قربانی سنت یا ۔۔۔۔۔۔عبدالغنی محمدی

عید الا ضحیٰ کی آمد آمد تھی ، قربانی کے ایام قریب تھے ۔ محلہ کے اکثر لوگ سنت ابراھیمیؑ کو پورا کرنے کے لئے عید سے کافی دن قبل ہی قیمتی اور فربہ جانور خرید چکے تھے ، گلیوں اور بازاروں میں انسانوں سے بڑھ کر جانوروں کے رش کا منظر بھی انتہا ئی دیدنی تھا ۔ احمد کے ابا نے حسب سابق امسال بھی ابھی تک کوئی جانور قربانی کیلئے نہیں خریدا تھا ۔ لیکن یہ کوئی زیادہ حیران کن بات نہ تھی ، کیونکہ انکی سالہا سال سے یہ عادت تھی کہ وہ عید سے ایک دو دن قبل ہی جانور خریدتے تھے ۔ د ا دا جی کے با رہا سمجھانے کے باوجو د کہ بیٹا قربانی کے جانور کو کچھ دن پاس رکھ کر کھلانا پلانا چاہیے تاکہ اسکے ساتھ انس ، پیا ر ، الفت ، محبت اور مودت کا رشتہ قائم ہو، پھر اسکو قربان کرتے وقت کسی محبوب چیز کے ہاتھوں جانے کا احساس ہو لیکن احمد کے ابا تھے، کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی تھی ۔ وہ عید کے بالکل قریب جانور خریدتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ شہروں میں جانوروں کو گھروں میں رکھنا چو نکہ انتہائی دشوار ہے، گھر چھوٹے اور پکے ہونے کی بنا ء پر مشقت دوگنی ہو جاتی ہے، اس لئے عید سے ایک آدھ دن قبل ہی جانور کا خریدنا قرین مصلحت ہے ۔ دادا جی بھی اب سمجھا سمجھا کر شکست تسلیم کر چکے تھے ۔
لیکن اس عید پے جو بات سبھی کو حیرت کے غوطے دے رہی تھی وہ احمد کی تا حال پر اسرار خامو شی تھی ۔ احمد جو کہ عید سے کافی دن قبل ہی محلے میں کسی ایک آدھ جانور کو دیکھ لینے پر آسمان سر پر اٹھا لیتا تھا ،اس مرتبہ اس نے ایک بار بھی قربانی کا جانور لانے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔ احمد کے ابا جو کہ ایک کاروباری آدمی تھے ان کے پاس اتنی فرصت کہاں تھی کہ سوچ پاتے،کہ احمد کے رویے اور طرز عمل میں اس قدر غیر معمولی تبدیلی کیوں آئی ہے ؟
احمد کے دادا جی نے اس غیر معمولی تبدیلی کو فورا ًبھانپ لیا ۔ آخر دادا جی نے احمد سے ایک دن پوچھ لیا کہ اس مرتبہ اس میں عید کا جو ش وخروش اور خوشی تا حال کیوں نہیں دکھائی دے رہی ؟ احمد اول تو چپ رہا اور اصل بات کو ٹالنا چاہا ، لیکن دادا جی کے بے حد  مشفقانہ انداز کے سامنے احمد آخر بات کو کیسے چھپا سکتا تھا ، دادا جی کے نرمی اور مٹھاس سے بھر پور لہجے نے ،احمد کو دل کی بات کہنے پر مجبو ر کر دیا ۔ دادا جی ! دیکھیں یہ کیسی عید ہے کہ جس میں لاکھوں جانوروں کے گلوں پر چھری چلادی جائے ؟ کسی دوسری مخلوق کو تکلیف و اذیت میں مبتلا کر کے او ر اس کی نسل کشی کر کے خو د خوشی مناناتو انصاف نہیں ہے ۔ مزید برآں اس میں مال کا ضیاع بھی ہے ۔ ہاں اگر اسکی جگہ ہم اپنے مال کو کسی فلاحی کام میں خرچ کریں تو کیا ہی اچھا ہو ۔
احمد کے دادا کی تو اس غیر متوقع جواب کوسن کے حیرت کی انتہا ء نہ رہی ، لیکن بیٹے یہ تو سنت ہے اور ہمارا دین اسلام ہمیں اس کا حکم دیتا ہے ۔ احمد جھٹ سے بولا دادا جی ! یہ سنت حج کے ساتھ خاص ہے ہم نے اس کو خوا مخوا ہ اپنے لئے سمجھ لیا ہے ، وہا ں چونکہ کثرت کے ساتھ لوگ آئے ہو تے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کی غرض سے قربانی صرف وہاں مشروع ہے ۔
احمد کے دادا جو کہ قرآن و سنت اور دیگر اسلامی کتابوں سے خاصا شغف رکھتے تھے ،اور انتہائی سمجھ دار آدمی تھے، فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گئے ، یہ یقیناًاحمد کے کسی پروفیسر یا جدیدیت سے مرعو ب کسی دوست کی خامہ فرسائی تھی ، ایسے لوگ نئی نسل کو خاص کر عقلیت پسندی سے متاثر کر کے اسلام اور اسکی تعلیمات سے ورغلانے کی کوشش کر تے ہیں نتیجتاً بہت سے نوجوان گمراہی کے رستے چل پڑتے ہیں ، اور ان لوگوں کے آلہ کا ر بن جاتے ہیں ۔ ایسے موقع پر دادا جی اپنے فرض سے خوب آشنا اور واقف تھے ، داداجی اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ اگر آج احمد کی فکری بے راہ روی کو نہ روکا گیا تو نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں ۔
داداجی نے احمد کو بہت پیا ر اور شفقت سے سمجھایا ، دیکھو بیٹا قربانی نبی ﷺ کی سنت ہے آپ ﷺ نے مدینہ میں دس سال تک مسلسل قربانی کی ، جس سے یہ بات بخوبی سمجھ آ جاتی ہے کہ قرنی صرف مکہ یا حج کے ساتھ خاص نہیں ہے نیز حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ عید الاضحی ٰکے دن قربانی سے بڑ ھ کر اللہ کے ہاں کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے ۔ جب ہم قربانی کر تے ہیں تو اس سے اللہ کی قربت نصیب ہو تی ہے ، قربانی سے آدمی میں ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے کا جذبہ پیدا ہو تا ہے ۔ دیکھو بیٹا ! قربانی اللہ کا حکم ہے ، اللہ کے حکم کو پورا کر نے کیلئے جو مال لگے وہ قیمتی بن جاتا ہے نہ کہ ضائع ہو تا ہے ۔ جب ہم اللہ کے حکم کی تعمیل کی خاطر مسجد یں تعمیر کر تے ہیں ، زکوٰۃ ، صدقات دیتے ہیں اور حج کر تے ہیں تو ان تما م امور پر خرچ ہو نے والامال ضائع نہیں ہو تا ہے بلکہ قیمتی بن جاتا ہے اس لئے قربانی میں لگنے والامال بھی قیمتی بنتاہے ۔رہی یہ بات کہ ایسا کرنے میں جانوروں پر بظاہر ظلم نظر آتاہے تو ایسا نہیں ہے ، کیونکہ جانوروں کو پیدا کر نے کا مقصو د ہی جب یہ ہے تو ان کے ساتھ ایسا کرنا ظلم کس طرح ہے ؟ اگر ہم ان کو ذبح نہ کریں تو انکا گوشت کا رآمد نہ ہو گا ۔ تم ہی بتاؤ گوشت کو ضائع کرنا اچھا ہے یا اسکو استعمال میں لانا ؟
قربانی سے جانوروں کی نسل کشی کا تو سوال ہی پیدانہیں ہو تا ہے ۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جانوروں کو ذبح کرنے کے با وجو د آج بھی گائے ، بھینس ، بکری وغیرہ کی تعداد ان جانوروں سے زیادہ معلوم ہو تی ہے جن کی مادائیں تین ، تین چار، چار بچے جنتی ہیں ۔
بیٹے ! جب اسلام میں قربانی کی یہ اہمیت ہے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص قربا نی نہ کرے تو وہ ہماری نماز گا ہوں کے قریب نہ آئے تو قربانی کے ما ل کو کہیں اور خرچ کرنا کس طرح درست ہو گا ؟ اسلام نے فلاحی کاموں کے لئے جدا طور پر زکوۃٰ ، عشر ، صدقات اور عطیات وغیرہ کا نظام بنا یا ہے، جس پر اگر ہم عمل کریں تو فلاحی کاموں کیلئے کسی طرح بھی مزید رقم کی ضرورت نہ پڑے ۔
احمد دادا جی کی باتوں کو سمجھ چکا تھا اور دین کے معاملات میں عقلیا ت کے پیچھے لگنے سے توبہ کر چکا تھا ۔ اگلے دن ہی احمد کے پرزور اصرار پر ابا جی کو گھر میں قربانی لانی پڑی ، سب گھروالے بہت خو ش تھے اور دادا جی بھی اللہ رب العزت کا شکر بجا لا رہے تھے کہ اس نے ان کے بچے کی سوچ کو غلط بے راہ روی سے بچالیاتھا ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *