پچاس ہزار کی کامیابی۔۔۔گل نوخیز اختر

مجھے فلاپ فلمیں بہت پسند ہیں۔ دوست احباب جب کسی فلم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بالکل ڈبہ ہے تو میری باچھیں کھل جاتی ہیں۔ پھر میں ٹائم نہ ہونے کے باوجود بھی کسی نہ کسی طرح وہ فلم دیکھ ہی لیتا ہوں۔ایک دفعہ پتا چلا کہ ایک فلم بری طرح پٹ گئی ہے اور بس ایک دوروز میں سینما سے اترجائے گی۔ میں نے پہلی فرصت میں ٹکٹ لیا اور سینما پہنچ گیا۔ گیلری کے دروازے پر ٹکٹ چیکراونگھ رہا تھا۔میں نے اسے ہلکا سا چھوا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ میں نے ٹکٹ اس کی طرح بڑھائی۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا پھر جماہی لیتے ہوئے بولا’’کی گل اے؟‘‘۔ مجھے خود بھی بھول گیا کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔ کچھ دیر ذہن پر زور ڈالا ‘ پھر خوش ہوکر کہا’’فلم دیکھنی ہے‘‘۔ ٹکٹ چیکر نے بیزاری سے ہاتھ ہلایا’’جاؤ دیکھ لو‘‘۔ میں بوکھلا گیا’’لیکن میری سیٹ تو بتا دو‘‘۔ اس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا اورگال پر خارش کی ’’جا جتھے مرضی بہہ جا‘‘۔ اور میں سمجھ گیا کہ فلم ’سپر۔پٹ‘ جارہی ہے۔
اندر داخل ہوا تو خوشی اور بڑھ گئی۔الحمد للہ میری توقعات کے عین مطابق سارا ہال کھچاکھچ خالی تھا۔فلم شروع ہوئی تو تھوڑی ہی دیر بعد ایک اور صاحب میری ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھ گئے اور بڑے انہماک سے فلم دیکھنے لگے۔ میرا تجسس بڑھا کہ اتنی اعلانیہ فلاپ فلم دیکھنے والے یہ مردِ جری کون ہیں۔ انٹرول ہوا تو میں نے ان سے سلام لیا اور پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ فلم فلاپ ڈکلیئر ہوچکی ہے؟ انہوں نے اثبا ت میں سرہلایا۔ میں نے کنپٹی کھجائی’’تو پھر بھی آپ اسے دیکھ رہے ہیں‘ کوئی خاص وجہ؟‘‘۔ انہوں نے غصے سے مجھے گھورا’’صرف تمہاری وجہ سے دیکھ رہا ہوں‘‘۔میں ساری بات سمجھ گیا۔ یقیناًانہوں نے مجھے ٹکٹ خریدتے دیکھا توسوچا ہوگا کہ فلم اچھی ہوگی۔ میں نے ان سے معذرت کی’’معافی چاہتا ہوں لیکن آپ کو پہلے کسی سے پوچھ لینا چاہیے تھا کہ فلم کیسی ہے۔‘‘ وہ غرائے’’مجھے پتا ہے فلم بکواس ہے‘ فلاپ ہے‘‘۔ میں بوکھلا گیا’’لل۔۔۔لیکن آپ تو کہہ رہے تھے آپ میری وجہ سے فلم دیکھ رہے ہیں؟‘‘۔ انہوں نے دانت پیسے ’’کیونکہ تم اٹھ کر جاؤ گے تو میری ڈیوٹی ختم ہوگی ‘میں نے ہال کو تالا لگانا ہے‘‘۔
میرے اکثر دوستوں کو شکایت ہے کہ میں کامیاب فلموں سے دور کیوں بھاگتا ہوں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ کامیاب فلمیں مجھے زہر لگتی ہیں۔ دوسری اور تیسری وجہ بھی یہی ہے۔فلاپ فلم بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ مجھے کامیاب لوگوں کی کہانیاں بھی بہت بور لگتی ہیں۔ یہ چند لوگ ہوتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو بیوقوف اور جاہل ثابت کرکے خود کو نمایاں کر لیتے ہیں۔بظاہریہی سب سے محنتی ہوتے ہیں‘ یہی زندگی کو سب سے الگ دیکھتے ہیں اور یہی کامیاب ہوتے ہیں۔کامیاب لوگوں کی کہانیاں مصالحہ لگا کر بیچنا بڑا آسان ہے۔مجھے مارکیٹ میں کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آئی جس کا عنوان ہو’’100 ناکام ترین لوگ‘‘۔ ہر دوسری کتاب ’’ہاں تم کرسکتے ہو۔۔۔کامیابی کے نسخے۔۔۔کامیابی کی ضمانت۔۔۔اورناکامی کو کامیابی میں بدلیں‘ جیسے فارمولوں پر مشتمل ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ آدھے سے زیادہ لوگ ان کتابوں کو پڑھ کر ناکامی کے عروج پر پہنچے ہیں۔کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ ایک بندہ بھوکا مر رہا ہو تو وہ کیا کرے؟ کسی کے پاس نوکری نہیں تو وہ کہاں جائے؟ زور صرف محنت پر ہے لیکن محنت کس چیز پر؟ ۔۔۔ہوائی باتیں ‘ خیالی قلعے۔۔۔!!!
پچھلے دنوں میرے ایک موٹیویشنل سپیکر دوست نے فرمائش کی کہ میں ان کے نئے سیشن میں شرکاء کو کامیابی کے نسخے بتاؤں۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے پچاس ہزار کا چیک میرے ہاتھ میں تھمادیا۔ ظاہری بات ہے اب تو انکاربالکل بھی ممکن نہیں تھا۔ میں نے ان سے ایک وعدہ لیا کہ میں اپنی مرضی سے بولو ں گا اور وہ ٹوکیں گے نہیں۔ و ہ خوشی خوشی راضی ہوگئے۔میں مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گیا ۔ پتا چلا کہ کامیابی کے نسخے والے سیشن کے لیے فی کس 5 ہزارروپے فیس رکھی گئی ہے اورکوئی دوسوکے قریب خواتین وحضرات یہ رقم ادا کرکے تشریف لاچکے ہیں۔یہ سب کسی منتر کی تلاش میں جمع ہوئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جب یہ یہاں سے نکلیں گے تو رکشے والے سے پہلے کامیابی اِن کے پاس آن کھڑی ہوگی۔مجھے ڈائس پر بلایا گیا۔ میں نے ایک نظر حاضرین پر ڈالی۔ ان کی نگاہوں میں عجیب سی بے بسی تھی‘ گویا ترس رہے ہوں کہ خدا کے لیے جلدی سے کامیابی کا نسخہ بتاؤ تاکہ زندگی کچھ آسان ہوسکے۔میں نے پوچھا کہ کیا آپ سب لوگوں نے پانچ ہزار فی کس کے حساب سے آج کے سیشن کی فیس ادا کی ہے؟ سب کا مشترکہ جواب آیا’’جی ہاں‘‘۔
’’اللہ والیو! پہلے تومیں آپ کو بتا دوں کہ مجھے ایک گھنٹہ کے لیے آپ پر مسلط کیا گیا ہے تاکہ آپ پر کامیابی کا راز افشا کروں۔ اس کام کے لیے مجھے پچاس ہزار روپے دیے گئے ہیں۔یعنی آپ لوگ پانچ ہزار دے کر یہاں آئے ہیں جبکہ میں پچاس ہزار وصول کرکے یہاں کھڑا ہوں۔پہلے تو ذہن میں بٹھا لیجئے کہ مالی طور پر اس وقت آپ ناکام ہیں اور میں کامیاب۔گویاناکام لوگوں کی مدد سے زیادہ آسانی سے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔آپ میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جسے یہ بات پتا نہ ہو کہ زندگی میں محنت کرنی چاہیے‘ اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے‘ اللہ سے دعا کرنی چاہیے‘ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر آ پ مجھ سے کیا سننے آئے ہیں؟یہ جو پانچ ہزار روپے آپ نے میری چکنی چپڑی باتیں سننے کے لیے خرچ کیے ہیں ان سے آپ کی بہت سی چھوٹی موٹی پرابلمز حل ہوسکتی تھیں۔ بچوں کے کپڑے بن سکتے تھے‘ کچن کی چیزیں آسکتی تھیں‘ ٹیلی فون وغیرہ کا بل ادا کیا جاسکتا تھا‘ گھر کی کوئی چیز مرمت کرائی جاسکتی تھی۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔چونکہ آپ کے ذہن میں بٹھایا گیا تھا کہ پانچ ہزار خرچ کرکے آپ خزانے کا نقشہ پالیں گے لہذ ا آپ اچھل پڑے کہ اس سے آسان طریقہ بھلا کیا ہوسکتا ہے۔توبہنو بھائیو!میں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ آپ کو گھسی پٹی باتیں ذرا دلچسپ انداز میں سنا دوں۔میں یہ تو بتاؤں گاکہ زندگی میں اپنے کام پر فوکس کریں لیکن یہ مجھے نہیں پتا کہ ایک الیکٹریشن جو صرف اپنے کام کو ہی جانتا ہے اور اسی پر دھیان دیتا ہے وہ مزید فوکس کیسے کرے؟میں یہ تو بتاؤں گا کہ بس اللہ سے محبت کرنا شروع کردیں لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ جولوگ پانچ وقت کے نمازی بھی ہیں‘ایماندار بھی ہیں‘ کام بھی دیانتداری او ر محنت سے کرتے ہیں وہ کیوں ناکام ہیں۔آپ سب کا یہاں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنی ناکامی تسلیم کرچکے ہیں لہذا اب آپ جو بھی کہتے رہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اتنی صلاحیت تو مجھ میں ہے کہ آپ کی ناکامی کو ثابت کرنے کے لیے آپ کی ہر بات میں ایک دلیل نکال کر پیش کردوں کہ آپ اس وجہ سے ناکام ہیں۔اپنی ناکامیوں کی تشہیر کریں گے تومیرے جیسا ہر بندہ آپ کی چھوٹی سی خامی کو سو سے ضرب دے کر پیش کرے گا۔کامیاب بننا ہے تو ناکام لوگوں سے ملیں‘ فلاپ فلمیں دیکھیں۔۔۔بڑی آسانی سے پتا چل جائے گا کہ خامی کہاں ہے۔نہ بھی پتا چلے توکم ازکم مجھ سے نہ پوچھئے گا۔میرے پاس کسی چیز کا دو ٹوک حل نہیں‘ صرف خوشنماباتیں اور احساس کمتری میں مبتلا کردینے والی کہانیاں ہیں۔ اجازت دیجئے! مجھے ذرا چیک جمع کرانا ہے

بشکریہ روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *