بچوں کے حقوق

بچوں کے حقوق کے ایک سرگرم کارکن ہونے کی حیثیث سے کچھ باتیں سیکھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی نہ کسی ہنر کی تربیت ہی سب بچوں کے لئے اہم ہے مگر کیا یہ اہم نہیں کہ ان کو یہ تربیت ایک اچھے ماحول اور استاد سے ملے، اس تربیت کے مراحل اور مدت کا تعین ہو، انھیں اس دوران عزت اور احترام حاصل ہو کھیل کود کے لئے مناسب وقت ملے، ان کو بدبانی اور جسمانی تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے اور دوران ہنر ان کو ایسے ماحول یا ایسی نسشت میں نہ وقت گزارنا پڑے جو ان کی صحت کے لئے نقصان دہ ہو، اس کے علاوہ لکھنا پڑھنا ایک ہنر ہی سہی مگر کیا یہ انصاف ہے کہ طبقاتی بنیاد پر کچھ بچوں کو اس ہنر تک رسائی نہ دی جائے کیونکہ کم عمری میں یا دوران بچپن ہنر سیکھنے والے تمام بچے لوئر مڈل کلاس اور مفلس گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچے ہوتے ہیں ۔ اس لئے کسی بھی ہنر سیکھنے سے پہلے اس بچے کو لکھنے پڑھنے کی کوئی کم از کم صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو کہ ہر بچے کے لئے لازمی ہو، اگر کچھ سست اور غبی بچوں کے بارے بات کرنی ہے تو وہ بات بھی تمام طبقوں کے سست اور غبی بچوں کے بارے ایک جیسی ہونی چاہیئے، بچوں کے ہنر سیکھنے کے پیچھے جو دلائل اور فلسفہ دیا جا رہا ہے اس کا تعلق اسی سوچ سے ہے جو طبقاتی نظام کو سپورٹ کرنے والے دانشور ہمیشہ سے پیش کرتے رہتے ہیں، میں کسی ہنر کے خلاف نہیں مگر اس بات کا سختی سے قائل ہوں کہ ہنر کی تربیت کا مقصد کسی طبقاتی نظام کو مستحکم کرنا اور مضبوط کرنا نہ ہو

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *