انقلابِ ثور کا زلزال

(انقلاب ثورکی 39ویں سالگرہ پر )
یہ 27اپریل 1978کا دن ہے ۔افغان کیلنڈر کے بموجب ثور کے مہینے کی 7تاریخ اور 1357کا سال ہے ۔آج کابل میں طلوع ہونے والا سورج عام دنوں سے اس لیے مختلف ہے کہ اس کے ساتھ ہی افغان محنت کار عوام پر صدیوں سے مسلط کی گئی جمشید جاہوں ، ان کے گماشتہ فیوڈل سرداروں ، خوانین اوراپنے طبقاتی مفادات کے مارے ’’ آسمانی سند ‘‘ کے ذریعے ان کے مظالم کی تائید و توثیق کرنے والے مذہب فروشوں کی وہ رات ،اس کا مرگ آفریں اندھیر ا چھٹ رہا ہے ۔کابل شہر جو گزشتہ دس روز سے داؤد شاہی کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے ، آج ایک نئے سویرے کو جنم دے رہا ہے ۔یہ مزاحمت ،یہ احتجاج 17اپریل کو اس وقت شروع ہوا جب افغانستان کی انقلابی جماعت پیپلزڈیموکریٹک پارٹی(PDPA)کے سرکردہ رہنما کامریڈ میر اکبر خیبر کو داؤد کے کارندوں نے سرِ راہ گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا ۔اپنے قریبی عزیز ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر جمہوریت کے نام پر تختِ کابل پر متمکن ہونے والا سردار داؤد خان عملی طور پر اسی نادر شاہی خاندان کا تسلسل ہے ۔ عوام دشمنی سفاکی اور خونخواری اس کی سرشت میں شامل ہے ۔ کابل کی انقلابی بیداری سے لرزہ براندم داؤد شاہی نے حزب دیموکراتیک خلق کے رہنماؤں کامریڈ نور محمد ترہ کئی ، کامریڈ ببرک کارمل ،کامریڈ سلیمان لایق ، کامریڈ دستگیر پنجشیری ، کامریڈ عبدالحکیم شرعی جو زجانی اور کامریڈ بارق شفیعی سمیت پارٹی کے تین ہزار سے زائد سرگرم کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونس رکھا ہے ۔پارٹی کے باقی رہنما روپوش ہیں جن میں حفیظ اللہ امین اور کامریڈ نور احمد نور شامل ہیں ۔ 26اپریل کی صبح حفیظ اللہ امین کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن گرفتاری سے قبل وہ افغان فوج میں موجود پارٹی کے ملٹری ونگ تک راست اقدام کا پیغام پہنچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ دوسری جانب کامریڈ نور احمد نورپارٹی کے ملٹری ونگ سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے افغان فوج کے انقلابی افسران کو متحرک کر چکا ہے ۔
ہاں تو یہ 27اپریل کی صبح ہے ۔ کامریڈ میجر اسلم وطن جار،کامریڈ میجر محمد رفیع اور کامریڈکرنل عبدالقادر ڈگر وال کے انقلابی دستے اور فضائیہ حرکت میں آ چکی ہے ۔ صبح کے نو بج رہے ہیں ، کابل کے شاہی محل میں ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر داؤد کابینہ کا اجلاس شروع ہو چکا ہے جس میں داؤد کے بھائی اور اس کی حکومت کے ایک اہم کل پرزے سردار نعیم سمیت ،وزیر دفاع، وزیر داخلہ ،وزیر خارجہ ،کمانڈر انچیف اور چیف آف اسٹاف سمیت حکومت کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں ۔ ایک طرف اجلاس چل رہا ہے تو دوسری جانب تین انقلابی فوجی دستے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ایک کی منزل داؤد شاہی کا محل ،دوسری کی کابل ریڈیو اسٹیشن اور تیسرے کی منزل جیل ہے جہاں انقلابی قائدین کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے ۔
فضائیہ کے حرکت میں آنے کے بعد سہہ پہر تک شاہی محل کے حفاظتی دستوں کی مزاحمت دم توڑ چکی ہے ،داؤد اپنے وفادار فوجیوں کو فون پر فون ملا رہا ہے لیکن آج اس کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ۔ داؤد اور اس کے متعدد ہمکار انقلابیوں کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ انقلابی قائدین کو آزاد کر الیا گیا ہے ۔شام سات بجے کابل ریڈیو سے فوج کی انقلابی کونسل کا اعلان گونج رہا ہے ’’ افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار بادشاہت، ظلم وجبر، مطلق العنانیت اور نادر خان گھرانے کی طاقت وسطوت کا نام ونشاں مٹا دیا گیا ہے ۔ریاست کے سارے اختیارات اب افغان عوام کو حاصل ہیں ۔اس وقت ریاست کا مکمل اختیار فوج کی انقلابی کونسل کے ہاتھ میں آ چکا ہے ۔ رفیقانِ گرامی ! آپکی جمہوری ریاست جو انقلابی کونسل کے ہاتھوں میں ہے ،آپ کو اطلاع دیتی ہے کہ انقلاب کا مخالف ہر وہ شخص جو انقلابی کونسل کے احکامات اور فیصلوں کی خلاف ورزی کرے گا اسے فی الفور انقلابی فوجی مراکز کے سپرد کر دیا جائے گا ۔‘‘ اس اعلان کے جلو میں کابل کی شاہراہوں پر سرخ ستاروں سے مزین قمیصیں پہنے انقلابی نوجوان رقص فرما ہیں ۔ انقلابِ ثور کبیر کا زلزال سارے کاشانوں کو خاک کر چکا ہے ۔مارکس ،اینگلز ،لینن اور اسٹالین کے افکار سے جلا پانے والے افغان انقلابی سرخ رو ہیں ۔وہانقلابی جن کے ہاتھوں نادر شاہی کے تخت و تاج اچھالے جانے کو ہمارے عظیم ترقی پسند شاعرفیض احمد فیض نے اپنی لافانی نظم ’’ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ لکھ کا خراجِ تحسین و تائید پیش کیا ۔
یہ انقلاب محض ایک فوجی کودتا نہیں ہے ۔ اس انقلاب کا قائد کامریڈ نور محمد ترہ کئی ہے جس کا جنم ایک محنت کار افغان گھرانے میں ہو اہے ۔جس نے افغانستان میں مارکسی ،لیننی افکار کے پرچار وترویج میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔وہ علم کے ساتھ ساتھ عمل کے میزان کی کسوٹی پر بھی پورا اترا ہے اور اس لیے بجا طور پرافغانستان کا پلیخانوف اور لینن کہلانے کا حقدار ہے ۔ اس کی مساعی سے ‘‘ حزب دیمو کراتیک خلق ‘‘ (PDPA)کے نام سے یکم جنوری 1965کو وہ انقلابی جماعت قائم ہوتی ہے جو اپنے قیام کے محض تیرہ سال بعد اپنی بے نظیر حکمت عملی سے انقلاب برپا کر دیتی ہے ۔اس انقلاب کے بارے میں بعد ازاں پاکستانی صحافی مجاہد بریلوی کو انٹرویو دیتے ہوئے کامریڈ نور محمد ترہ کئی نے کہا تھا کہ ’’ دس گھنٹوں میں ہمارے بیٹوں نے ملک کا نظم ونسق سنبھال لیا تھا ،مگر آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ انقلاب صرف دس گھنٹے کی مہم میں ہم نے سر کر لیا ۔ 35سال سے اس انقلاب کے لیے ہمارے عوام نے مصائب برداشے کیے ۔ خاص طور پر گزشتہ 13سال سے ہماری پارٹی کی قیادت میں محنت کش عوام ،نوجوانوں اور دانشوروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔یہ عوام کا لایا ہوا انقلاب تھا جو دن کی روشنی میں ہمارے نوجوان بیٹے لائے ۔یاد رکھیے فوجی انقلابات رات کی تاریکی میں اور عوام کی شراکت سے لائے ہوئے انقلابات ہمیشہ دن کی روشنی میں آتے ہیں ۔ ‘‘
کامریڈ نور محمد ترہ کئی یہ کہنے میں بالکل حق بجانب تھے ۔انقلاب ثور انڈونیشیا میں جنرل سوہارتو، چلی میں جنرل پنوشے اور پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی سامراج نواز، عوام دشمن اور رجعتی فوجی بغاوتوں سے اس لیے بھی ممتاز تھا کہ فوج کی انقلابی کونسل نے اقتدار فوری طور پر پارٹی کی سویلین قیادت کے حوالے کر دیا۔ وہ ہر مرحلے پر پارٹی قیادت اور پارٹی ڈسپلن کے ما تحت رہے ۔اس کی ایک وجہ اگر فوج میں پارٹی کی مضبوط تنظیم سازی تھی تو دوسری وجہ یہ تھی کہ افغان فوج کسی سامراجی طاقت کی پیداور تھی اور نہ ہی اس نے خطے کی دیگر فوجوں کی طرح نوآبادیاتی آقاؤں کی جنگیں لڑی تھیں۔اپنے مخصوص تاریخی اور جغرافیائی تناظر میں وہ خود مختار ی اور سامراج دشمن روایات کی امین تھی ۔دراصل افغانستان بنیادی طور پر ایک قبائلی سماج کا ملک تھا جس کے مخصوص سیاسی،سماجی اور معاشی حالات کے پیش نظر خلق پارٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھاکہ یہاں سوشلسٹ انقلاب کے لیے نئی راہ اختیار کرنا ہو گی۔ یہ نیا راستہ افغانستان کی مسلح افواج ،جس کا بڑا حصہ جبری فوجی خدمت کی وجہ سے نچلے طبقات پر مشتمل تھا میں پارٹی کو مضبوط بنانا اور افسران وغیرہ کو کارکن بنا کر انھیں پارٹی ڈسپلن کے تابع کرنا تھا ۔یہ حکمتِ عملی کامیاب ثابت ہوئی ۔ 1978تک افغانستان کی مسلح افواج میں خلق پارٹی کی نہ صرف مضبوط بنیادیں موجود تھیں بلکہ اس انقلاب سے دو سال قبل اپریل 1976میں پارٹی کی اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں پارٹی کا ملٹری ونگ یہ رپورٹ دے چکا تھا کہ وہ انقلاب برپا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ حزب خلق دیمو کراتیک نے صرف اسی پر انحصار نہیں کیا بلکہ عوام میں جاکر برسوں کام کیا تھا یہ اسی کام کا نتیجہ تھا کہ 1978میں انقلاب کے وقت یہ بیس ہزار کیڈرز پرمشتمل انقلابی جماعت تھی۔ انقلاب ثور کی سرفرازی کے بعد کامریڈ نور محمد ترہ کئی کو انقلابی کونسل کا صدر اور افغانستان کی جمہوریہ کا وزیر اعظم ،کامریڈ ببرک کارمل کو انقلابی کونسل اور نائب وزیر اعظم چنا گیا ۔انقلابی حکومت کے 21وزراء میں سے صرف تین کا تعلق فوج سے تھا ۔
اس انقلاب کے نتیجے میں جاگیرداری کا خاتمہ کر کے بے زمین کسانوں میں زمینیں تقسیم کی گئی،11.5ملین بے زمین کسانوں کے قرضے اور سود معاف کر دئیے گئے،سود اور رہن کا خاتمہ کر دیا گیا،60لاکھ افراد کے لیے تعلیمِ بالغاں کے مراکز اور 110نئے اسکول قائم کیے گئے،تعلیم و صحت کی سہولیات مفت کر دی گئیں ،اشیائے خوردنی کی قیمتیں کم کر کے محنت کشوں کی اجرتوں میں اضافہ کیا گیا اور اوقاتِ کار میں خاطر خواہ کمی کر کے روزگار کے نت نئے مواقع پیدا کیے گئے۔ عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ، جہیز سمیت عورتوں سے متعلقہ تمام فرسودہ رسم ورواج کا خاتمہ کر کے ا س کی سخت سزا مقرر کی گئی ،افغانستان میں پہلی بار تمام قومیتوں بلوچ، نورستانی،ازبک ،تاجک اورہزارہ وغیرہ کو سرکاری طور پر اپنا کلچر،ادب اور آرٹ وغیرہ کو ترقی دینے کی آزادی دی گئی اور اسکے لیے عملی طور پر اقدامات کرتے ہوئے تمام زبانوں میں کتابیں اور لٹریچر شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ اور اس جیسے بہت سے دیگر اقدامات کر کے خلق پارٹی نے سوشلزم کی تعمیر کا آغاز کیا۔
( ناتمام )

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *