2017 پر ایک نظر۔۔سید اسد عباس

2017اختتام پذیر ہو رہا ہے اور 2018ء کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اس عرصے میں دنیا نے کیا کھویا اور کیا پایا، یہ ایک دقیق اور تفصیل طلب موضوع ہے۔ ہمارے مدنظر یہ سوال ہے کہ گذشتہ برس کے دوران میں دنیا میں امن و امان کی کیا کیفیت رہی اور اس کا مستقبل کیسا ہوگا۔ سال 2017ء میں عراق اور شام میں داعش کو شکست ہوئی۔ اسلام کے نام پر ابھرنے والا یہ گروہ جس کے اعمال و افعال کا اسلام کی آفاقی اور مہذب تعلیمات سے دور دور کا واسطہ نہ تھا، جس تیز رفتاری اور دہشت کے ساتھ ظہور پذیر ہوا، اسی تیزی سے کسمپرسی کا شکار ہوگیا۔ یہ گروہ مکمل طور پر ختم ہوگیا یا نہیں، اس سوال کا جواب ابھی آنے والے وقت نے دینا ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوتیں جنھوں نے اس گروہ کو تشکیل دیا تھا، اس کی باقیات کو بچاتی اور پیش نظر مقاصد کے لئے محفوظ مقامات پر منتقل کرتی نظر آتی ہیں۔ داعش اگر دولت اسلامیہ عراق و شام کا نام تھا تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا قضیہ اختتام کو پہنچتے ہیں دنیا میں فلسطین کے مسئلے پر ایک غوغا اٹھا۔ جب اچانک امریکی صدر نے اقوام عالم کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے مقبوضہ فلسطین کے شہر بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان کر دیا۔ اقوام عالم نے امریکہ کے اس یک طرفہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ نے ایک بڑی اکثریت سے ٹرمپ کے اس اقدام کی مخالفت کی۔ اگرچہ یہ قرارداد سلامتی کونسل میں ویٹو کر دی گئی، تاہم امریکہ کو واضح اور واشگاف پیغام مل گیا کہ دنیا کی بھاری اکثریت اس کی ہر بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ دیگر ممالک کی مانند پاکستان کا اس حوالے سے موقف بھی اصولی اور نہایت جرات مندانہ تھا۔

امریکہ دھونس، دھمکی کے بعد عملی اقدامات پر اتر آیا ہے۔ امریکہ جو اقوام متحدہ کے بہت سے پراجیکٹس کا ایک بڑا ڈونر ہے، نے اپنی امداد کو کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عمل یقیناً اس ادارے کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی ایک عملی کوشش ہے۔ اس سلسلے میں اقوام عالم کیا فیصلہ کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کیا اس بڑی امداد کے خاتمے کے بعد اپنے وجود کو باقی رکھ پائے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم امریکہ کے اقدامات سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ اب اپنی حیثیت اور اہمیت کھو دے گا یا ہوسکتا ہے کہ کوئی اور ادارہ اس کی جگہ لے لے گا۔ 2017ء میں عرب دنیا میں سعودیہ خطے میں ایک زیادہ فعال کردار کے ساتھ سامنے آیا۔ قطر سے بے جا مطالبات پھر اس پر پابندیاں، لبنان کے وزیراعظم کا استعفٰی اور اس کی واپسی سب 2017ء میں ہوا۔ اسی طرح سعودیہ میں معاشی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاحات کے عمل کا بھی آغاز ہوا۔ اس سلسلے میں کرپشن کے خلاف مہم کے نام پر شاہی خاندان کے بہت سے اہم اراکین کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے اکاﺅنٹس کو منجمد کر دیا گیا۔ سعودی سربراہی میں اتحادی طیاروں کی بمباری یمن پر مسلسل جاری ہے، جسے ہزار سے اوپر دن ہوچکے ہیں۔ اس بمباری کے دوران میں یمن میں ہزاروں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا اور لاکھوں کی املاک تہس نہس کر دی گئیں۔

اسی 2017ء میں ایک مرتبہ پھر روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا، نائجیریا میں شیخ زکزاکی کی حراست جاری رہی، بحرین میں عوام اپنے حقوق کے لئے میدان میں نکل کر بحرینی افواج کے سامنے سینہ سپر رہی، لیبیا میں خانہ جنگی ہے، شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بمب کا دھماکہ کرکے دنیا کو پیغام دیا کہ اپنے دفاع پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور ہر جارح کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاکستان میں 2017ء میں حکومت کی تبدیلی کا ایک اہم فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کی عدلیہ نے اپنی تاریخ کا ایک بڑا کیس ملک کے وزیراعظم کے خلاف چلایا اور ایک طویل سماعت کے بعد ملک کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا، جو ملک کے اداروں کی طاقت و قوت اور بحالی کا تاثر دیتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے عنوان سے بھی پاکستان میں ایک قابل ذکر تبدیلی مشاہدہ کی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کی رفتار شاید بعض کی نظر میں سست ہو اور بعض کو تیزی کا عنصر نظر آتا ہو، تاہم 2017ء میں پاکستان کے ذمہ دار افراد اور ادارے اپنے پرانے اتحادی امریکہ کے بے جا اور مسلسل مطالبوں بلکہ ان سے بڑھ کر دھمکیوں کے سبب امریکہ سے گریزاں اور خطے میں موجود دیگر قوتوں سے قریب تر ہوتے نظر آئے۔ چین، روس، ایران، پاکستان اور افغانستان اپنے باہمی مسائل کے حل کے لئے ایک دوسرے سے قریب تر ہو رہے ہیں، اسی طرح سی پیک منصوبے کو کامیاب بنانے نیز ”ون بیلٹ ون روڈ“ کے منصوبے کو قائم رکھنے کے لئے بھی ان ممالک کے مابین ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں ترکی بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے، جو ایک بڑی پیشرفت ہے۔

2017ء میں برطانیہ نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اور ایسے سینکڑوں اہم واقعات گذشتہ برس میں پیش آئے۔ ان واقعات کے تناظر میں اگر 2018ء کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگلا سال جہاں سائنسی، علمی و معاشرتی میدان میں ترقی لائے گا، وہاں اگلے برس میں دنیا کو بہت سے ایسے چیلنجز بھی درپیش ہوں گے، جن سے ہماری قیادتوں کو نمٹنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی امداد میں کمی، امریکہ کی اس ادارے میں سبکی اور اس کی جانب سے اس ادارے نیز اس کے اراکین پر بے جا دباﺅ اس ادارے کے مستقبل اور اثر پذیری کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ بہت سی اقوام پہلے ہی اس ادارے کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھیں، تاہم جب تک امریکہ اور مغربی ممالک کا کام اس سے نکل رہا تھا، وہ اسے قائم رکھے ہوئے تھے۔ اب اچانک انہیں محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ ادارہ آزاد ہوگیا ہے اور ہماری طرف انگشت نمائی کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں اس ادارے کا کیا بنتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ 2018ء کا سال دنیا بھر کے مظلوموں اور مستضعفین کے لئے کیا نوید یا وعید لاتا ہے، دنیا اس امر کی بھی منتظر رہے گی۔ ہماری تو دعا ہے کہ 2018ء دنیا میں امن آشتی، پیار محبت، اخوت و برادری اور انسانی ترقی کا سال ہو، تاہم یہ خواب خلوص نیت کے ساتھ ساتھ خلوص عمل کا بھی متقاضی ہے۔ اللہ کریم انسانوں کو ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے اور ترقی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *