مسئلہ خود مختاری کا ہے۔۔۔داؤد ظفر ندیم

مجھے تو ان لوگوں سے بات کرنی ہے جو پنجاب کی تقسیم کے مخالف ہیں، مانا کہ یہ غلط ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے مگر دوستو آپ لوگ ان لوگوں کی بات سنو اور یہ تو کہو کہ ہم ان کی شکایات کیسے دور کر سکتے ہیں ۔ کیا ہم نے ان سے گالی گلوچ سے پاک ایک مکالمہ شروع کیا ہے، کیا ہمارے لیڈر اور سماجی راہنما ایسی متبادل تجاویز دے رہے ہیں کہ پنجاب کی تقسیم بھی نہ ہو اور ان کے جائز مطالبات مان لئے جائیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم گذشتہ 65 سالوں سے خود اپنی زبان کے معیاری لہجے بارے ابہام کا شکار ہیں ۔۔اگر شاہ حسین کا لہجہ ہی معیاری مان کر ہمارے ادیب اور شاعر استعمال کرتے تو اتنی خلیج پیدا نہ ہوتی ۔

کیا یہ سچ نہیں کہ جنوبی علاقے میں ہمارے علاقے سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور سول اشرافیہ نے الاٹمنٹوں اور خرید و فروخت سے وہاں کے کاشتکاروں کو بے زمین رکھا ہوا ہے ۔اگر انگریز دور کے جینوئن آباد کاروں اور 47 کے جینوئن مہاجروں کے علاوہ سب سے زمین لے کر وہاں کے بے زمینوں میں بانٹ دی جاتی تو فرق نہ پڑتا اگر ہماری پڑھی لکھی اور دانشور کلاس اس علاقے کی ظالم جاگیرداری اشرافیہ کی بجائے وہاں کے مڈل کلاس طبقے اور پڑھے لکھے طبقے سے تعلق استوار کرتی اور ان سے ادبی، سماجی اور فکری تعلق استوار ہوتا تو   بہتر ہوتا، اس کے علاوہ پنجاب کے اندر ضلعی اور تحصیل کی سطح پر زیادہ سے زیادہ مقامی خود مختاری کا مسئلہ ہے مشرف کے نظام پر اعتراف تو کئے جاتے ہیں مگر اس کا متبادل بھی نہیں دیا جاسکا۔ یہی نظام صوبوں کی تقسیم روکنے کا بہترین  پروگرام تھا مگر اب پنجاب کی موجودہ قیادت صوبے کی تقسیم کے خلاف بات کر رہی ہے مگر بلدیاتی سطح پر خودمختاری دینے سے گریزاں ہے اور پنجاب کی دانشور کلاس اس بارے بات ہی نہیں کر رہی۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *