الحمد للہ علی کل حال۔۔وقار عظیم

نئے گھر میں منتقل ہوئے تو چار کمرے ضرورت سے کم محسوس ہوئے۔ لہذا فوراً  ہی اوپری منزل پر دو کمرے مزید بنانے کا ٹھیکہ  اپنے ہی ایک دور پار کے رشتے دار کو دے دیا۔ میں کبھی کنسٹرکشن کے کاموں میں شامل نہیں رہا لہذا مجھے بالکل آئیڈیا نہیں کہ مزدور کی کتنی دیہاڑی ہوتی ہے اور مستری کی کتنی دیہاڑی۔
اب روز میں مزدوروں کو صبح نو سے شام چار تک انتھک محنت کرتے دیکھتا ہوں۔ ان مزدوروں میں ایک پینسٹھ سالہ بابا جی بھی ہیں۔ ایک گھنٹہ دوپہر کے کھانے کا وقفہ نکال دیں تو وہ بابا جی چھے گھنٹے مسلسل نچلی منزل سے سیمنٹ، ریت، بجری اوپر والی منزل تک پہنچاتے ہیں۔
کڑاکے کی    سردی، پینسٹھ سال عمر، اور سر پر وزن اٹھائے سارا دن اوپر نیچے کے چکر
اور آپ جانتے ہیں ان کو ان چھے گھنٹوں کی سخت ترین مشقت کا ٹھیکے دار سے کتنا پیسہ ملتا ہے؟
“ محض سات سو روپے۔”
جی ہاں محض سات سو روپے۔
اس تحریر کو  پڑھنے والے قارئین کتنے ہی ایسے ہوں گے جو استطاعت رکھتے ہیں کہ باہر ہوٹلنگ کرتے وقت سات سو کیا سترہ سو کا کھانا  بہ آسانی کھا سکیں ۔
کیا کبھی سوچا کہ ہم جتنے پیسوں کا ایک وقت میں کھانا کھا جاتے ہیں اتنے پیسے کمانے کے  لیے  بہت سے لوگ سخت  سردی میں سارا دن انتھک محنت کرتے ہیں۔
خوش حالی بھی ایک نعمت ہے ۔ خدا کا شکر ادا کیا کریں۔ الحمد للہ علی کل حال

وقار عظیم
وقار عظیم
میری عمر اکتیس سال ہے، میں ویلا انجینئیر اور مردم بیزار شوقیہ لکھاری ہوں۔۔ویسے انجینیئر جب لکھ ہی دیا تھا تو ویلا لکھنا شاید ضروری نہ تھا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *