مذہبی جماعتیں اور اتحاد امت۔۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

اتحاد و وحدت اچھی چیز ہے۔ کسی بھی معاشرے میں رہنے والے گروہ جب باہمی اتحاد و اتفاق کی بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہیں تو معاشر ے میں اطمینان کی فضا قائم ہوتی ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مسلمان  پورے خطے میں بکھرے ہوئے تھے، کہیں ان کی اکثریت تھی، مگر اکثر جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ یہی بکھری ہوئی اکائیاں جب ایک نشانِ منزل کے لئے متحد ہوئیں تو پورے ہندوستان کے مسلمان اتحاد کا نشان بن گئے، ان کا نشان بھی قومی نشان بن گیا، ان کا نعرہ بھی قومی نعرہ بن گیا اور ان کی منزل بھی قومی منزل بن گئی۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کوئی قوم عروج پاتی ہے، وہ منزل کی طرف نہیں جاتی بلکہ منزل اس کی طرف آتی ہے۔ آج وطن عزیز اسی اتحاد و وحدت کی برکت کا نتیجہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی اپنی اسی نعمت اتحاد کو یاد کراتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا“اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو، جو اس نے تم پر کیا ہے کہ تم آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت (فضل و کرم) سے بھائی بھائی ہوگئے۔”

انتشار معاشروں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے، انتشار سے ہی دیگر اقوام کو موقع ملتا ہے کہ منتشر قوموں کے وسائل پر قبضہ کر لیں اور ان قوموں کو  ٹکڑوں میں بانٹ دیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان اسی سیاسی انتشار کا نتیجہ تھا جب سیاسی اور دیگر قوتوں نے اتفاق کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پالیسی جاری رکھی تو ملک دو لخت ہوگیا۔ انتشار کی بنیاد کچھ بھی ہو، نتیجہ بربادی ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں جاری خانہ جنگیوں کا بغور مشاہدہ کریں تو تنازعات کی بنیادوں میں رنگ، نسل، وسائل اور مذہب بنیادی وجوہات ہیں۔ جب کوئی تنازع مذہبی رنگ اختیار کر جاتا ہے تو اس کی طاقت عام تنازع سے ہزار گنا بڑھ جاتی ہے۔ لڑائی بھلے افریقہ میں ہو، مگر امریکہ میں رہنے والے دونوں مذاہب کے پیروکار بھی باہم دست و گریباں ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 1994ء سے لیکر مشرف کے مارشل لاء تک، یہ دور ٹارگٹک کلنگ کا دور ہے، جس میں بڑی بڑی شخصیات شہید ہوئیں اور زیادہ تر شیعہ بیروکریسی اور زمیندار طبقے کو نشانہ بنایا گیا۔ مشرف دور میں جہاں فوج پر براہ راست حملے شروع ہوئے، وہیں عام مساجد اور امام بارگاہوں پر خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی دور میں کراچی میں بڑے پیمانے پر شیعہ ڈاکٹرز کو شہید کیا گیا۔

اس قتل غارت کے ماحول میں جب فضا تکفیریت سے مسموم تھی، متحدہ مجلس عمل کے نام سے تمام مسالک کی بڑی جماعتوں کا اتحاد وجود میں آیا۔ یہ اتحاد پہلا اتحاد نہ تھا، اس سے پہلے ملی یکجہتی کونسل کے نام سے بھی دینی جماعتیں اتحاد قائم کرچکی تھیں، جو حالات کی نظر ہوگیا۔ مجلس عمل کے انتخابی پہلو سے قطع نظر اس کے معاشرے پر بہت اچھے اثرات پڑے، کیونکہ یہ سیاسی اتحاد تھا اور  اس نے ہر بڑے شہر میں بڑے بڑے جلسے اور میٹنگز کیں۔ تمام مسالک کے مذہبی لوگ ملکر مجلس عمل کے امیدواروں کی جیت کے لئے کوششیں  کر رہے تھے۔ اس سے  لوگ باہمی طور پر ایک دوسرے کے قریب آئے، پہلی بار بڑی تعداد میں  علماء کرام ایک دوسرے کی مساجد و مدارس میں گئے۔ ایک دوسرے کے خلاف ذہنوں میں موجود غلط فہمیاں دور ہوئیں اور معاشرے نے بجا طور پر اطمنان محسوس کیا۔

اب الیکشن سے پہلے مجلس عمل پھر سے بحال ہوچکی ہے۔ اس کی  تنظیم سازی جاری تھی کہ اس کے مدمقابل مذہبی جماعتوں کا ایک نیا  اتحاد بنا دیا گیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں حسب سابق توقع تھی کہ  متحدہ مجلس عمل جیت جائے گی، اس لئے ان کا راستہ روکنے کے لئے مذہبی اتحاد کے مقابل ایک اور مذہبی اتحاد کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ مذہبی قوتوں کی پارلیمنٹ میں زیادہ مؤثر آواز بننے کی  امید ذرا کم ہوگئی ہے۔ کاش کہ ایسا نہ ہوتا، پہلا اتحاد کیونکہ پہلے کے مقابل بنا تو دونوں ایک دوسرے کے خلاف اپنی توانائیاں استعمال کریں گے۔ جب مقصد ایک ہو تو بیس اتحاد بھی ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں اور جب مقاصد  الگ الگ ہوں تو نتیجہ بھی افتراق ہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ فکری اور نظریاتی طور پر اس نئے اتحاد کا وجود ایک چیلنج ہے، عملی طور پر یہ کتنا بڑا چیلنج ہے؟ یہ وقت بتائے گا۔

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *