یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج۔۔۔۔حسن رضا چنگیزی/قسط 1

ہمارے ہاں ایک چلن عام ہے کہ ہم پر کوئی بھی مصیبت آئے، ہم فوراَ چیخنے لگتے ہیں کہ اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے۔ حتیٰ کہ اگر کہیں سیلاب آ جائے یا گرمی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو تو ہم فوراَ بیرونی سازش کی دہائی دینے لگ جاتے ہیں۔ “یہ سب یہودیوں کی سازش ہے” ہمارے ہاں اکثر لوگوں کا پسندیدہ تکیہ کلام ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ عالم اسلام بالخصوص پاکستان کی تمام تر مشکلات کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے جو ہمیں پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنا مبالغہ، یہ جاننے کے لئے پہلے ہمیں سازشی تھیوری کو سمجھنا ہو گا جس کے مطابق “دنیا بھر میں جتنے بھی اہم واقعات رونما ہوتے ہیں وہ اتفاقی نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے کچھ پراسرار اور مخفی قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے”۔ اگرچہ سازشی تھیوری کی یہ ایک جامع تعریف ہرگز نہیں لیکن اس آسان سی تعریف سے اس تھیوری یا سوچ کو سمجھنے میں مدد ضرور مل سکتی ہے جس کی جڑیں سات سو سال قبل کی تاریخ میں پیوست ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس سازشی تھیوری کی بنیاد بارہویں صدی عیسوی میں پڑی۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی صلیبی جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور یروشلم میں واقع مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے یورپی مسیحی زائرین کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔  یہ راستہ چونکہ کافی لمبا اور دشوار گزار تھا اس لئے زائرین کو راستے میں عموماً لٹیروں اور ڈاکوؤں کے حملے کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔  جسے دیکھتے ہوئے پوپ کی رضامندی سے ماہر جنگجوؤں پر مشتمل ایک ایسا مسلح گروہ تشکیل دیا گیا جس کا کام سفر کے دوران زائرین کے ان قافلوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس گروہ کو تاریخ میں “نائٹس ٹیمپلر” کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ نائٹس ٹیمپلرز چونکہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے جانے والوں کے تحفظ کا  کام انجام دیتے تھے اس لئے مسیحیت کے پیروکار انہیں بہت عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔  چنانچہ عقیدت کے اظہار کے لئے وہ انہیں مال و زر کے علاوہ اپنی زرعی زمینیں بھی بطور عطیات دیا کرتے تھے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ اس گروہ کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا اور عددی لحاظ سے طاقتور ہونے کے علاوہ وہ  بے شمار مال و دولت، جائیدادوں، بحری جہازوں حتیٰ کہ بینکوں (بیت المال) اور ہنڈی کے کاروبار کے بھی مالک بن گئے۔

طاقت اور دولت میں روز افزوں اضافے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نائٹس ٹیمپلرز حکمرانوں اور پوپ کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگے کیونکہ اب وہ حکومت اور چرچ کے معاملات میں بھی مداخلت کرنے لگے تھے۔ نائٹس ٹیمپلر کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ایک مرحلے پر انہوں نے پوپ کی تعلیمات کو بھی جھٹلانا شروع کر دیا تھا اور ایک نئے دین کی تبلیغ کرنے لگے تھے۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو پیغمبر ماننے سے انکاری تھے، اس کے برعکس وہ حضرت یحیٰ کو اپنا پیغمبر اور پیشوا مانتے تھے اور انہیں کی تعلیمات کا پرچار کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ خفیہ مقامات پر جلسے کرتے جہاں نئے دین کی تبلیغ کی جاتی۔ یہ سلسلہ نسل در نسل دو صدیوں تک چلتا رہا۔ بالآخر 1307 عیسوی میں فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم نے (جو نائٹس ٹیمپلر کے بڑھتے اثر و رسوخ سے کافی خوفزدہ تھا) اس “فتنے” سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور فوج کشی کر کے نائٹس ٹیمپلرز کی ایک بڑی تعداد کو قتل کرنے کے بعد ان کے تمام اثاثوں پر قبضہ کرلیا۔ تاریخی میں درج روایات کے مطابق گروہ کے بعض افراد اس معرکے سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے بھاگ کر خفیہ مقامات پر روپوشی اختیار کرلی۔ اگرچہ بعض مسیحی حلقوں کا خیال ہے کہ نائٹس ٹیمپلرز دراصل حضرت عیسیٰ سے منسوب جام مقدس کے رکھوالے تھے اس لئے وہ ان پر لگائے گئے الزامات کو درست تسلیم نہیں کرتے اور ان کے لیے احترام کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک انتہائی خطرناک، خفیہ اور پراسرار تنظیم کی بنیاد رکھی۔ اس تھیوری پر یقین رکھنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بادشاہ فلپ کے حملے میں بچ جانے والے اگرچہ زیر زمین چلے گئے لیکن انہوں نے اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کیں اور چرچ کی تعلیمات کے خلاف اپنی تبلیغات جاری رکھیں۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے پہلے پہل سائنس کو اپنا ہتھیار بنایا اور مذہبی عقائد کے مقابلے میں سائنسی دلیلیں پیش کرنے لگے۔ اس سلسلے میں کاپر نیکس اور گلیلیو کی مثالیں دی جاتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی خفیہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے جس کا کام لوگوں کے اذہان میں مذہب سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا تھا۔ یاد رہے کہ کاپر نیکس اور گلیلیو وہ اشخاص تھے جنہوں نے پہلی بار اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ دعویٰ چونکہ چرچ کی تعلیمات سے یکسر متصادم تھا اور اس نظریے سے سورج کی پرستش کرنے والوں کو مسیحیت پر اخلاقی برتری مل سکتی تھی اس لیے گلیلیو کو دو مرتبہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی بار تو وہ اپنے دعوے کی تکذیب کر کے سزا سے بچ گیا لیکن دوسری بار معافی مانگنے کے باوجود اسے عمر بھر کے لئے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

سازشی تھیوری پر یقین رکھنے والے اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مشہور فن کار اور تخلیق کار لیونارڈو ڈائیونچی اور  مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن بھی اسی خفیہ تنظیم سے وابستہ تھے جسے ایلومیناٹی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے روشنی پھیلانے والا یا روشن دماغ والا۔ سازشی نظریہ دانوں کا خیال ہے کہ پراسرار خفیہ سوسائٹی ایلومیناٹی مختلف ناموں کے تحت صدیوں سے قائم ہے اور آج اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی قسم کا واقعہ برپا کرا سکتی ہے۔ ایلومیناٹی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس پراسرار تنظیم کی باقاعدہ بنیاد یکم  مئی 1776 میں بویریا ـ(Bavaria) میں رکھی گئی اور اس کے بانی کا نام ایڈم وایزہاپٹ تھا جو یہودیت ترک کر کے مسیحیت اختیار کر چکا تھا۔ سازشی نظریہ دانوں کے مطابق دونوں عالمی جنگیں ایلومیناٹی کی منصوبہ بندیوں کے  نتیجے میں وقوع پزیر ہوئیں۔ ان کے خیال میں  پہلی جنگ عظیم کو برپا کرنے کا مقصد روسی زار حکومت کو کمزور کر کے اس کے سقوط کی راہ ہموار کرنا اور دوسری جنگ عظیم کا مقصد جرمنی کی طاقت پر کاری ضرب لگانا تھا۔ اسی طرح انقلاب فرانس اور روسی بالشویک انقلاب کی منصوبہ بندی اور کامیابی کا سہرا بھی ایلومیناٹی کے سر باندھا جاتا ہے جن کا مقصد دنیا کی دو طاقتور بادشاہتوں کا خاتمہ تھا۔  کارل مارکس کے بارے میں سازشی نظریہ دانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہودی پیشواؤں  کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس نے اینگلز کے ساتھ مل کر ایلومیناٹی کی زیر نگرانی  کمیونسٹ مینی فسٹو تحریر کی۔  روسی کمیونسٹ انقلاب کے بارے میں تو یہاں تک دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام تر پلاننگ ایلومیناٹی نے کی اور لیون ٹراٹسکی جو ان دنوں امریکی شہر نیویارک میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے کے ذریعے لینن کو سونے کی شکل میں دو کروڑ ڈالر کا کثیر سرمایہ بھی فراہم کیا گیا جس کا بندوبست ایلومیناٹی سے منسلک ایک امریکی بینکار جیکب شف (Jacob Schiff) نے کی۔ سازشی تھیوری پر یقین رکھنے  والے کمیونزم کے علاوہ ایتھیزم اور لبرل ازم کو بھی اسی خفیہ تنظیم کے اعلیٰ دماغوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد انسانوں کو مخلف گروہوں میں تقسیم کر کے اور انہیں آپس میں لڑا کر دنیا میں افراتفری پھیلانا اور لوگوں کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سازشی نظریے کے بعض پیروکار جدید تعلیم، سائنسی تحقیقات اور نت نئی سائنسی ایجادات کو بھی اسی خفیہ سوسائٹی کی سازشوں کی کڑی سمجھتے ہیں۔

نوٹ؛ یہ مضمون تین اقساط پر مشتمل ہے اور یہ پہلی قسط ہے۔

حسن رضا چنگیزی
حسن رضا چنگیزی
بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک بلاگر جنہیں سیاسی اور سماجی موضوعات سے متعلق لکھنے میں دلچسپی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”یہودی سازشیں اور کینسر کا علاج۔۔۔۔حسن رضا چنگیزی/قسط 1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *