لا زوال عشق

عشق پہ بھی بھلا کسی نے روک لگائی ہے! زمانے کی تلخیاں، نامصائب حالات، خاک آلود بدن اور پیروں سے رستہ لہو یہ تمام چیزیں جب عشق کو نہ روک سکی تو بھلا دھماکے کیا چیز ہیں؟ منصور نے انالحق کہا اور زینتِ دار بن گیا لیکن منزلِ عشق کی جانب جاتے سفر سے اجتناب نہ کیا۔ فرہاد کو علم تھا کہ بادشاہ بددیانتی کرے گا مگر پھر بھی نہرِ شیریں کھودنے سے باز نہ آیا۔ سسی نے پورا صحرائے کیچ زخم زدہ قدموں سے پار کیا لیکن کیا یہ سفر کی تلخی اور تھکان اسے روک پائی ؟ نہیں۔ بھگت سنگھ نے دار کو گلے لگایا لیکن کیا مزدوروں اور کسانوں کی محبت سے غداری قبول کی ؟ نہیں۔ ایک حسن ناصر بھی تھا، ایک وکتور ہارا بھی تھا، ایک نذیر عباسی بھی تھا اور ایک گرامچی بھی تھا، ایک حسین بھی تھا اور ایک ابو زر غفاری بھی تھا۔
جب تم نے ایک نظریے، ذات یا چیز سے عشق کیا تو پھر درمیان میں آنے والی مشکلات بے معانی ہوجاتی ہیں۔ پرسوں دھماکہ ہوا بہتر لوگوں کی شہادت ہوئی معصوم مظلوم اور بے گناہ لوگ تھے۔ جن کی زندگی فقط اللہ ہو، اللہ ہو اور اللہ ہو تھی۔ تم نے کائنات کو ایسے بے ضرر لوگوں سے محروم کردیا جو گالیاں دینے والے کو جواب میں دعائیں دیتے تھے۔ جن کو لوگ ٹھوکر مارتے تو وہ دعا دے کر رخصت کرتے۔ ان میں ایک بابا علی بخش بھی تھا، بی اے پاس سن انیس سو چوہتر۔ عشقِ مجازی کے حصول میں ناکامی یا ایک بہانہ جو اسے سن اسی میں قلندر کے پاس لے آیا اور پھر وہ ایسا بندھا کہ قلندر کا ہوکر رہ گیا۔ میں جاتا تھا تو اکثر مجھے ملتا، اچھا انسان تھا۔ ایک وقت کی روٹی دستیاب ہوئی تو کھا لی ورنہ درویش بیٹھا ہے۔اس کی زندگی تھکان سے بہت دور تھی۔ اس کے بس دو ہی سفر تھے پیدل لاہور جانا اور عرس کے بعد واپس قلندر کے در پہ۔ وہ کہتا تھا کہ قلندر کا در وہ مقام ہے جہاں جانور بھی آکر آمان حاصل کرتے ہیں یہ مقامِ امن ہے۔ مگر پھر یہ ہوا کہ سامراجی دلالوں اور ملاؤں نے ملی بھگت کی اور ہمارے قلندر کے مقدس دربار پہ حملہ کیا۔ اور امان کی جگہ کو خون میں ڈوبا دیا۔ مولائی جن کی زندگی کا محور و مرکز قلندر کا روضہ تھا ان کو دین کے نام پہ خاک میں ملا دیا۔ بہتر لوگوں کا لہو کافی تھا چنیگزیت کا مینار تعمیر کرنے کے لیے۔ بس لہو دستیاب ہوا اور ظالمان نے مینار کھڑا کردیا۔
ظالمان نے سمجھا کہ یہ فاقہ مست لوگ، یہ دنیا کے دھتکارے لوگ اب باز آجائیں گے اور ان ”بدعات“ کو ترک کرکے ان کے ”حقیقی دین“ کو اختیار کرلیں گے مگر قدرت نے دیکھا کہ اگلے ہی دن خون آلود فرش پہ نوبت کی لے پر دھمال جاری تھی۔ قلندر کے فقیروں نے فرعونوں کو دکھایا کہ عشق کے کوئی پاوں نہیں باندھ سکتا۔ یہ وہ عشق ہی ہے جو ہاتھ کٹے شخص سے جس کے ہاتھ سے لہو نکل رہا ہے پانچ منٹ تک دھمال کرواتا ہے اور پھر غشی آتی ہے تو زمیں بوس ہوتا ہے۔ ہوش آنے پہ لوگوں کو کہتا ہے کہ مجھے کیوں لائے وہیں مرنے دیتے، چلو ایسا تو ہوتا کہ قلندر کی خاک میں اس کا ایک نوکر مزید آملا۔
بے شک یہ عشق ہی تھا جس نے منظور چاچا سے زخمی ہاتھ اور بہتے لہو کے ساتھ دھمال ڈلوائی اور بے شک وہ عشق ہی تھا جس نے منصور کو سولی پہ بھی اناالحق کہنے سے نہ روکا۔
بے شک وہ عشق ہی تھا۔

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *