وادی ء زیتون کا سفر۔۔۔شہباز افضل

پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کی طرف سے مجھے سون ویلی دیکھنے کا موقع ملا، ویسے تو میں دو سال پہلے بھی سون ویلی کو دیکھ چکا تھا لیکن سلمان بھائی کی  بنائی گئی تنظیم  پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے خلوص کو میں انکار نہیں کر سکا اور ان کے ساتھ سفر کرنے کی حامی بھر لی جو کہ میری زندگی کا ایک یادگار سفر ثابت ہوا کیونکہ سون ویلی ویسی نہیں تھی جیسا کہ میں دو سال پہلے چھوڑ کر آیا تھا، اب یہاں بہت ترقی  ہو چکی ہے لوگوں کے لیے ہر طرح کی سہولیات ٹی ڈی سی پی کی طرف سے مہیا کی گئی ہیں۔

صبح دس بجے ہم ٹی ڈی سی پی کے  آفس سے سون ویلی کے لیے روانہ ہوئے، سون ویلی پنجاب کے ضلع خوشاب کی ایک خوبصورت وادی جو کہ سون کے نام سے مشہور ہے بہت کم لوگ اس وادی کا رُخ کرتے ہیں ، یہ وادی تین خوبصورت جھیلیں رکھتی ہے ایک کھبیکی دوسری کا نام اچھالی ہے اور تیسری جھالر، تینوں جھیلیں مکمل طور پر قدرتی ہیں اور کافی خوبصورت ہیں، کھبیکی جھیل کے کنارے محکمہ سیاحت پنجاب نے ایک خوبصورت موٹل بنا رکھا ہے جہاں اچھی طرز کی ساری سہولیات بھی میسر ہیں ، دو دن کے ٹرپ کے لیے ایک بہترین جگہ ہے دیگر خوبصورت مقامات میں کنہٹی گارڈن ، سکیسر ٹاپ ، ڈیپ شریف کے تازہ پانی کے قدرتی تالاب وغیرہ شامل ہیں۔

کھبیکی جھیل :
وادئ سون کی دوسری بڑی جھیل، کھبیکی نام کے گاؤں کے پاس نوشہرہ-جابہ روڈ کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔ دو کلومیٹر چوڑی اور ایک کلومیٹر لمبی اس جھیل میں پہلے نمکین پانی ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ قدرے میٹھے پانی کی جھیل ہے جس میں ایک خاص چینی قسم کی مچھلی بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ جھیل بھی باقی جھیلوں کی طرح ”اچھالی ویٹ لینڈ” Uchali Wetlands کا حصہ ہے جسے رامسر کنوینشن (Ramser Convention) کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔
یہ جھیل سائبیریا سے آنے والے ہجرتی پرندوں کا بہت بڑا مسکن ہے۔

جھیل کے پسِ منظر میں کوہِ نمک کے خوبصورت پہاڑ دل کو چھو لینے والا منظر پیش کرتے ہیں۔ جھیل کے ایک کنارے پر ”ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب” کا ایک خوبصورت ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہے جہاں تمام بنیادی ضروریات سمیت سائیکلنگ کی سہولت بھی میسر ہے۔ ریسٹ ہاؤس کے سامنے ایک خوبصورت ”واچ ٹاور” بھی بنایا گیا ہے جہاں سے سیاح جھیل اور اس پر آنے والے مہمان پرندوں کا دلکش نظارہ آنکھوں میں قید کرنے کے ساتھ ساتھ کیمرے میں بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ میرے دوسرے سفر میں یہاں TDCP کی طرف سے کیمپنگ اور شامِ موسیقی کا زبردست انتظام کیا گیا تھا۔

حال ہی میں جھیل کے کناروں اور اس تک جانے والے راستے کو پکا کر کے اس کے ایک طرف خوبصورت سائیکلنگ ٹریک بنایا گیا ہے جس پر روشنیوں کی ایک قظار اور بینچ بھی لگائے گئے ہیں جس سے یہ جگہ اب بہت بہتر تفریحی مقام بن چکی ہے۔

اُچھالی جھیل:
وادئ سون کی سب سے بڑی جھیل اچھالی جھیل ہے
ایک ایسی جھیل جس کے پانیوں میں ایک سڑک جاتی نظر آتی ہے گویا کسی کے عصا نے پانیوں کو چھوا اور ایک راستہ بن گیا۔یہی اُچھالی جھیل ہے جو پوٹھوہار کے بلند ترین پربت سکیسر ٹاپ کے قدموں میں پھیلی ہوئی ہے۔
کھبیکی سے اب اچھالی جھیل کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ انتہائی دلکش رستہ اور جگہ جگہ بغیر چرواہے کے چرنے والی گائیں بہت بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ایک جگہ سڑک پر مست الست دائیں بائیں لڑھکتی ایک گائے بس سے بھی ٹکرا گئی لیکن خدا کا شکر کوئی نقصان نہ ہوا۔
یہ سفر وادئ سون کے دل یعنی درمیان میں کر رہا تھا۔ سڑک جو کبھی بنی تھی اب ختم ہو چکی تھی، سورج بھی اب تیزی سے ڈھل رہا تھا، اردگرد پہاڑوں میں غار نظر آ رہے تھے،چونکہ اس علاقے میں بدھ مت کے آثار ملے ہیں اس لیے مَیں غاروں کے آس پاس بدھا کا مجسمہ دیکھنے کیلئے ہر غار یا غار نما جن میں سے کچھ کوئلے کی کھوج کیلئے بنائے گئے تھے، غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا، بکریوں کے ریوڑ اور چرواہے شام قریب ہونے پر اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ رہے تھے، خدا کی خدائی یوں دامن پھیلائے  ہوئے تھی کہ جی چاہتا تھا یہیں کیمپ لگا کر رات گزاروں، لیکن رات کا کھانا کہاں سے کھاتا؟

ایک جگہ سڑک کنارے درخت جو کہ زمانے کی مار سے خشک ہو چکے تھے بہت خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک اعلیٰ خوابیدہ منظر لیے کھڑے تھے،وہاں رُک کر ان کی منظر کشی کی۔
ایک آدمی دو اونٹ لیے اس راستے پر جارہا تھا جہاں سے میں آرہا تھا، اس سے پوچھا کہ نوشہرہ تا اچھالی سڑک کتنی دور رہ گئی ہے، بتایا کہ بس تھوڑی۔۔
اونٹوں والے عموماً بڑی بڑی مونچھوں کے حامل دراز قد اور وضع قطع سے عام افراد سے الگ ہی معلوم ہوتے ہیں۔
ضلع خوشاب و میانوالی کے افراد کے بارے میں مشہور ہے کہ دراز قد اور جاہ و جلال شخصیت کے حامل ہوتے ہیں، ضلع گھوم کر پتا چلا کہ شاید یہ بات صرف اونٹ والوں کے بارے میں کہی گئی تھی،رستے میں ایک شکستہ حال اور ناقابلِ استعمال برٹش دور کا بنا ہوا پل نظر آیا، جو کہ برساتی نالے پر بنایا گیا تھا، ہمیں خطے کے سیاحتی مقامات تک رسائی اور معلومات کی فراہمی میں انگریز کا بہت بڑا کردار رہا ہے، تاریخ کو محفوظ کرنے سے لے کر اس تک پہنچنے کو ممکن بنانے میں ہمیشہ کارگر رہے، گو کہ بہت تاریخی و انمول خزانہ یہاں سے سمیٹ کر برطانیہ منتقل کیا گیا۔
انہی سوچوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کوراڈھی گاؤں سے گزر کر نوشہرہ تا اچھالی سڑک پر پہنچ کر بائیں جانب اچھالی روانہ ہوا، اچھالی پہنچ کر جھیل پر پہنچا تو پہاڑی کی اوٹ میں سورج چھپ رہا تھا۔کچھ سیاح کشتی رانی کی سیر سے واپس پلیٹ فارم کی طرف آ رہے تھے، وہاں سڑک پر تعمیراتی کام مکمل  ہو چکا تھا اور ایک الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا دو سال پہلے مجھے وہاں جا کر جتنی مایوسی ہوئی تھی اس دفعہ جا کر اتنا ہی دلی سکون ملا کہ موجودہ حکومت اس علاقے کی ترقی اور ٹورازم کے فروغ کیلئے  کوشاں ہے۔
اچھالی جھیل 4492 مربع فٹ رقبے پر مشتمل نمکین پانی کی جھیل ہے۔یہاں لوگ جِلدی بیماریوں کے علاج کے لیے نہاتے بھی ہیں، سکیسر جو کہ وادی کا سب سے بلند پہاڑ ہے، اس رینج میں پانی کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے یہ جھیل وجود میں آئی۔
اس کا شمار سیّاحوں کیلئے وادئ سون کی مشہور جگہوں میں ہوتا ہے، سبز اندھیروں کی حامل اس جھیل پر شام ڈھل چکی تھی، دور پرندوں کا اک غول اپنے گھروں کی جانب واپس جا رہا تھا، ہم نے بھی واپسی کی راہ لی۔۔۔۔

جھالر جھیل:
ضلع خوشاب, تحصیل نوشہرہ سے 16 کلومیٹر سکیسر روڑ پر واقع خوبصورت جھیل, جھالر جھیل تک پختہ سڑک موجود ہے جو جھالر سے نیم پختہ دو راستوں میں تبدیل ہو جاتی ہے ایک راستہ امب شریف اور دوسرا سکیسر پہاڑ کی جانب جاتا ہے۔
بہت خوبصورت اور شانت جھیل دونوں لحاظ سے پانی بھی شانت اور عوام الناس سے بھی, ورنہ اس کا حشر نشر کر دیا ہوتا گندگی اس کے ماتھے کا جھومر بن جاتی, لیکن شکر اللہ کا ہزار ہا کہ یہ ایسوں کی پہنچ سے ابھی تک محفوظ ہے۔
اللہ اسے ایسی ہی شانتی ہمیشہ عطا فرمائے آمین۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *