دانشوڑی کے سنہری اصول ۔۔رانا اویس

طیب اردگان نے فلسطین کے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔۔
دانشوڑ مکمل خاموش!
طیب اردگان نےبرما کے مسلمانوں کو امداد پہنچائی، ان کو پناہ دی ،
مکمل خاموشی!
طیب اردگان نے ترکی کو معاشی طور پہ مضبوط کیا ، ترکی میں خوشحالی آئی،
ہنوز خاموشی!
اوریا مقبول جان نے ساری عمر ایمانداری سے نوکری کی ،کرپشن نہیں کی،
دانشوڑ خاموش!
ان کی تحریروں سے بہت سے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا ، اور ان کا لکھنے کا انداز بہت اچھا ہے،
دانشوڑ مکمل خاموش!
الخدمت فاونڈیشن برسوں سے لوگوں کی خدمت کررہی ہےوہ تھر کا قحط ہو ، کشمیر کا زلزلہ ہو،  برما ،کشمیر، فلسطین کے لوگوں کی مالی مدد کا معاملہ ہو،  کوئی بھی قدرتی آفت ہو یا یتیم بچوں کی  کفالت اور تعلیم کے لیے سکولوں کا قیام اور ادارے بنانے کے پروجیکٹ ہوں، الخدمت نے ہمیشہ فلاحی  کاموں میں بڑھ چڑھ کے  کام کیا

ان سب معاملات پہ ہمارے دانشوڑ مکمل خاموش رہے۔۔حرام ہو جو کبھی دو سطری تعریفی تحریر لکھی ہو،جماعت اسلامی نےکشمیر میں اپنا خون بہایا ، افغانستان میں جانوں کے نذرانے پیش کیے، بنگلہ دیش کے جہاد میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا جس کی سزا جماعت آج بھی پھانسیوں کی صورت بھگت رہی ہے۔

وہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہو، پینے کے پانی کا مسئلہ ہو۔۔کے الیکٹرک کی اوور بلنگ کا مسئلہ  ہو ،کرپشن کے خلاف احتجاج ہو ،جماعت نے ہمیشہ ان غلط حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا۔۔۔لیکن دانشوڑ مکمل خاموش رہے!

اب جن ایشوز پہ ہمارے دیسی دانشوڑ جاگتے ہیں وہ دیکھیں۔۔
اجی سراج الحق ٹوپی ٹیڑھی پہنتا ہے
سراج الحق دکھاوا بہت کرتا ہے
طیب اردگان کو فرشتہ اور ہمارا خلیفہ بناکے نہ پیش کیا جائے، ہاتھی کے دانت  دکھانے کے اور کھانے کے اور ہوتے ہیں ۔اوریا مقبول جان نے سرکاری گھر نوکری ختم ہونے  کے بعد بھی نہ چھوڑا ، حالانکہ اوریا صاحب نے اس کی وضاحت بھی کردی تھی کہ قانونی طور پہ نوکری ختم ہونے  کے بعد بھی ایک مدت تک سرکاری ملازم اُس گھر میں رہ سکتا ہے۔

یعنی ہمارے دیسی برگر  چھاپ دانشوڑ عدسہ لے کےبیٹھے ہوئے  ہیں کہ جیسے ہی اسلامی ذہن رکھنے والا بندہ معمولی سی غلطی کرے ہم راشن پانی لے کے اس پہ اپنی دانشوڑی کے ٹینکوں سے حملہ کردیں۔اور ان کے فقرے سننے والے ہوتے ہیں  مثلاً  اعتدال پسندی ہی ہمارے مسائل کا حل ہے،جو کوئی  اچھا کام کرے گا ہم اُس کی تعریف کریں گے۔امت کا درد صرف جماعت اسلامی کو ہی ہے ؟؟لیکن اپنے نظریات کو لے کے یہ دانشوڑ اتنے انتہا پسند اور تنگ نظر ہوتے ہیں کہ کوئی  اچھا کام اگر کسی مولوی سے منسلک ہو تو یہ اس میں بھی سازشی تھیوری یا دکھاوا ڈھونڈتے ہیں۔پھر ہم سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہم ذہنی غلام ہیں ہمیں اپنے لیڈر کی بُرائی  نظر نہیں آتی۔
اصل ذہنی غلام آپ سولہویں سکیل کے برگر چھاپ دانشوڑ ہیں جو اپنے اندر کے تعصب اور نفرت سے باہر نکل کے دیکھ ہی نہیں سکتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *