ماجرا۔۔بلال الرشید

10ماہ کی میری نورِ نظر میری آنکھوں کے سامنے کھیل رہی تھی۔ میز کے سہارے کھڑی  ،خوشی سے وہ نامعلوم زبان میں ایک گیت گنگنا رہی تھی۔اچانک اس کا پاؤں پھسلا۔ابھی اسے  ننھی پری  کو چلنا ہی کہاں آتا ہے۔ سر شیشے کی نوکدار میز سے ٹکرانے  ہی  والا تھا کہ  میں  نے  برق رفتاری سے   شیشے پر ہاتھ رکھ دیاجس سے وہ زخمی ہونے سے بچ گئی۔ وہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے کس تکلیف سے اور کس  نے بچایا ہے،میں سوچتا رہ گیا۔

اس نیلے سیارے پر خدا کا ہاتھ ہم انسانوں کو کس کس تکلیف سے بچاتا ہے، ہمیں اس بات کا  بالکل بھی  اندازہ ہی نہیں۔ جب انسان دوسرے سیاروں کے حالات دیکھتا ہے تو خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ کسی سرزمین پر آکسیجن موجود نہیں، جو ہمارے جسم اور دماغ کی بنیادی توانائی ہے۔ دماغ تین سیکنڈ سے زیادہ آکسیجن اور گلوکوز سے محرومی برداشت نہیں کر پاتا۔فالج ہونے کے باعث  کومے میں چلا جاتاہے۔

ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کان کے درمیان ایک ایسا نظام خدا نے نصب کر رکھا ہے، جس کے ذریعے انسان اپنا توازن برقرار رکھتا ہے۔ اس میں خرابی ہو توآدمی گرتا، لڑکھڑاتا رہتاہے۔ اسے چکر آتے رہتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی معلوم نہیں  کہ ہمارے جسموں میں ہزاروں کلومیٹر طویل خون کے پائپ موجو دہیں۔ ہزاروں کلومیٹر طویل Nervesموجود ہیں۔ یہ آپس میں گڈ مڈ نہیں ہوتے۔ یہ جسم کے ایک ایک خلیے تک خون کے ذریعے آکسیجن اور غذا لے کر جاتے ہیں۔ انہی nervesکے ذریعے ہم اپنے جسموں کو حرکت دیتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے دماغوں میں خلیات  کے باہمی ربط کرانے والے کیمیکلز خارج ہونا بند ہو جائیں تو ہماری زندگیاں جہنم بن سکتی ہیں۔دنیا کی کوئی چیز ایسے شخص کو خوشی نہیں دے سکتی۔ ہر جاندار نے اپنی زندگی میں آکسیجن کا جو ایٹم استعمال کرنا ہے، گندم کا جو دانہ کھانا ہے، اس پر اس کی مہر لگی ہوئی ہے۔ اگر یہ مہر موجود نہیں تو باوجود دولت کے،باوجودغلے کے بھرے ہوئے گوداموں کے، میرا جسم اسے قبول کر نے سے انکار کر دے گا۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ اپنے اردگرد دیکھ لیں۔ بے شمار لوگ آپ کو مل جائیں گے، جن کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں لیکن ڈاکٹر نے انہیں کھانے سے منع کر رکھا ہے۔ ماں باپ ہاتھ جوڑتے ہیں لیکن بچّے کچھ نہیں کھاتے۔بے شمار غریب ایسے ہیں، جو افلاس کی زندگی گزارتے ہیں لیکن کھانے کے وقت تین تین روٹیاں مزے لے کر کھا جاتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ بھاری آب و ہوا (Atmosphere)سے محروم چاند پر جہاں دن میں درجہ ء حرارت مثبت 100درجے سینٹی گریڈ ہوتاہے، وہاں رات کو وہ منفی 100ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتاہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ زمین کے نیچے پگھلے ہوئے لوہے سے خدا نے مقناطیسی میدان بنا رکھے ہیں، جو سورج کی تابکار شعاعوں سے ہمیں بچاتے ہیں۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں اوزون کی حفاظتی تہہ بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ سب حفاظتی تہیں خدا نے زندگی کی حفاظت کے لیے بنائیں ہیں ۔ سب جانداروں کو آنکھیں، کان، ناک، سمیت حسیات دیں، جن سے ڈیٹا اس کے دماغ تک جاتاہے اور وہ زندگی گزارنے، اپنی خوراک حاصل کرنے کے قابل ہوتاہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہر امیر اور ہر غریب کو خدا نے ایک قدرتی مدافعاتی نظام دیا۔ یہ نظام اگر نہ ہوتا تو پوری زندگی ہم بیمار ہی رہتے۔ اس نظام کا پوچھنا ہو تو کسی ایسے شخص سے پوچھیے، جس نے گردہ یا جگر ٹرانسپلانٹ کرایا ہو۔

پانچ ارب مخلوقات، کرّہ ء ارض کی تاریخ میں اندازاً پانچ ارب مخلوقات زندگی گزار چکی ہیں۔ ان پانچ ارب میں سے ایک، ہم انسانوں کو خدا نے عقل دی۔ ہم نے اپنا،کرّہ ء ارض کا، کائنات کا جائزہ لیا۔ خدا کو جانچنے کا ایک ہی اوزار (Tool)ہمارے پاس تھا اور وہ علم اور عقل تھی۔ جب ہم ہر چیز کا جائزہ لے چکے تو ہم نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا: کیا ضروری ہے کہ انسان خدا پر ایمان لائے؟ اچھا، اگر ضروری ہے تو چلو مان لیتے ہیں لیکن خدا تو بہت پابندیاں لگاتا ہے۔ کہتا ہے کہ نماز پڑھو، شراب نہ پیو، زنا نہ کرو، پھر کیسے زندگی گزرے گی۔ مغرب نے تو صاف کہہ دیا کہ ہم خدا کو مان لیں گے لیکن وہ ہمیں ہماری زندگی آزادی سے گزارنے دے۔ کبھی کبھار ہم چرچ چلے جائیں گے لیکن ہمیں شراب پینے، باہمی رضامندی سے جنسی تعلقات استوار کرنے اور ہم جنس پرستی کی آزادی د ی جائے۔

ہمارے یہاں بھی نئی نئی شہرت حاصل کرنے والے آپے سے باہر ہو رہے ہیں۔  100الفاظ کی کہانی لکھنے والے ایک لکھاری نے خدا پر طنز کیا ہے۔ یہ اخبار میں تو نہیں چھپ سکا۔ سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ پر شائع ہوا، جو متنازعہ تحریریں شائع کر کے ریٹنگ حاصل کرتی ہے۔ یہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں تو ملحد ہوں لیکن شادی کے بعد بیوی نے اصرار کیا کہ ہر گھر میں خدا ہے تو ہمارا بھی خدا ہونا چاہیے۔ میں خدا خریدنے دکان پر گیا۔ دکاندار نے مختلف خدا دکھائے۔ یہ غریبوں کا خدا ہے۔ یہ نماز روزہ مانگتاہے۔ یہ مڈل کلاس کا ہے، جمعے کی نماز سے کام چلا لیتاہے۔ یہ امیروں کا خدا ہے۔ یہ شراب پینے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ تو 100الفاظ کی کہانی لکھنے والے امیروں والا خدا خرید لیتے ہیں۔

اگر   مغرب کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خاندانی نظام کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بچّے جب اپنے بوڑھے باپ کو اولڈ ہوم داخل کرانے جاتے ہیں تو ان سے کوئی پوچھے کہ آپ اپنے باپ کو غیروں کے حوالے کیوں کر رہے ہیں۔ بیٹے کا جواب  ہوتاہے: یہ میری ماں کا تیسرا شوہر ہے۔ دوسرا مر گیا تھا۔ پہلا، جو کہ میرا سگا باپ تھا، اس کا تو مجھے نام ہی معلوم نہیں۔ نہ اس نے میری ماں سے شادی کی۔ پتہ نہیں زندہ ہے یا مرگیا۔مجھے ریاست (State)نے پالا ہے، ماں باپ نے نہیں۔ مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں۔ اس نے اپنی زندگی گزاری۔ میں اپنی جی رہا ہوں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر آپ کو ایسا خدا چاہیے، جو کہ شراب پینے کی حوصلہ افزائی کرتاہے تو پھر کیا آپ اپنے باپ کو بھی اولڈ ہوم داخل کرائیں گے اور اپنی اولاد کو بھی ایسا کرنے دیں گے؟
مزید یہ کہ خدا نے کب آپ سے درخواست کی ہے کہ آپ اس پر ایمان لائیں۔ وہ تو آپ کا محتاج نہیں۔اگر اسے آپ کے ایمان کی اس قدر ضرورت ہوتی تو اپنی بے شمار مخلوقات کی طرح، آپ پر بھی ایمان لانا وہ لازم  کر دیتا۔ اس نے آپ کو آزادی دی۔ چاہو تو مجھ پر ایمان لاؤ، چاہو تو انکار کر دو۔ دنیا کا جواز باقی رکھنے کے لیے تو صرف ایک مسلمان کافی ہے، جو اللہ کا نام لینے والا ہو۔جو خدا پر واقعی ایمان رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ خدا Ultimateخوبصورتی ہے۔وہ واقعی اس قابل ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے۔ رہی بات اگر طنز کرنے کی تو ہم آپ سے بہتر طنز کر نا جانتے ہیں۔یقین نہیں آتا تو آزما لیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *