ایک تحفہ (چودہ فروری کی مناسبت سے)

سوچ رہا تھا اس بار پیار کرنے والوں کو کوئی تحفہ دیا جائے، موسیقی شائد، یا کوئی پھول، پھر سوچا ایک لکھنے والے کے پاس الفاظ سے بہترین تحفہ نہیں ہوسکتا۔انسان چونکہ صرف گوشت کا ایک پہاڑ نہی بلکہ دل و دماغ جیسی نعمتوں سے بھی نوازا گیا ہے تو اپنے سفر کے دوران وہ بہت سی چیزیں دیکھتا، بہت کچھ محسوس کرتا اور بہت سی چیزوں میں کشش پاتا ہے۔ اسمیں سے ایک کشش صنف مخالف کی طرف بھی ہے۔ یہ ایک فطری تقاضا ہے، اور اس فطری تقاضے سے انکار بھلا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔
نسل نو، دین یہ کہتا ہے، دین وہ کہتا ہے کی رٹ سے تنگ آ چکی ہے۔ اس فطری تقاضے کو اسلام کس نظر سے دیکھتا ہے آئیے اسکا اجمالی جائزہ لیتے ہیں اور یہی پیار کرنے والوں کے نام تحفہ ہے کیونکہ یہی نبیﷺ کافرمان ہے۔ آخر دین نے اس رشتے کو دو لوگوں تک ہی کیوں محدود کردیا؟ اگر یہ ایک سے زائد تک ہوتا تو کیا قباحت تھی، اور انسان آزاد ہوتا تو کیا ہی بہترین ہوتا۔ اہل یورپ میں بظاہر بحثیت مجموعی ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا جس سے اس آزادی سے بچنے کی سبیل کی جائے۔
انسان ایک ناتواں بچے کی صورت میں اس دنیا میں آتا ہے اور ایک بچے کی صورت میں اٹھا لیا جاتا ہے۔ ان دو صورتوں میں انسان کو سہارے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو دیکھیں تو وہ اپنے آپ میں محتاجی کا ایک نشان ہوتا ہے اور ایک بوڑھے شخص کو دیکھئیے تو تصویر ذرا بھی مختلف نہیں ہے۔ ان دونوں کو شدید نگہداشت اور بہت ہی پیار اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان اگر جوان آتا اور جوان ہی دنیا سے چلا جاتا تو معاملہ شائد بہت آسان ہوتا۔ لیکن معاملہ ایسا ہے کہ بچہ چل نہیں سکتا، بول نہیں سکتا، چبا نہںی سکتا اور با لکل اسی طرح بوڑھے کو ایک لاٹھی کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ چل سکے، اسے ایک سمجھنے والے کی ضرورت، جو اسکے دل کے نازک احساسات کو سمجھ سکے اور اسے کھانے والے دانتوں کی ضرورت پڑتی ہے کہ چبا سکے۔ انسان کی صرف اس ضرورت کو پورا کرنے کو نکاح کا یہ ادارہ بنایا گیا اور اسے قائم کرنے کی پوری کوشش کی گئی تاکہ انسان کو بچپن اور بڑھاپے میں سکون میسر آ سکے اگر انسان جوان ہی آتا اور جوان ہی مر جاتا تو اس ادارے کی ضرورت چنداں نہ تھی۔
یہ بات سچ ہے کہ ہمارے روایتی خاندانی نظام نےبچوں اور بوڑھوں کی زندگیوں کو زیادہ برباد کیا ہے۔ لیکن اسکی وجہ شادی کا یہ ادارہ تو نہیں، اسکی وجہ دوسرے میدانوں میں تربیت کی کمی ہے، ہمارے والدین بچے کی نفسیات سے لاعلم ہیں اور بچے بوڑھے کی نفسیات سے لاعلم، کسی قسم کی کونسلنگ نہ تو بچے کو سنبھالنے کے معاملے کی جاتی ہے اور نہ ہی بوڑھے کے معاملے میں، تو گڑبڑ دوسری جگہ پر ہےاسے نکاح کے ادارے پر محمول نہ کیا جاوے ،کیونکہ یہ درست طریق نہیں ہے۔ خیر یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر وہ راستہ بند کرنے کی کوشش کی ہے جس سے نکاح کا یہ ادارہ کسی بھی صورت میں تباہ ہوسکتا ہو۔ آپ طلاق کے احکامات اٹھا کر دیکھیں تو جیسے احکام دینے والے آخری حد تک بات کو لے جا رہا ہےتا کہ اس ادارے کے تقدس کو پامال نہ کیا جاوے۔ طوالت کے ڈر سے بہت کچھ حذف کر رہا ہوں، ورنہ قرآن اٹھائیے تو وہ کاوشیں دیکھئے جو قرآن نے صرف اس ادارے کو بچانے کو کی ہیں۔
نبیﷺ کی حدیث ہے کہ دو محبت کرنے والوں کے درمیان ہم نکاح کی مثل کچھ نہیں دیکھتے(البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)۔ آپ پیار اور محبت کے جذبات کو دل میں جگہ دیجئے لیکن یاد رکھئیے کے آپکے درمیان کوئی بھی تعلق صرف نکاح کی صورت میں قائم ہوسکتا ہے۔ آپ اس سے ہٹ کر کوئی تعلق قائم کرینگے تو آپ زیادتی کرینگے اپنے بنانے والے کے ساتھ کیونکہ آپکا رب یہ چاہتا ہے کہ آپ محبت کے اس رشتے کو نکاح کی شکل میں استوار کریں۔ قران نے جب نکاح کو بھی بیان کیا تو ذرا اس آیت کو دیکھئے
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿المائدة: ٥﴾
اور پاکدامن مومنہ عورتیں اورپاکدامن اہل کتاب کی عورتیں( حلال کی گئی ہیں) بشرطیکہ ان کا مہر انہیں دے دو۔ جس کا مقصد عفت قائم کرنا ہو نہ کہ شہوت رانی، یا چوری چھپے ناجائز تعلقات، اور جو ﴿ان باتوں پر﴾ ایمان لانے سے انکار کرے تو اس کے سب عمل اکارت ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔

اسی سے متصل پے در پے نکاح کرنے والوں کے لئے بھی ایک آیت ہے۔ کہ دوسرا اور تیسرا نکاح ایک شرط کےساتھ جائز ہے اور وہ شرط قرآن کی زبانی سن لیں۔ یہ موضوع لمبا ہے کسی وقت اس پر چند باتیں عرض کرنے کو دل ہے۔ آیت سے پہلی آیت میں معاملہ یتمیوں کے مال کا ہے اور اسکے بعد اللہ پاک نے فرمایا ہے:
وَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِى الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا
اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو لونڈی تمہارے ملِک میں ہو وہی سہی، یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے۔
قران کی آیت بڑی واضح ہے کہ اگر یتیموں کے مال کےبارے میں تمہیں ڈر ہو کہ انصاف نہ کرسکوگے “تو”
پہلی شرط:وَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِى الْيَتَامٰى
دوسری شرط:مِّنَ النِّسَآءِ
تیسری شرط:فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا
خیر یہ پھر کبھی کا موضوع ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہہ دوں میری ناقص ترین رائے ہے۔ اس پر استاذی طفیل ہاشمی اور استاذی مفتی زاہد صاحب کی رائے لوں گا۔ اگر ان شرائط کو نظر انداز کرکے پے در پے نکاح کئے جاوینگے تو وہ سورۃ مائدہ میں جس شہوت رانی کی طرف اللہ پاک نے اشارہ کیا ہے انسان اسکا شکار ہوسکتا ہے۔ ھذا ماعندی والعلم عنداللہ

قال النبیﷺ النكاح سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني
نبیﷺ نے فرمایا کہ نکاح میری سنت اور جو میری سنت سے رغبت نہیں رکھتا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (اسکی تحقیق نہیں کرسکا)
واللہ عالم
میرا یہ تحفہ ہر دھڑکتے دل کے نام اور ہر پیار کرنے والے کے نام کہ تم سدا سلامت رہو،یہ الفتیں یہ محبتیں سدا سلامت رہیں، انہی سرخ پھولوں کی طرح تمہاری شگفتگی بھی سلامت رہے۔ بس اتنا خیال رکھنا حد سے تجاوز نہ کر جانا اور اس رب کا خیال رکھنا جو باہیں کھول کر انتظار میں ہے اور پوچھ رہا ہے یا ایها الانسان ما غرک بربک الکریم ۔ نبیﷺ کی سنت کی طرف رغبت رکھنا، اللہ تمہاری پاکیزگی، عزت، عصمت اور عفت کو سلامت رکھیں۔ آخر میں ایک بات کہنا چاہونگا۔
یہ رانجھا اس صدی کا ہے ذرا محتاط ہی رہنا
اٹھا کہ فائدہ تیرا یہ پھر سے ہیر بدلے گا

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *