نو مئی سے پہلے/محمد ہاشم

سب سے پہلے تو دو زانو ہو کے 9 مئی کی صبح عدالتی توڑ پھوڑ سے لے کر رات گئے جلاؤ گھیراؤ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہو۔ اب چلتے ہیں 9 مئی سے پہلے کے پاکستان کی طرف۔

ہماری یادداشت میں 27 دسمبر 2007 کا وہ دن موجود ہے جب بینظیر بھٹو پر راولپنڈی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا تو اگلے چند گھنٹوں میں پاکستان کے ہر بڑے شہر میں آگ لگا دی گئی تھی اور گاڑیوں، سرکاری و نجی املاک بشمول ہسپتالوں اور بینکوں اور مسافر ٹرینوں کو بیش بہا نقصان پہنچایا گیا تھا اور غم و غصے سے  بھرے جیالے اپنے حواس کھو چکے تھے اور اس پُرتشدد احتجاج میں 4 پولیس اہلکار سمیت 31 سے زائد افراد اپنی جان سے گئے۔ بعد میں کسی نے ان نقصانات کے تخمینہ، ازالہ اور مجرمان کو پکڑنے اور سزا دینے کی خاطر خواہ کوشش ہی نہیں کی۔ بس زرداری کا ایک نعرہ “پاکستان کھپے” اور اپنے بیٹے کے لئے ایجاد کردہ خط کی بنیاد پر الیکشن جیت گئے اور راوی چین ہی چین لکھتا رہا۔ آج بھی اس دن کے متاثرین اپنے نقصانات پر رو رہے ہیں۔

پچھلے سال 3 نومبر آج ہی کے دن پاکستان کی سب سے مقبول عوامی جماعت کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے۔ سیدھے گولیاں چلتی ہیں ایک شخص جان سے جاتا ہے اور عمران خان سمیت 9 افراد زخمی ہو کے گرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ہی موقع تھا کہ عوام اپنے حواس کھو بیٹھتی اور وہی بے نظیر کی شہادت کے بعد والی تاریخ دہراتی لیکن عمران خان اس بات کو بھانپتے ہوئے زخمی ہونے کے باوجود کھڑے ہوتے ہیں، ہسپتال جانے سے پہلے ہاتھ اٹھا کے کارکنوں کو اپنی خیریت بتاتے ہیں اور کسی بھی ہنگامہ آرائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر عمران خان نے آگ لگانی ہوتی تو اس سے بہتر موقع ہو ہی نہیں سکتا تھا، لیکن اس مردِ حُر نے لیڈر اور ملک سے مخلص ہونے کا ثبوت دیا اور بروقت عوامی غصے کو کنٹرول میں رکھا اور ایک آدھ جگہ کے علاؤہ کوئی پُرتشدد اور جلاؤ گھیراؤ والا ردِ عمل نہیں آیا۔

آج ہر جگہ 9 مئی کے نام پہ پی ٹی آئی کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور جہاں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کی بات کرتے ہیں تو 9 مئی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

آئیں آج 9 مئی سے تھوڑا پیچھے جا کے دیکھتے ہیں کہ اس دن سے پہلے پی ٹی آئی پر کون سے پھول برسائے جا رہے تھے۔

کیا ظل شاہ نو مئی میں ملوث تھا؟

کیا عمران خان کے خلاف بوگس کیسز کی سنچری 9 مئی سے پہلے نہیں ہوئی تھی؟

کیا زمان پارک پر بلڈوزر 9مئی سے پہلے نہیں چلایا گیا تھا؟

کیا یاسمین راشد کی گاڑی توڑ کے ان کو زخمی 9 مئی سے پہلے نہیں کیا گیا تھا؟

کیا اسلام آباد لانگ مارچ سے ایک دن پہلے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے گھروں میں گھس کے چادر اور چار دیواری کی توہین نہیں کی گئی تھی؟

کیا رانا ثنا کے حکم پر پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں پر سیدھی گولیاں نہیں برسائیں    تھیں ؟

کیا رانا ثنا اللہ نے خود نہیں کہا تھا کہ ہم ان پر مخصوص قسم کے آنسو گیس کے گولے برسائیں گے؟

کیا ساری پی ڈی ایم رانا ثنا اللہ کے نام پہ طنز نہیں کرتی تھی کہ حکیم رانا ثنا اللہ علاج کرے گا؟

شہباز گل کے ساتھ جو ظلم و تشدد ہوا وہ کون سے 9 مئی میں شامل تھے؟ اور جس جملے کی بنیاد پر اُسے اٹھایا گیا وہی جملہ کئی بار خواجہ آصف ٹی وی پر دہرا چکے ہیں ان کو کب اٹھایا جائے گا؟ اور وہی جملہ مسلح افواج کے حلف میں شامل نہیں ہے کہ کوئی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہے وہ کہیں سے بھی آئے؟

پھر شہباز گل ہی کو کیوں ایسے رگڑا گیا محض  ایک بیپر کی بنیاد پر؟ ۔۔

کیا اعظم سواتی سے ساتھ  جو کچھ کیا گیا اور ستر سال کے بوڑھے آدمی پر تشدد اور قید و بند کے بعد نہیں ٹوٹا تو اس کے گھر کی خواتین کی وڈیوز لیک نہیں کی گئیں ؟ بوڑھا آدمی قوم کے سامنے روتا رہا اور کسی انصاف کے ٹھیکدار کی جرات نہیں ہوئی کہ اس کو انصاف دلا سکے۔

اس کے علاوہ کتنے ایسے مظالم اور زیادتیاں اس ایک جماعت کو توڑنے کے لئے کی گئیں ، تب 9 مئی تو نہیں ہوا تھا پھر کیا وجہ تھی؟

اب آتے ہیں صحافت کے نکالے گئے جنازے پر۔۔

ارشد شریف کون سے 9 مئی میں ملوث تھا جو سرکار کو اپنی  جان کے خطرے  سے  آگاہ کرتا رہا اور ملک چھوڑ کے دیار غیر میں جان سے چلے گئے؟

عمران ریاض کو 9 مئی سے پہلے نہیں اٹھایا گیا؟

صابر شاکر، معید پیر زادہ، سمیع ابراہیم، صدیق جان، جمیل فاروقی آفتاب اقبال وغیرہ پر عرصہ حیات کیوں تنگ کیا گیا؟ تب تو 9 مئی نہیں ہوا تھا،

ٹی وی چینلز کی سنسرشپ، اور رپورٹرز پر کریک ڈاؤن 9 مئی سے پہلے شروع نہیں ہوا تھا؟

سوشل میڈیا کے نوجوانوں کو اٹھانا اور ہراساں کرنا کیا 9 مئی کے بعد شروع ہوا تھا؟

اور ان سب سے بڑھ کر یہ بات کہ جب 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی جاتی ہے تو اس واقعے کو کیوں بھول جاتے ہیں جو اس سب کی بنیاد بنا تھا؟ سپریم کورٹ نے نہیں کہا کہ عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی تھی؟ کیا جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نہیں کہا کہ کون غنڈے آئے تھی جو عدالت میں توڑ پھوڑ کر کے سی سی ٹی ٹی وی فوٹیج تک ساتھ لے گئے؟ کیا عدلیہ نے اس توڑ پھوڑ کو غیر قانونی کہنے کے بعد اس میں شامل لوگوں کو سزا دے کر اپنی توہین کا ازالہ کیا؟

اور جب یہ ساری وہشت و درندگی 9 مئی سے پہلے ہو رہی تھی تو ایسے میں ایک مقبول پارٹی کے لیڈر کو آپ کیمروں کے سامنے ایسے گھسیٹ کے لے جاتے ہو اور کئی گھنٹوں غائب کر دیتے ہو تو عوام مٹھائیاں لے کے آتی؟ عوام گھروں سے نکلی احتجاج کیا اور ایسے میں چند شرپسندوں نے وہی کیا جو ہماری سیاہ تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور چند مٹھی بھر شرپسند “بڑے آرام” سے کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کر کے آگ لگا دی۔

اور آگ لگنے کی دیر تھی کہ کور کمانڈر ہاؤس تبدیل ہو کے جناح ہاؤس بن گیا اور ہماری تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب کا آغاز ہوا۔

عمران خان اور اس کی ٹاپ لیڈرشپ نے ہمیشہ پرامن احتجاج کا سبق دیا اور سانحہ نو مئی پر بھی عمران خان نے باہر آتے ہی بھرپور مذمت کی اور ملوث افراد سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کاروائی کا مطالبہ کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

آج ملک میں غلاظت کا دھواں ہے لیکن جب یہ دھواں چھٹ جائے گا تو مورخ کس کو کہاں کھڑا کرتا ہے ہم اور ہماری نسلیں دیکھیں گی۔ فاطمہ جناح کی کردار کشی اور بھٹو کو پھانسی لگا کے مٹھائیاں بانٹنے والوں کی نسلیں آج تک اپنے منہ پہ لگی  کالک کو نہیں مٹا سکی ہیں اور جو آج یہ سب کر رہا ہے اس نے بھی تاریخ کے بے رحم قلم کے سپرد ہونا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply