تنقید اور علمی تنقید

علمی مجالس میں تنقید ایک زندہ عمل ہے جسے جاری رہنا چاہیے ، تنقید پانی میں بہاؤ جیسی ہوتی ہے۔ یہ علم کی دنیا میں بدبو، سڑاند اور گندگی سے بچاتی ہے۔ نئے سوالات پیدا ہونا اور ان سوالات کو تقدیس کی دبیز چادر اتار کر سوچنا اور پھر متعصب ہوئے بغیر اسکا جواب تلاش کرنا دونوں بہت اہم چیزیں ہیں۔ اگر سوال میں تقدیس کا عنصر موجود ہوگا اور جواب میں تعصب کا، تو دونوں صورتوں میں کی جانے والی تنقید ، تنقید نہی ایک دیوانے کا خطاب ہوگا۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں جہاں سیکھنے سکھانے اور بات کہنے کے کئی مواقع فراہم ہیں وہیں سب سے زیادہ یہ عنصر بھی شامل ہے۔ ہر راہ چلتا ، چار لائنوں میں کسی شخص کی ساری فکر کو کھنگال کر رکھ دیتا ہے۔ اور پھر اس ظلم کو تنقید کا نام دیا جاتا ہے ۔ دو چیزوں میں فرق کرنا نہایت ضروری ہے۔

اول: تنقید
دوم: علمی تنقید

تنقید کرلینا کوئی مشکل کام نہی ہے آپ راہ چلتے کسی بھی چیز میں نقص نکال کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ یہ ایسے ہی جیسے کسی پر کوئی جملہ کس دینا۔ اور علمی تنقید بہت احتیاط کی متقاضی ہے، اسمیں حفظ مراتب کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ مولانا مودودی، امام ابن تیمیہ، امام ابوحنیفہ اور ایسی کئی شخصیات، انکے افکار میں غلطیاں موجود ہوں گی ۔ لیکن انکی فکر پر تنقید کرتے وقت آپ انکی شخصیت کے پرخچے اڑا دیں یہ بھلا کہاں کی علمی تنقید ہے؟ مولانا مودودی کی فکر کے لئے انکی شخصیت کو چھاننا کیوں ضروری ہے میں چاہ کر بھی نہی سمجھ سکا، یہی معاملہ اصحاب محمد سے متعلق ہے۔ بعض اوقات معلوم پڑتا ہے کہ دین کوئی ذاتی انا کا مسئلہ ہے۔
یعنی اگر کسی نے تاریخ کو پڑھا تو اس نے تاریخ کی چھری سے اصحاب محمدﷺ کی شخصیات کو بھی اڑا کر رکھ دیا۔ اور اس پر اصرار کیا ہے کہ ایک تو فریقین میں سے ایک فریق کو غلط ثابت کیا جائے اور اسکے بعد اس غلطی پر لعن طعن کیا جائے۔ یہ طریق صرف شیعہ بھائیوں میں نہی بلکہ اپنے اہل السنہ بھائیوں میں موجود ہے اور پھر اہل السنہ کی اگلی شاخوں میں تو یہ شدت سے رواج پا چکا ہے۔ اور افسوس یہ ہے کہ وہ شخص جس نے ساری زندگی اپنے شاگردوں جس ایک چیز کی تعلیم دی، اس شخص کو سننے والے اور استاذ کا درجہ دینے والے بھی اس سے آگے بڑھ کر شخصیات پر تنقید کر رہے ہیں۔
استاذ محترم، جاوید احمد غامدی صاحب کی ذاتی شخصیت میں، میں نے جس عاجزی اور خوبصورتی کو پایا ہے وہ خوبصورتی بہت کم دیکھی ہے۔میں انکی شخصیت کی اسی خوبصورتی پر فدا ہوں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے قول و فعل سے حفظ مراتب اور اندھا دھند تقلید کی نفی کی تعلیم دی ہے لیکن نجانے کیوں ہمارے درمیان ایسی خوبصورت شخصیات ہونے کے باوجود ہم میں سے وہ روایتی سختی اور روایتی تقلید نہیں نکل رہی، اور افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ان احباب میں بھی وہی روایتی پن پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

میرا ذاتی حال یہ ہے کہ میں استاذ سے بہت قریب ہوں میرے دل کا ہر کونہ انکے لئے وقف ہے۔ لیکن کوشش کرتا ہوں کہ انکی شخصی محبت کو علمی محبت نہ بناؤں۔ آپ کسی سے قربت محسوس کرتے ہیں تو کیجئے ضرور کیجئے، انتہا کی کیجئے، لیکن اس غیر علمی رویہ کو مت اپنائیے کہ اسکو علم و عمل کی اس معراج پر فائز کردیجئے کہ اسکے بعد کسی دوسرے کو نہ سننے اور کسی کے کام کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ استاذ کے علاوہ بہت سے بہترین لوگ ہیں جنہوں نے دین کے میدان میں بہترین اور بہت بہترین کام کیا ہے۔ ان میں فرحان حسن المالکی ، یوسف قرضاوی، شیخ جمعہ، حبیب علی جفری ، شیخ اسامہ، رمضان البوطی،شیخ حمزہ یوسف، عبداللہ بن بیہ، طارق رمضان، عدنان ابراھیم، شیخ شعراوی، احمد رفیق اختر صاحب، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر راشد شاذ، مولانا اسحاق، مفتی تقی اور ایسے کئی علماء موجود ہیں۔ انکی آراء کو بھی حثیت دی جانی چاہیے، انکا علمی قد بہرحال بہت بڑا ہے۔ میرا خیال ہے یہ استاذ کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہوگی اور بہت زیادتی ہوگی اگر انکی سخت محنت کے بعد، انہی کا بت تراش لیا جائے جس نے بت توڑنے کی کوشش کی ہے۔میرے احباب جو استاذی کی فکر سے منسلک ہیں ان سے بہت اپیل ہے کہ اپنی میراث کی حفاظت کیجئے، ورنہ استاذ کی محنت رائیگاں جائے گی، اسے رائیگاں جانے نہ دیجئے۔

ہمارے ہاں، مسئلہ علم اور علمی ابحاث ہے ہی نہی، مسئلہ ہے صرف اور صرف چسکے، ہم صرف یہ چسکے لینا چاہتے ہیں۔ "اسلام کی حفاظت کریں" اسلام کو بچائیں" دین کو فلاں فلاں سے بچائیں" ان سب جملوں میں چسکے کا تڑکا لگا ہے۔ کسی کی بلا سے ابن عابدین کون اور ابن حزم کون؟ کسی کو کیا فکر کہ اصولی بحث میں فروعات پر تنقید نہی ہوتی انکو اس سے کیا؟ بھلا اب ایک شخص منبر پر بیٹھ کر یا فیس بک کے سٹیٹس میں کوئی چسکے والی بات نہ لکھے تو اسے کیا خاک کمنٹس ملیں گے؟ کوئی مولانا مودودی پر تنقید کرے اور وہاں طنز کے نشتر نہ ہوں تو کون پڑھے گا؟ کوئی روایتی بیانیہ کی حفاظت میں آگے بڑھے اور اسکی تلوار سے لبرلز اور سیکیولرز کا سر قلم نہ ہو؟ دیکھیں نہ کسی بھی مہم چلانے والے کو اس سے کوئی فرق نہی پڑتا کہ تعزیزی سزا کیا ہوتی ہے اسے تو بس سر قلم چاہیے اور ابھی چاہیے ورنہ اسکے ایمان کا معاملہ خراب ہوجائے گا، گوکہ اسےیہ بھی علم نہ ہوکہ ایمان ہے کس چڑیا کا نام!
مجھے ڈر ہے کہ یہ چسکے کہیں ہمارے کام میں بھی نہ آ شامل ہوں۔

یہ مسئلہ میرا بھی ہے اور شائد یہ آپکا بھی ہو، بہرحال دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ پاک ہمیں انفرادی طور پر اس سے نکلنے کی توفیق دیں۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *