تتھاگت نظم(10) ۔۔۔۔۔بیج

پیش لفظ
کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں بھی پہنچ پاؤں تو سمجھوں گا، میں سپھل ہو گیا۔ ایک گاؤں میں ایک سو لوگ بھی میری باتیں سن لیں تو میں ایک لاکھ لوگوں تک پہنچ سکوں گا۔ یہی اب میرا کام ہے ،فرض ہے ، زندگی بھر کا کرتویہ ہے۔ یہ تھا کپل وستو کے شہزادے، گوتم کا پہلا وعدہ … خود سے …اور دنیا سے۔ وہ جب اس راستے پر چلا تو چلتا ہی گیا۔اس کے ساتھ اس کا پہلا چیلا بھی تھا، جس کا نام آنند تھا۔ آنند نام کا یہ خوبرو نوجوان سانچی کے ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا، لیکن جب یہ زرد لباس پہن کر بدھ کا چیلا ہو گیا تو اپنی ساری زندگی اس نے بدھ کے دستِ راست کی طرح کاٹ دی۔ یہی آنند میرا ، یعنی ستیہ پال آنند کے خاندانی نام ’’آنند‘‘ کی بیخ وبُن کی ، ابویت کی، پہلی سیڑھی کا ذوی القربیٰ تھا۔ اسی کی نسب خویشی سے میرے جسم کا ہر ذرہ عبارت ہے۔ مکالمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان نظموں کے اردو تراجم اس میں بالاقساط شائع ہو رہے ہیں۔ اردو کے غیر آگاہ قاری کے لیے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ’’تتھا گت‘‘، عرفِ عام میں، مہاتما بدھ کا ہی لقب تھا۔ یہ پالی زبان کا لفظ ہے جو نیپال اور ہندوستان کے درمیان ترائی کے علاقے کی بولی ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ’’ابھی آئے اور ابھی گئے‘‘۔ مہاتما بدھ گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویا کھیان دیتے تھے۔ بولتے بولتے ایک گاؤں سے دوسرے کی طرف چلنے لگتے اور لوگوں کی بھیڑ ان کے عقب میں چلنے لگتی۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ جب کچھ دیر سے کسی گاؤں پہنچتے تو پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، تو لوگ جواب دیتے۔ ’’تتھا گت‘‘، یعنی ابھی آئے تھے اور ابھی چلے گئے‘‘۔ یہی لقب ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا۔ میں نے ’’لوک بولی‘‘ سے مستعار یہی نام اپنی نظموں کے لیے منتخب کیا۔ ستیہ پال آنند –

تتھاگت نظم (10)۔۔۔۔۔بیج

اور پھر اک شخص آیا بُدھّ کی خدمت میں، بولا
“اے مہا مانَو، مرا بیٹا ، جسے میں نے مہا مانَو یعنی عظیم انسان
بڑھاپے کا سہارا جان کر پالا تھا۔۔۔
مجھ سے دور
بھارت کی کسی نگری میں جا کر بس گیا ہے
میں تو دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوں!”

بُدھّ بولے : “چاہتے کیا ہو؟ اسے واپس بلانا؟”

“ہاں، تتھا گت !”

بُدھّ ، جو اک پیڑ کے سائے میں بیٹھے تھے
نظر اوپر اُٹھا کر
پیڑ کی جانب اشارہ کر کے بولے
“پیڑ پودے چل نہیں سکتے، مگر یہ چاہتے ہیں
بیج ان کے دور اُڑ جائیں
کوئی زرخیز دھرتی دیکھ کر اُگنے کی سوچیں
اور تم انسان ہو کر چاہتے ہو
تم، تمہارے صحن میں ،گھر میں
تمہاری اپنی دھرتی میں ہی دب کر
بیج جڑ پکڑے
(جسے تم اپنا بیٹا مانتے ہو)
یہ غلط ہے!”

“ٹھیک پھر کیا ہے، تتھاگت؟”

” جانور سب اپنے بچے پالتے ہیں
اور جب پروان چڑھ جاتے ہیں بچے
چھوڑ دیتے ہیں انہیں ۔۔۔آزاد کر دیتے ہیں ان کو!
جس جگہ کا دانہ پانی راس آ ئے
اس جگہ ٹھہریں، پھلیں، پھولیں بڑھیں
پیڑ بھی بیجوں کو اپنے
دور خود سے پھینک دیتے ہیں
ہوا سے اُڑ کے جائیں
جس جگہ چاہیں
وہیں اپنی جڑیں گاڑیں
بہت دھرتی پڑی ہے!
کیا ضروری ہے کہ ساری عمر
اک بچہ رہے اپنے ہی کنبے میں
جہاں پیدا ہوا ہے؟”

“باپ، ماں کے ساتھ رہنا
کیا غلامی ہے تتھا گت؟”

“ہاں، سوالی
اس لیے پودا بنو ۔۔۔ اور بھول جاؤ
ان کو جو آزاد رہنا چاہتے ہیں!
تم نے اپنا فرض خوبی سے نبھایا
اب اُسے بھی زندگی آزاد رہ کر
خود بسر کرنے کا موقع دو، سوالی!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *