جڑواں بچوں کے والدین ڈپریشن کا شکار

ایک نئی تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ  وہ والدین جنہوں نے جڑواں یا تین یا زائد بچوں کو ایک وقت میں جنم دیا ہوتا ہے، انہیں دیگر والدین سے زیادہ ڈپریشن اور بے چینی ہونے کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ایک وقت میں ایک سے زائد بچوں کو جنم دینے والے والدین  کی 48فیصد تعداد شدید ذہنی مسائل میں مبتلا تھی جن میں  صرف 10فیصد کی دیکھ بھال کی گئی۔ یہ تحقیق، دنیا بھر میں عورت کے بچہ جنم  دینے کے بعد کی ذہنی صحت  کے متعلق ہونے والی بحث کے دوران آئی ہے۔ جس میں تجویز ہونے والی نئی ہدایات کے مطابق تمام مائوں کو بچوں کی پیدائش کے چھ ماہ کے اندر اندر معائنہ ہونا چاہئے۔ تاہم امریکی محققین نے تحقیق میں اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ والدین جن کے پاس بیک وقت ایک سے زیادہ بچے ہیں ان کو مخصوص توجہ دی جانی چاہئے۔ یہ مسئلہ بالخصوص اس بات سے مطابقت رکھتا ہے کہ ایک وقت میں ایک سے زائد بچوں کی پیدائش ہونے میں بہت تیزی اضافہ ہوا ، کیونکہ جوڑے اپنے بانجھ پن کا علاج کرانے کی جانب راغب ہوئے ہیں۔ ایک سائیکیٹری اور نفسیات کی ٹیم نے 241والدین کا معائنہ کیا جن میں 197مائیں اور 44 ان کے شریک حیات شامل تھے۔ ان میں سے 48فیصد نے کہا کہ ان کی خواہش   تھی کہ والدین بننے کے بعد شروع کے مہینوں یا سال میں دبائو سے نمٹنے کیلئے ان کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی جاتی، جس کے سبب  ان میں ڈپریشن اور بے چینی پیدا ہوئی اور ان کے رشتے میں دراڑ پیدا ہوئی۔ صرف 10فیصد والدین ایسے تھے جن کو یہ دیکھ بھال نصیب ہوئی اور ان میں سے اکثریت میں ڈپریشن کا علاج کیا گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *