہتی ہے ۔پِچھلےجنرل الیکشنز میں یہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ ستر فیصد تک پُہنچا۔
پہلے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ یہاں برطانیہ میں الیکشنز اور پولنگ یا ووٹنگ کےنظام کیا کیا ہیں اور اِس کے بعد ووٹنگ کا طریقہ کار ، شفافیت اور پولنگ سٹیشنز پر بات کریں گے ۔
برطانیہ میں کُل 650 constituencies ہیں اور تقریباً ایک ہی جیسے similar number of inhabitants ہر ایک constituency میں ہیں ۔
ہر ایک constituency کو ایک عدد ایم پی MP ترجمانی یا represents کرتا ہے اور یہ ہاؤس آوو کامن میں ایک سیٹ کہلاتی ہے ۔ ہاؤس آوو کامن یہاں کا ایوانِ زیریں یا نیشنل اسمبلی سمجھ لیں ۔
کُل 650 نشستوں میں نصف سے زیادہ سیٹیں حاصِل کرنے کو سادہ اکثریت کہتے ہیں جو کہ کُوئی پارٹی حاصل کرلے تو کُوئی دُوسری جماعت کے ساتھ مِل کر اپنی حُکومت بنا سکتی ہے ۔ جیتنے والی پارٹی کا لیڈر کوئین کی طرف سے وزیرِاعظم مُنتخب ہوتا ہے اور پھر وُہ اپنی کیبینٹ بناتا ہے ۔
ہاؤس آوو لارڈز یا ایوانِ بالا ( سینیٹ ) کے اُمید وار نان الیکیڈڈ ہوتے ہیں یہ وزیرِ اعظم کے مشورہ سے کوئین مُنتخب کرتی ہے ۔
Snap Elections
سنیپ الیکشنز جیسا کہ پچھلے جنرل الیکشن اپنے مُقررہ وقت سے پہلے کرائے گئے اِنھیں snap election کہا جاتا ہے ۔
ووٹنگ یا پولنگ کے دوران جِس اُمید وار ایم پی اے  کو جو بھی پارٹی ٹکٹ دیتی ہے وُہ اُس پارٹی کے نام اور نشان پر الیکشن لڑتا ہے اور کُوئی آزاد لڑنا چاہے تو بھی وُہ آزاد اُمیدوار کے طور پر لڑ سکتا ہے ۔
اِس طرح کے پولنگ سسٹم کو
First past the post :
کانام دیا گیا ہے اِس میں ہر اُمیدوار کو ووٹ ایک بیلٹ پیپر پر اُس کے نام کے سامنے X کا نشان پنسل جِسے ہم لوگ کچی پینسل یا لیڈ پینسل کہتے ہیں سے لگایا جاتا ہے ۔اور جسکے ووٹ زیادہ ہوتے ہیں وُہ جیت جاتا ہے ۔
Hung Parliament
یعنی جب کُوئی بھی پارٹی نصف سے زیادہ یعنی سادہ اکثریت حاصل نہ کرپائے تب کُوئی بھی پارٹی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مِل کر اکثریتی حمایت حاصل کرکے حُکومت بنا سکتی ہے ۔
AV System :
اے وِی یا آلٹر نیٹو ووٹنگ سسٹم لوکل الیکشنز اور ہاؤس آوو کامنز کے اندر سپیکر اور دیگر کمیٹی ارکان کو چُننے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ اِس میں اپنی ترجیحات کے مُطابق تین اُمیدواروں کو کراس نمبر ایک ، کراس نمبر دو اور کراس نمبر تین کے تحت ووٹ دینا ہوتا ہے اور بعد میں دیکھا / گِنا جاتا ہے کہ کراس نمبر ایک کی تعداد کتنی ہے کیونکہ نصف یا پچاس فیصد کی نفسیاتی حد یا threshold کو پار کرنا پہلا مرحلہ ہوتا ہے جو نہ کرسکے وُہ ساقط eliminate  ہو جاتا  ہے ۔ اِس طرح یہ طریقہ آگے چلتا جاتا ہے ۔ ہم اِس کی بُہت زیادہ تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ ابھی اور ووٹنگ یا پولنگ کے طریقہ کار باقی ہیں ۔
سپلیمنٹری ووٹ یا SV :
یہ طریقہ مئیر آف  لندن یا ویلز اور انگلینڈ وغیرہ کو چُننے کے لئے اِستعمال ہوتا ہے اِس میں ووٹر اگر چاہے تو دو ووٹ ایک ہی بیلٹ پیپر پر یعنی فرسٹ ترجیحی اور اگر چاہے تو ترجیح نمبر دو بھی کراس کے ساتھ اپنے پسندیدہ اُمیدواروں کو دے سکتا ہے ۔
جب ووٹنگ کے اختتام پر نصف سے زیادہ ووٹ اگر ایک اُمیدوار لےلے تو وُہ الیکیٹ ہوجاتا ہے اور اگر کُوئی بھی نصف سے زیادہ ووٹ نہ لے سکے تو پھر جو اُمیدوار زیادہ ووٹ حاصل کریں اُن کے عِلاوہ باقی eliminate ہوجاتے ہیں لیکن اُن کے ووٹس ( بیلٹ پیپر ) پر مُوجود سیکنڈ چوائس کو گِن کر زیادہ چوائس والے اُمیدوار کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے ۔
کلوزڈ پارٹی لسٹ ووٹنگ :
یہ طریقہ یورپئین پارلیمینٹ کے ممبرز کو چُننے کے لیے   استعمال ہوتا ہے اب جبکہ یُوکے یورپی یُونین سے باہر آگیا ہے تو یہ ووٹنگ نہیں ہوگی ۔
اِس طریقہ میں بیلٹ پیپر پر بجائے اُمیدوار کے محض پارٹی کانام اور نشان ہوتا ہے اور ووٹر اپنی پسندیدہ پارٹی کے نشان کے سامنے X کا نشان لگاتا ہے ۔
اِس طریقہ کار میں ووٹر اُمید وار نہیں بلکہ پارٹی کو چُنتا ہے ۔
اِس کے علاوہ سنگل ٹرانسفریبل ووٹ STV اور ایڈیشنل ممبر سسٹم AMS ہیں لیکن یہ دونوں طریقہ کار کا تعلق عام ووٹر سے نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اِس کی تفصیل میں بحث بعد ازاں ہوگی ۔
اور ایک آخری طریقہ ڈائریکٹ ریفرنڈم کا بھی ہے جو کہ عُموماً قومی سطع کے فیصلوں میں عوام کی رائے جاننے کے لئے ہوتا ہے ۔ جیسا کہ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکلنے کی رائے لی گئی تھی ۔
اچھا یہ سب تو ہوگئے ووٹنگ کے سسٹم طریقہ کار وغیرہ ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اصل میں ووٹ کاسٹ یا پول کیسے ہوتا ہے ۔
برطانیہ میں ڈاک کا نظام بُہت اعلیٰ ہے اِس لئے لوکل الیکشن آفس ہر ایک ہونے والے الیکشن سے پہلے ووٹر کی جانچ پڑتال بذریعہ ڈاک اور بعض اوقات door to door visit بھی کرلیا جاتا ہے ۔
الیکشن سے چند ہفتے ( time is variable ) قبل پول کارڈ ہر ایک ووٹر کو بذریعہ ڈاک مِل جاتا ہے جِس میں اُس کا نام پتہ اور جہاں اُس کا ووٹ ڈالا جانا ہے اُس جگہ عُموماً( سُکول )کانام اور map بنا ہوتا ہے ۔ آپ کی اگر تمام تفصیلات دُرست ہیں اور دُرستی  کی ضرورت نہیں ہے تو مقررہ دِن پر اپنا پول کارڈ لے کر جائیں ووٹ کاسٹ کریں ، اگر پول کارڈ گُم ہوگیا ہے تو اپنی فوٹو آئی ڈی جیسا کہ لائسینس یا پاسپورٹ ساتھ لے جائیں بالفرضِ محال اگر پولنگ آفیسر کوُئی اعتراض کردے تو ورنہ اِس کی نوبت بھی نہیں آتی ۔ جیسا کہ آج میرے پاس میرا پولنگ کارڈ نہیں تھا تو اُس نے میرا نام اور پتہ پُوچھ کر مُجھے بیلٹ پیپر دیا اور پنسل سے میں اپنا ووٹ ڈال کر آگیا ۔
یہاں برطانیہ میں ہر وُہ بندہ ووٹ ڈال سکتا ہے جو غیرقانُونی مُقیم نہ ہو یعنی کُوئی طالبِ علم ہو یا یہاں کا مُستقل رہائشی ، یہاں کی پیدائش ہو یا بعد میں آیا ہو ہر بندہ یہاں کا شہری یا رہائش کُنندہ تصور ہوتا ہے اور اُسے ووٹ کا حق حاصِل ہے ۔ووٹ ڈالنے کا عمل بُہت آسان ہے اور آپ کے محض دو منٹ لگتے ہیں ۔ آپ جائیں اپنے پولنگ سٹیشن اور آپ کانام اور ایڈریس پر ایک رُولر رکھ کر پینسل ( lead pencil ) سے لکیر لگا دی جائیگی اور لیجئے آپ کا ووٹ کاسٹ ہوگیا ۔
یہ ایک رُولر ووٹر لسٹ بیلٹ پیپر ،باکس اور ایک کچی پنسل ووٹ میں استعمال ہونے والا سامان ہے۔ نہ کُوئی پولیس نہ کُوئی فوج اور دیگر نعروں والے جھمگٹے ، کُوئی شیر شیر ، کُوئی بَلا ، کُوئی تیر کےرولے  نہیں۔۔۔۔

نہ جی نہ کُچھ بھی نہیں اور شفافیت اتنی کہ جتنی ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ تو یہ ہے اصل جمہوریت اور جمہوریت کی ماں برطانیہ کا پولنگ نظام ۔
اُمید ہے ہم بھی کبھی نہ کبھی ایسے  ہی شفاف جمہوری نظام کے حامِل مُلکوں میں شُمار ہُوں گے.

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *