دکھوں کا ابراہیم۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ!
خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو لٹریچر کی پرہجوم کلاس تھی، میں نے ابھی اقبال کے فلسفےمرد مومن اور نطشے کے فوق البشر پر لیکچر کا آغاز ہی کیا تھا کہ اچانک کسی لڑکے نے پوچھ لیا
“سر یہ خودی کیا ہے”؟۔۔۔۔
بھری پری کلاس میں سناٹا چھا گیا، جیسے چمکتا دمکتا سورج یکبارگی بجھ جائے، پھر اچانک جیسے میرے قریب سے سرگوشی ابھری
“خودی وہ بت ہے جس کو محبت اور چاہت کا لافانی تیشہ بھی نہیں توڑ سکتا”

میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا، شاید یہ اس ٹھوس اور یخ بستہ برف کے ٹوٹنے پھوٹنے کی آواز تھی جو صدیوں سے میرے دل میں قطرہ قطرہ پل رہی تھی، مجھے لگا کہ میرے اندر بہت سارے دریچے ایک دم سے کھل گئے ہوں اور سورج کی دمکتی شعائیں اندھیرے کمرے میں  گھس آئی ہوں۔
طلبا طالبات کچھ دیر میرے جواب کا انتظار کرنے کے بعد آپس میں ہی بحث و مباحثے  میں مصروف ہوگئے اور میں دم بخود کلاس ادھوری چھوڑ کر باہر نکلا چلا گیا۔
اپنے چیمبر میں پہنچا تو یادوں کی پھوار شبنم بن کر میرے وجود کو گھیرنے  اور پگھلانے لگی۔۔

ستارا!!۔۔۔۔۔تمھارے ساتھ گزارے ہوئے انمنٹ لمحے دھنک بن کر میرے سامنے سے گزرنے لگے، مجھ آج ابھی اچانک انکشاف ہوا کہ میں شاد احمد جو تم سے چپکے چپکے بےتحاشا قسم کی محبت کرتا رہا تھا ،محض اپنی اس خودساختہ خودی کے کارن تمھارے سامنے اس کا اقرار نہ کر سکا، یہ تو میں نے ابھی ابھی جانا ہے  کہ جس چیز کو تم میری سنگدلی اور میں اپنی بزدلی سمجھتا رہا وہ میری خودی کا یہی بت تھا جس نے مجھے کبھی تمھارے سامنے جھکنے نہ دیا۔
ایک بار لائبریری کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک تم نے مجھے روک کر کہا تھا کہ شاد احمد تم کبھی شاد نہیں رہ سکتے کیونکہ تم قنوطی ہو۔۔۔ یاس پرست ہو ۔۔خوشی کے موقعوں پہ بھی اداس ہونے کے بہانے ڈھونڈ لیتے ہو۔۔
اس وقت تو میں تمھاری قربت کی آنچ سے پگھلتا اپنے آپ میں ڈوبتا ابھرتا خاموشی سے سر جھکائے سیڑھیاں اترتا چلا گیا تھا، پر آج میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔۔۔آج مجھے خودی کا عرفان ہوا ہے۔۔۔تارا۔۔۔!!

آج میرے اعتراف گناہ کا دن ہے۔۔ان تمام گناہوں کے اقرار کرنے کا دن جو مجھ سے خودی کے بےحس بت کے سامنے سر جھکانے کے جرم میں سرزد ہوئے۔۔۔آج اس لمحے کے اقرار کا دن ہے جب تم نے میری جھیل سی پرسکون زندگی میں پیار کا پہلا پتھر مار کر مجھے عمر بھر کے لئے سنگسار کرنے کا اہتمام کردیا تھا۔۔اس گھڑی کا اقرار جب میں تمھاری خاموش نگاہوں کو ہم سفر جان کر بھی ذات کے صحرا میں اکیلا بھٹکتا رہا۔۔۔۔آج اعتراف شکست کا دن ہے وہی شکست جو تم نے مجھے اپنی پہلی ہی ملاقات میں دے دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقل بڑھتی ہے مگر دل کا زیاں ہوتا ہے!!

بہت خوبصورت دن تھا۔۔۔۔بارش کچھ دیر پہلے تھمی تھی۔۔ ڈیپارنمنٹ کے سر سبز لان پر بارش کے قطرے ابھی تک چمک رہے  تھے، آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، اسٹیج کے بیک ڈراپ پر لگے بینر پر مباحثے کا موضوع جگمگا رہا  تھا کہ “عقل بڑھتی ہے مگر دل کا زیاں ہوتا ہے” اس بین الکلیاتی مباحثے میں یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کے طلبا طلبات اپنی خطابت کے جوھر دکھا رہے تھے، میں اس موضوع کی حمایت میں بول چکا تھا میری تقریر اچھی خاصی پسند کی گئی تھی اور ججوں کے رویے اورتالیوں کی گونج سے مجھے امید تھی کہ مجھے پہلا پرائز مل جائےگا،

مختلف کلیات کے مقررین آکر شعلہ بیانی کرتے رہے اور پھر آخر میں آئی ایک چھریرے بدن کی خوش شکل لڑکی کی باری، ہلکا گلابی رنگ، سرخ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، متناسب قد ،پُرعزم اور سر پر دوپٹے کا ہالہ بنائے، یہ تم تھیں ستارا جبیں۔۔۔تم!

تم نے بڑی تمکنت سے بحث کا آغاز کیا اور موضوع کی مخالفت میں ایسےایسے نکتے نکالے اور ایسے دلائل دیے  کہ قرارداد کی حمایت کرنے والے مجھ سمیت سارے سینئر مقررین بھی سخت مرعوب ہوگئے، جب تم تقریر ختم کرکے کسی کشورکشاں کی طرح سر اونچا کئے اور نظریں جھکائے اسٹیج سے نیچے اتر رہی تھیں تو سارا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ہال میں موجود ہر شخص تم ہی کو دیکھ رہا تھا اور تم۔۔۔۔۔تم۔۔کیا مجال کہ تمھارے اپنے کسی انداز سے غرور یا فخر کا اظہار ہورہا ہو، بس ایک محجوب سا تبسم، آنکھوں میں ہلکہ سا شرمیلا سا تجسس ،مگر مجھے لگا جیسے یہ محجوب آنکھیں کبھی کبھی ترچھی نظروں سے میری طرف بھی دیکھ لیتی ہیں،
ججوں میں شہر اور یونیورسٹی کے بڑے بڑے قابل لوگ شامل تھے انھوں نے اپنے متفقہ فیصلے میں تمھارے اور میرے نمبر برابر قرار دیے مگر انھوں نے تمہیں   پُر اعتماد لہجے، موضوع پر گرفت اور پوائنٹس پر فوکس رہنے پر ایک نمبر  زیادہ دے کر پہلے انعام کا مستحق قرار دیا، میں نے محسوس کیا کہ تمھاری آنکھیں میری طرف ہی نگراں تھیں۔۔
یہ تمھارے ہاتھوں میری پہلی شکست تھی۔۔۔

تم کو یاد ہے نا کہ جب تم اپنا انعام وصول کرکے نظریں جھکائے میرے قریب سے گزر رہی تھیں تو اچانک اپنے کھلے گاؤن کی ڈوریوں سے الجھ کر تم گرتے گرتے بچیں اور گرنے سے بچنے کے لئے تم کو بےساختہ میرے شانے کا سہارا لینا پڑا تھا۔۔
تمھارے کپڑوں سے آنے والی بھینی بھینی خوشبو نے میرے وجود کو گھیر لیا۔۔
آئی ایم ویری سوری۔۔۔۔تم نے معذرت بھرے لہجے میں کہا تھا!
نیڈ نو منشن۔۔۔۔۔میں تمھارے پھول سے بدن کے بوجھ سے الٹ پلٹ ہوتے دل پر قابو پا کر بولا!
میرے چہرے کے بالکل قریب دو سیاہ چمکدار آنکھیں لمحے بھر کو میرے چہرے پر ٹکی رہیں پھر واپس لوٹ گئیں۔۔
چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔میں نے پوچھا
تم خاموش رہیں بولتیں بھی کیا، چوٹ تمھارے نہیں میرے لگی تھی ایسی چوٹ جو زندگی بھر کا ناسور بن گئی
معاف کر دیں پلیز، تم نے سنبھلتے ہوئے ایک بار پھر معافی مانگی۔۔
اسی وقت صبیحہ تمھاری مدد کو آگے بڑھی اور  ذرا شوخ لہجے میں میں بولی۔۔
“ارے دلشاد صاحب نے معاف کردیا ہوگا اب چلو بھی ورنہ کہیں یہیں کھڑے کھڑے تمھارے دل کا زیاں نہ ہوجائے”
اور قریب بیٹھے سارے لڑکے لڑکیاں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔
آج سوچتا ہوں کہ اس روز تم نے مجھے ڈیبیٹ میں شکست نہیں دی تھی بلکہ مجھے پہلی ملاقات میں ہی زندگی بھر کی شکست دے دی تھی۔

جاری ہے۔۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دکھوں کا ابراہیم۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *