کانا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

نور تب پانچویں میں پڑھتی تھی ۔
بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ۔سکول سے واپس آکر، کھانا کھاکر اور دوپہر میں کچھ دیر آرام کرکے ۔گھر کے پاس مدرسہ میں پارہ پڑھنےجاتی ۔مدرسے کے باہر برف کے گولے،آلو چنے، گول گپے، والے کھڑے ہوتے۔مدرسے کی بچیوں کو چھٹی ہوتی، تو ان ٹھیلے والوں کی اچھی بکری ہو جاتی۔
نور بھی سہیلیوں کے ساتھ، چھٹی کے وقت کچھ نہ کچھ خریدتی ،اور گھر آجاتی ۔اور بچوں کی طرح نور کو اپنے دن کا یہ بہترین وقت لگتا،
ان ٹھیلے والوں کے ساتھ کبھی کبھار ایک جھولا بھی آکھڑا ہوتا، جھولا دیکھتے ہی بچیوں کا جی مچلتا وہ باقی تمام چیزیں چھوڑ کر، جھولے کے لیے لپکتیں۔
جھولےوالابابا ایک آنکھ سے نابینا تھا، پہلے پہل اس کی سفید آنکھ سے بچے خوفزدہ ہوئے ۔پھر ہر روز دیکھنے کی وجہ سےبچوں کا خوف ختم ہوچکا تھا
گرمیوں کی ایک سہ پہر مدرسے سے چھٹی کے بعد نور سہیلیوں کے ساتھ نکلی تو بابا اپنا جھولا لیے کھڑے تھا۔روز کی طرح نور سہیلیوں کے ساتھ جھولے میں سوار ہو گئی، سب  انتظار کرنے لگیں کہ کب بابا جھولاجھلائے۔مگر لگ رہاتھا کہ جھولا کچھ خراب ہو گیا ہے۔جب سب اترنےکو تھیں کہ بابے نے التجائیہ انداز میں روک لیا!
“بیٹھی رہو بیٹا ،ابھی ٹھیک کرتا ہوں ”
بابا سیٹ کے نیچےجھک گیا۔تھوڑا  وقت گزراتھا تو نور کو لگا جیسے بابے کاہاتھ اس سے ٹکرایا ہے، بچی تھی سمجھی بابا جھولا مرمت کر رہا ہے۔۔
لیکن جب دو تین بار بابا جی کا ہاتھ مخصوص جگہ ٹکرایا تو نور نے گھبرا کر بابے کی طرف دیکھا، وہاں اکلوتی آنکھ اس کے نہ سمجھ آنے والےبخوف کی نفی کر رہی تھی ۔اس نے سر جھٹکا اور سہیلیوں سے باتوں میں لگ گئی ۔
ا گلا احساس بہت سخت تھا، نور کی چھٹی حس نے اسے ڈرا دیا ، اس نے ایک نظر بابے کے چہرے کودیکھا اور دوسری نظر سیٹ کے نیچے، اپنے آپ کو ٹٹولتے ہاتھ پہ ڈالی۔
ایک لمحہ تھا۔،جس نے اس کابچپن چھین کر، آگہی کی حدود پہ لا کھڑا کیا۔
خوف کا احساس ہوتے ہی فوراً  وہ جھولےسے اتر گئی، سہیلیاں روکتی رہ گئیں، مگر نور کو تو جیسے پر لگے تھے۔لمحوں میں گھر پہنچ گئی ۔
رات ہوتے ہوتے، وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔ماں باپ ڈاکٹر کے پاس لے گئے ، دوا،دارو سب چل رہا تھا مگر بخار اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے دماغ کو کوئی صدمہ پہنچا ہے، دو دن بعد ہوش آیا تونور نے ماں کی گود میں چھپ کر، سب کچھ کہہ ڈالا۔
ماں تو سن کر سن ہی ہوگئی ، پھر اونچ نیچ سمجھانے لگی۔حوصلہ دیا ،بیٹی کو بہلانے کی کوشش کی کہ کسی طرح خوش ہو جائے۔مگر۔نور کے لیے جھولا کھو جانے کادکھ زیادہ تھا۔
نور اب دو بچوں کی ماں ھے ۔ ویسے تو اب دورسے ہی پہچان لیتی ہے کہ کس بے غیرت کی آنکھ میں موتیا اترا ہوا ھے ۔۔پھر بھی بے دھیانی میں بازار میں ۔بس پہ چڑھتے اترتے کسی فیملی فنکشن میں جب اسے کوئی بلاوجہ چھوئے وہ سمجھ جاتی ہے کہ کنجر “کانا “ہے ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply