• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا عمران خان حکومت واقعی خطرے میں ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

کیا عمران خان حکومت واقعی خطرے میں ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

اسلام آباد کی غلام گردشوں میں براجمان معتبر سیاسی حلقوں اور نامور صحافتی ذرائع کے درمیان اِس وقت جو ملین ڈالر سوال ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی نااہل عمران خان حکومت کب رخصت ہو رہی ہے اور اُس کی جگہ کون سی متبادل قیادت کب اور کن شرائط پر سامنے لائی جا رہی ہے؟۔ اگر تھوڑا سا ماضی کی طرف جائیں تو سنہ 2010ء کے سیلاب کے دنوں میں ٹی وی چینلز پر سیلاب کی خبریں کم ڈسکس ہوا کرتی تھیں مگر مخصوص طاقتوں کے اشاروں پر کچھ اینکرز وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو نا اہل اور کرپٹ کہنے پر زور لگایا کرتے تھے۔ اب اپنی یاداشت کی فلم کو تھوڑا آگے لے آئیں۔

سنہ 2013ء کے انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ نون کی حکومت اقتدار میں آئی۔ آج کل تحریک انصاف سے دوریاں اختیار کیے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ سنہ 2013ء کے انتخابات میں کچھ حلقوں میں دھاندلی ہوئی مگر تحریک انصاف نے تمام نشستوں پر دھاندلی کا شور مچا دیا اور لانگ مارچ، دھرنوں کی منفی سیاست کے ذریعہ حکومت کو امپائر کی انگلی کے ذریعہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تحریک انصاف نے زمام اقتدار سنبھالی۔ ابھی انصافی حکومت کو قائم ہوئے 2 سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور عمران خان حکومت اپنی ناقص معاشی پالیسیوں، انتہائی بری وزارتی کارکردگی اور اپوزیشن سے بلاوجہ کی محاذآرائی کی بدولت اس مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے کہ لوگ اسے ہٹانے اور نیا سیٹ اپ لانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

کالم نگار:غیور شاہ ترمذی

اس حوالے  سے ہمیں کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان حکومت کو ہٹایا کیسے جائے؟۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی 18ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ طے ہے کہ اگر عمران خان  حکومت کو ہٹانے کے لئے مارشل لاء لگایا گیا تو ایسا کرنے والے فوجی جنرل آئین کی دفعہ 6 کے تحت سزائے موت جیسی سخت سزا کے ملزم ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی یہ سنہ 1977ء یا  1999ء نہیں ہے، بلکہ یہ سنہ 2020ء ہے۔ آج کی دنیا کبھی بھی مارشل لاء یا مارشل لاء جیسے کسی نظام کے نفاذ کو قبول نہیں کرے گی۔دوسری بات یہ ہے کہ اب مسلح افواج خود بھی براہ راست مارشل لاء لگانے یا جنرل مشرف جیسے ہلکے پھلکے مارشل لاء لگانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں ۔ کیونکہ کوئی مانے یا نہ مانے مگر جنرل پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے جرم میں خصوصی عدالت سے ملنے والی سزائے موت پاکستانی عدالتی تاریخ کا ایک اہم فیصلہ ہے ۔ اگر میجر جنرل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان  کو اُس وقت کی سپریم کورٹ اِسی طرح آئین توڑنے پر سزا سنا دیتی تو بعد میں آنے والے کسی بھی ڈکٹیٹر کو یہ جراَت نہ ہوتی کہ وہ اپنے ہی ملک کو فتح کرتے ۔ ان مارشل لاؤں کی وجہ سے یہاں جمہوریت کبھی نہ پنپ سکی جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ایک دفعہ بھی کسی کو مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں ہوئی ۔ یاد رہے کہ مارشل لاء لگانے والا ایک شخص ہوتا ہے مگر بدنامی سارے ادارے کی ہوتی ہے ۔عمران خان  حکومت گرانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ اس طریقہ کار میں مگر نقصان یہ ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں یا حکمران جماعت سپریم کورٹ چلی جائے  تو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے معزز ججز صاحبان اِس غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کر سکتے  اور نہ ہی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت اسے جائز قرار دے سکتے  ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کے معزز ججز صاحبان کسی بھی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت اسمبلیاں توڑنے یا مارشل لاء یا مارشل لاء جیسے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں تو وہ بھی آئین کے آرٹیکل 6 کے ملزم بن جائیں گے۔

اب جو طریقہ بچتا ہے اُس کے مطابق عمران خان  کو بھی سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کی طرح عدالت سے نا اہل کروا دیا جائے۔ سید یوسف رضا گیلانی ایک سیاسی خاندان کے چشم و چراغ تھے اور اُن کی بچپن سے ہی سیاسی تربیت کی گئی تھی، اس لئے سپریم کورٹ نے جب اپنے چیف چوہدری افتخار محمد کی سربراہی میں انہیں ’’بلاوجہ ‘‘ نا اہل کیا تو انہوں نے محاذ آرائی کی بجائے چپ کر کے اپنا سامان اُٹھایا اور وزیر اعظم ہاؤس خالی کر گئے۔ میاں نواز شریف بھی اگر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ والی محاذ آرائی کی ناکام کوشش نہ کرتے تو انہیں خود پر قائم مقدمات میں اتنی جیلیں نہ بھگتنا پڑتیں۔ بہرحال اب ایک ’’خاموش معاہدہ‘‘ کے بعد وہ بسلسلہ علاج لندن مقیم ہیں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ تب تک وطن واپس نہیں آئیں گے جب تک انہیں اس بات کی گارنٹی نہ فراہم کر دی جائے کہ اُن پر درج مقدمات ختم کر دئیے جائیں گے اور انہیں جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان  کو بھی گیلانی اور شریف کی طرح فارن فنڈنگ کیس، گزشتہ دور میں خیبر پختونخوا  حکومت کے ہیلی کاپٹر کے ناجائز استعمال کیس یا کسی دوسرے کیس میں عدالت سے نااہل قرار دے دیا گیا تو کیا وہ چپ چاپ بیٹھ جائیں گے اور خاموشی سے یہ فیصلہ قبول کر لیں گے؟۔ اس سوال کا واضح اور بڑا جواب یہی ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ عمران خان  نے اپنے یوتھیوں کی شکل میں جو فوج ظفر موج اکٹھی کر رکھی ہے، وہ عمران خان کو کبھی خاموشی سے بیٹھنے نہیں دے گی۔ اس لیے  یہ طے ہے کہ عمران خان   کو اگر عدالتی نا اہلی کے ذریعے  اقتدار سے الگ کیا گیا تو وہ شدید احتجاجی راستہ اختیار کریں گےجو مقتدر طاقتوں کے ساتھ محاذ آرائی پر بھی متنج ہو سکتا ہے۔

ایک اور راستہ جس پر جہانگیر ترین کی قیادت میں تحریک انصاف کے ناراض اراکین کوشش کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر عمران خان  کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائے اور مائنس عمران خان  اور اُن کے چند ساتھیوں کے ایک ڈھیلی ڈھالی قومی حکومت قائم کر دی جائے جو اگلے دو تین سالوں تک ملکی نظام حکومت چلائے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے علاوہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خزانے  میں سرکاری ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہیں بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اگلے سال کا دفاعی بجٹ فنانس کیا جا سکتا ہے۔ کورونا وائرس کی ہنگامہ خیزیوں نے پہلے سے کمزور ہوتی معیشت کو مزید دگردوں کر دیا ہے۔ اس لئے اب یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ عوام کی ہڈیوں سے مزید خون چوسا جا سکے۔ مقتدر حلقے اب مزید کوئی رسک نہیں لیں گے کہ وہ ٹیکنو کریٹ جیسا کوئی سیٹ اپ لے کر آئیں کیونکہ اس وقت عمران خان  حکومت میں جو بھی لوگ بڑھ چڑھ کر نظام حکومت چلا رہے ہیں وہ سب کے سب ٹیکنو کریٹس ہی ہیں۔ یہ وہی ٹیکنو کریٹس ہیں جو جنرل مشرف سے لے کر عمران خان  حکومت تک مقتدرہ کی پہلی چوائس رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ملک اور دنیا بھر میں کوئی دوسرے ٹیکنوکریٹس نہیں ہیں جنہیں مقتدرہ حلقے ٹرائی کرنا چاہتے ہوں۔ پاکستان کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں یہ طے ہو چکا ہے کہ انہیں صرف سیاسی حکومت ہی حل کر سکتی ہے جس کے لئے سیاستدانوں کی ضرورت ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، وہ عمران خان  کے ساتھ مزید کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے زیادہ تر امکانات یہی ہیں کہ اگر عمران خان  حکومت جا رہی ہے تو یہ تحریک انصاف میں جہانگیر ترین اور دوسرے ناراض اراکین پر مشتمل بنائے گئے فارورڈ بلاک بنانے کے بعد تحریک عدم اعتماد سے ہی جائے گی۔

اس ضمن میں الگ سے کچھ سوالات ہیں کہ صرف جہانگیر ترین اکیلے تو یہ فارورڈ بلاک بنوا نہیں سکتے اور نہ ہی وہ خود منتخب پارلمینٹیرین ہیں۔ انہیں لا محالہ طور پر منتخب اراکین اسمبلی سے ہی کسی شخصیت کی اس فارورڈ بلاک کو لیڈ کرنے کے لئے ضرورت ہو گی۔ اس کردار کے لئے جہانگیر ترین اور مقتدرہ کے پاس سب سے موزوں شخصیت گجرات کے چوہدری برادران اور خاص طور پر چوہدری پرویز الٰہی کی ہے۔ اگر چوہدری برادران اس فارورڈ بلاک بنانے کے لئے جہانگیر ترین اور مقتدرہ کی مدد کرتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اِس میں اُن کے لئے کیا ہو گا؟۔ اب تک کے حالات کے مطابق چوہدری برادران اس کوشش میں صرف تب ہی ہمراہ ہوں گے اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ انہیں دی جائے گی۔ تحریک انصاف اور عمران خان  کی جانب سے یہ بہت غلط فیصلہ تھا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ عثمان بزدار کو دے دی گئی ،حالانکہ اگر وہ یہ وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے سپررد کر دیتے تو آج وہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کا پرفارمنس دینے والا چہرہ ثابت ہوتے۔ اگر چوہدری پرویز الٰہی  کو نئے سیٹ اپ میں وزیر اعلیٰ بننا ہوتا تو یہ طے ہے کہ انہیں مسلم لیگ نون کی حمایت چاہیے ہو گی۔ اگر مسلم لیگ نون انہیں یہ حمایت دے دیتی ہے تو اس کے بدلہ میں مرکز میں وزارت عظمیٰ کے لئے چوہدری برادران اور قاف لیگ بھی مسلم لیگ نون کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت مرکز میں بنتی ہے تو عمران خا ن  اور اُن کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں کسی کو پیشین گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون اپنی 82 نشستوں کے ساتھ اور تحریک انصاف کے تقریباً 40 رکنی فارورڈ بلاک کے باوجود بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی ،کیونکہ 342 رکنی قومی اسمبلی میں عمران خان  کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے اور نئی حکومت بنانے کے لئے انہیں کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت پوری کرنے کے لئے مسلم لیگ نون پابند ہو گی کہ اُسے پیپلز پارٹی کے 54 اراکین، جمعیت علمائے اسلام کی سربراہی میں متحدہ مجلس عمل کے 15 اراکین، مسلم لیگ قاف کے 5 اراکین، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 اراکین، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ کے 7 اراکین، عوامی نیشنل پارٹی کے 1 رکن، جمہوری وطن پارٹی کے 1 رکن اور آزاد 13 اراکین کا بھی تعاون حاصل ہو۔ جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 3 اراکین اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ کے 1 رکن کو اگلے سیٹ اپ کے لئے کوئی سیاسی جماعت اہمیت نہیں دے رہی۔

مسلم لیگ نون سے وابستہ ایک انتہائی باخبر ذریعہ کا کہنا ہے کہ مقتدرہ کی پسندیدہ ٹیکنو کریٹ حکومت کی ناکامی کے بعد پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کے قیام میں اس وقت ترپ کا پتہ بیک وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زراداری اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے پاس ہے۔ یہ دونوں لیڈران اکیلے یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور اگر عمران خان  حکومت کو ہٹانا طے ہو چکا ہے تو ان دونوں کو باہم مل کر بیٹھنا ہو گا۔ عمران خان  مائنس اگلے انتخابات تک چلنے والے اس سیٹ اپ کے قیام کے لئے دونوں راہنما مقتدرہ سے اب تحریری معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں یہ طے ہو کہ اگلے سیٹ اپ میں کس کے ذمہ کیا امور ہوں گے؟۔ سیاسی طاقتیں انڈیا، ایران، افغانستان اور سعودی عرب وغیرہ جیسے ممالک کے ضمن میں اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسی کا اختیار خود رکھنا چاہتی  ہیں جبکہ امریکہ، چین، برطانیہ اور روس کے حوالہ سے خارجہ پالیسی کی تشکیل میں مقتدرہ کے ساتھ مشاورتی عمل کرنے کے لئے رضامند ہیں مگر فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار صرف پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی قومی حکومت کا ہو گا۔ اس کے علاوہ سیاستدان یہ بھی معاہدہ چاہتے ہیں کہ مقتدرہ انتخابات کے دوران کسی بھی طرح کی مداخلت سے باز رہے گی اور خصوصاً آئی ایس آئی کا سیاسی جماعتوں پر کنٹرول کرنے والا ونگ اپنی سرگرمیاں ترک کر دے گا۔ اگلے سیٹ اپ میں ایک اور شرط کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ مقتدرہ اس بات کی گارنٹی دے کہ عدالت عظمیٰ میں جسٹس چوہدری افتخار اور جسٹس ثاقب نثار کی طرح حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور حکومت کو اپنا کام کرنے دیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے زور دئیے جانے والی ان شرائط کو مسلم لیگ نون سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے اراکین بھی اہمیت دے رہے ہیں اور آصف زرداری تو واضح کر چکے ہیں کہ جب تک ان شرائط کے تحت تحریری معاہدہ نہیں کیا جائے گا وہ عمران خان  حکومت گرانے کی کسی کوشش میں شریک نہیں ہوں گے۔

قومی اسمبلی میں جماعتوں کی نشستوں کی تعداد کا تانابانا کچھ اس طرح ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر اگر مسلم لیگ نون کوشش بھی کرے تو عمران خان حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔ مسلم لیگ نون کے لئے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس نئے سیٹ اپ کے لئے اگر پنجاب میں چوہدری پرویز الہیٰ کی حمایت کی جاتی ہے تو شہباز شریف اور میاں حمزہ شہباز کارنر ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم کے عہدہ کے لئے میاں شہباز شریف پہلے ہی آؤٹ ہو چکے ہیں کیونکہ نون لیگ کی طرف سے اس کے لئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو نامزد کر دیا گیا ہے جنہوں نے میاں نواز شریف کی عدالتی نااہلی کے بعد نون لیگی حکومت کی زمام اقتدار الیکشن تک خوبی سنبھالی تھی بلکہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اُن کی پرفارمنس کا معیار میاں نواز شریف سے بہتر ہی تھا۔ پنجاب کو چوہدری پرویز الٰہی  کے حوالے کرنے کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ اگلے انتخابات میں پنجاب کو نون لیگ کی بجائے چوہدری پرویز الٰہی  کی پارٹی لیڈ کرے گی۔ سنہ 2008ء کے انتخابات میں میاں شہباز شریف نے مسلم لیگ قاف کے 66 اراکین پنجاب اسمبلی میں سے میاں عطا محمد مانیکا کے ذریعہ 20/22 رکنی فارورڈ بلاک بنوا کر جو سوراخ کیا تھا، اُسے سنہ 2020ء میں اپنے 160 اراکین پنجاب اسمبلی دے کر بند کرنا پڑے گا۔ اس طرح چوہدری پرویز الٰہی  قاف لیگ کے اپنے ممبران کے علاوہ تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کی مدد سے وزارت اعلیٰ حاصل کریں گے۔

بظاہر تو یہ صورتحال بڑی دلچسپ اور قابل عمل نظر آتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے مرحلہ میں میاں نواز شریف فیملی اور میاں شہباز شریف فیملی کے لئے کیا ہو گا؟۔ کیا وہ اپنے خلاف درج مقدمات سے خلاصی حاصل کر لینے کے چھوٹے سے فائدے  کے لئے اس منظر نامے  کا حصہ بننے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟۔ پنجاب میں اقتدار چوہدری پرویز الٰہی کو دینے اور مرکز میں پیپلز پارٹی کو شریک اقتدار کر لینے کا مطلب یہ ہو گا کہ مسلم لیگ نون اپنے وجود قائم رکھنے کے لئے مشکلات کا پہاڑ اکٹھا کر لے۔ مائنس عمران خا ن  کے بعد تحریک انصاف کا مقدر بھی یہی ہو گا۔ جس تیزی سے جنرل پرویز کیانی اور جنرل شجاع پاشا نے الیکٹیبلز کو بزور تحریک انصاف میں شامل کروایا تھا۔ اقتدار جاتے دیکھ کر ان کی اکثریت واپس اُن پارٹیوں میں جانے کی کوشش کرے گی جہاں سے انہیں ٹکٹ اور ووٹ  بنک ملنے کی امید ہو گی۔ چوہدری پرویز الٰہی  کی موجودگی میں سنہ 2023ء کے انتخابات میں شریف فیملی کو یہ بھول جانا پڑے گا کہ وہ کبھی مسلم لیگ کے قائدین تھے کیونکہ چوہدری پرویز الٰہی  اس ملنے والے موقع کو اس لحاظ سے یادگار بنا لیں گے کہ اگلے انتخابات تک تمام مسلم لیگی اراکین اُن کی قیادت کی چھتری تلے اکٹھے ہو جائیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے پاس اگر چوہدری پرویز الٰہی کی چھتری کے نیچے جانے والا آپشن نہیں ہو گا تو اُن کے لئے دوسری چوائس پیپلز پارٹی ہی ہوگی  جس کے پاس سنہ 2008ء کے انتخابات میں 78 نشستیں تھیں مگر اُس کے بعد وہ پنجاب کی سیاست سے آؤٹ ہو گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے پاس پنجاب میں ووٹ بنک موجود ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تب ہی ممکن ہو گا جب بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو لاہور میں مال روڈ پر دفتر بنا کر کارکنوں سے رابطہ استوار کرنے کے لئے فری ہینڈ نہیں دیا جاتا۔ پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک آج بھی ہر حلقہ میں انتہاپسندوں کے مقابلہ میں لبرل ووٹرز کی شکل میں اور خاموش ووٹرز کی شکل میں موجود ہے جس نے یا تو پچھلے دس سالوں کے دوران ووٹ ہی نہیں ڈالا یا پھر اگر ڈالا بھی تو پیپلز پارٹی کے نہ ہونے کی وجہ سے متبادل کے طور پر تحریک انصاف یا دوسری جماعتوں کو دے دیا۔ عمران خان  کو ہٹانے کے لئے ہونے والی کوششوں کے نتیجہ میں بننے والے سیٹ اپ کی وجہ سے پیدا ہونے والے ان خطرات کا ادراک شریف فیملی کو لازمی ہو گا۔ شریف فیملی کو ان کوششوں سے کیا ملے گا ،کے سوال کا جواب ملنے تک عمران خان کو ہٹانے کی ان کوششوں کے بارآور ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس سارے کھیل میں اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، اس لئے وغیرہ کا بہت عمل دخل ہے۔ یوں ہو گا تو وہ ہو جائے گا اور اگر یوں نہ ہوا تو وہ پھر بھی  ہو جائے گا۔ یہ بہت مشکل کھیل ہے اور اکیلے اسے نہ مقتدرہ کھیل سکتی ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتیں سارا کیک اکیلے ہضم کر سکتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہ کر سکی اور اس نے عوام کی مشکلات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ مگر یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کافی سالوں تک بھی اقتدار میں رہنے کے باوجود بھی عوام کے مسائل کو حل کرنے میں قطعاً ناکام ہو چکی ہیں ۔ عوام جیسے تحریک انصاف کی کارکردگی سے مایوس ہیں تو ویسے ہی وہ دونوں بڑی پارٹیوں سے بھی مایوس ہی ہیں۔ ان حالات میں اگر عمران خان  کی حکومت نہیں جاتی اور اسے اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور اعتماد حاصل رہتا ہے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے عمران خان کی غیراعلانیہ حمایت کرنے پر مجبور ہے اور یہی ایک فطری اور عملی سوچ ہے ۔ عمران خان کو بین الاقوامی شہرت کی حامل مشہور شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے امریکہ و سعودیہ کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ چونکہ موجودہ حالات میں ملکی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی سٹیک ہولڈر اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ وہ اقتدار کا تمام کیک خود ہی ہضم کر جائے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے کہ وہ کسی ایسی شخصیت کو سپورٹ کرے جو عوام میں پاپولر بھی ہو اور اس پر کرپشن کا بھی بظاہر کوئی داغ نہ ہو اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی قابل قبول ہو اور ان کے مفادات کا تحفظ بھی کرنے کا اہل ہو ۔ اسٹیبلشمنٹ میں سوچ کی اس تبدیلی کے پیچھے ساکھ بحال کرنے کی پالیسی (damage control) کارفرما ہے جس کا آغاز جنرل پرویز کیانی کی سربراہی میں پاک فوج کی قیادت نے جنرل مشرف کو صدارت سے چھٹی کرا کے باہر بھجوا کر کیا تھا کیونکہ آخری ’’بے قاعدہ‘‘ مارشل لاء یعنی جنرل مشرف دور کے دوران ادارے کی حیثیت میں پاک فوج کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ۔ اس کے ساتھ ہی اسٹبلشمنٹ کے بڑوں کی جانب سے یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ براہ راست فوجی اقتدار سے عوامی تاثرات میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ تب سے ہی ملکی اقتدار پر بلا شرکت غیرے قبضہ جمائے رکھنے کی اس لڑائی میں اسٹیبلشمنٹ بیک وقت حملے بھی کررہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنا دفاع بھی ۔ جنرل کیانی دور میں یہ بھی طے کیا گیا کہ اب براہ راست مہم جوئی کا وقت نہیں رہا لہذا ریاستی معاملات کو بالواسطہ طور پر کنٹرول کیا جائے گا ۔ آج بھی اسی پالیسی پر عمل جاری ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کے مقابلہ میں عمومی تاثر یہ ہے کہ اگر براہ راست مہم جوئی ممکن نہیں رہی تو بالواسطہ طور پر ایڈونچر بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا کیونکہ بالواسطہ طور پر حکومتی امور کنٹرول کرنے کے راستے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں کی طرف سے شدید مزاحمت ہے ۔ اب یہ بات صرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی ہی نہیں رہی بلکہ اس میں دیگر چھوٹی جماعتیں مثلا‘‘ جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ وغیرہ بھی شامل ہو چکی ہیں لہذا یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں اُس معاہدہ تک پہنچ پائیں گی جس کا مطالبہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کر رہے ہیں اور جسے میاں نواز شریف کی بھی حمایت حاصل ہے۔ حتمی بات یہی ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے نہیں پاتا تو عمران خان  حکومت قائم رہے گی اور حکومت مستحکم ہونے یا اسے ہٹانے کی کوششوں کا یہ سلسلہ ایسی ہی اگلے انتخابات تک چلتا رہے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *