• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مگس بانی یعنی شہد کی مکھیاں پال کر ان سے شہد حاصل کرنا۔۔شاہد محمود

مگس بانی یعنی شہد کی مکھیاں پال کر ان سے شہد حاصل کرنا۔۔شاہد محمود

زمانہ قدیم سے شہد بطور غذا و دوا استعمال ہو رہا ہے۔

شہد کی مکھیاں شہد بنانے کے علاوہ بھی کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقا کے لئے اہم کردار ادا کرتی  ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے درختوں، فصلوں اور پودوں میں زیرگی pollination کا باعث بنتی ہیں۔

مگس بانی یعنی شہد کی مکھیوں کو پالنے کی صنعت اب پاکستان میں بھی الحمدللہ عام ہو چکی ہے۔ پاکستان شہد بیرون ملک برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے۔

شہد کی مکھیوں کا ایک ڈبہ چھ سے دس ہزار تک شہد کی مکھیوں سمیت آ جاتا ہے جس میں دس سے بارہ فریم شہد کی مکھیوں کے ہوتے ہیں (فریمز اور مکھیوں کی تعداد اور قیمت کم زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں دن بدن جدت آ رہی ہے)۔ مختلف علاقوں میں جہاں پھول دار و پھل دار پودے ، جھاڑیاں، فصلیں ، باغات ، درختوں کی بہتات ہو وہاں شہد کی مکھیوں کے ڈبے رکھے جاتے ہیں اور شہد کی مکھیاں ان پودوں، فصلوں ، درختوں کے پھولوں سے رس حاصل کرنے کے عمل کے دوران زیرگی یعنی پولینیشن pollination کا باعث بھی بنتی ہیں جس سے فصل کی پیداوار اچھی ہوتی ہے اور شہد کی مکھیاں شہد بھی بناتی ہیں۔ شہد کے علاوہ بھی شہد کی مکھیوں سے پولن، رائل جیلی، قدرتی موم بھی حاصل ہوتا ہے اور یہ سب چیزیں بھی اچھی قیمت پر فروخت ہو جاتی ہیں۔

شہد کی مکھیاں گھریلو سطح پر بھی پالی جا سکتی ہیں۔ گھر کے باغیچے، گھر کے چھت، اپنے کھیتوں یا باغات میں شہد کی مکھیوں کے ڈبے رکھ کر خالص قدرتی شہد، پولن، رائل جیلی وغیرہ حاصل کر کے آپ اپنی آمدنی میں معقول اضافہ کر سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ آپ ہر سال اپنی پالتو شہد کی مکھیوں کی افزائش نسل سے نئے شہد کی مکھیوں کے ڈبے بنا کر فروخت بھی کر سکتے ہیں یا اپنے شہد کے کاروبار میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں راہنمائی کے لئے پاکستان میں حکومت کا ایک ادارہ بھی کام کر رہا ہے۔ جس کی درج ذیل ویب سائٹ سے مزید راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *