چودھری غلام حیدر خاں۔۔راجہ اسد خاں

SHOPPING

چودھری غلام حیدر خاں مولانا ظفر علی خاں کے برادرِ حقیقی تھے۔ مولانا ظفر علی خان کو بجا طور پر باباۓ صحافت کہا جاتا ہے۔ غلام حیدر خاں بھی اخبار نکالتے رہے ہیں۔ میرے دوست راجا اسد علی خاں انہی چودھری غلام حیدر خاں کے پوتے، اور ریڈیو کی بہت نمایاں آواز، لاہور سٹیشن پر آپا موہنی حمید کے ساتھ بھائی جان کا کردار ادا کرنے والے راجا فاروق علی خاں کے بیٹے ہیں۔ آج چودھری غلام حیدر خاں کی برسی ہے۔ اس موقع پر راجا اسد علی خاں نے اپنے دادا کو یاد کیا ہے۔ تفصیلی حالات راجا صاحب کے قلم سے حاضر ہیں۔

SHOPPING

تحریکِ آزادی کے سر کردہ رہنما نامور ایڈیٹر اور ادیب چوہدری غلام حیدر خان کی برسی آج عقیدت اور احترام سے منائی جا رہی ہے وہ روزنامہ زمیندارکے بانی ایڈیٹر مولانا سراج الدین احمد کے صاحب زادے تھے غلام حیدر خان نے طویل عمرپائی اور سات دہا ئیوں تک صحافت اور ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔وہ کلکتہ سے نکلنے والے دو معروف اخبارات روزنامہ ترجمان اور روزنامہ صداقت کے مالک اور ایڈیٹرتھے اس کے علاوہ انہوں نے ایک مجلہ تبلیغ بھی جاری کیا انہیں اداریہ نویسی، مضمون نگاری اور انشا پر دازی پر مکمل عبور اور قدرت حاصل تھی بر صغیر کے سیاسی صحافتی اور ادبی حلقو ں میں چوہدری صاحب کو خاص مقام حاصل تھا ۔ ان کے مضامین ہندو ستان اور پاکستان کے صف ِ اول کے اخبارات اور جرائد میں چھپتے رہے جب کے ریڈرز ڈائجسٹ میں بھی ان کے مضامین کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ۔ چوہدری غلام حیدر خان نے صحافت ، سیاست اور ادب کے سلسلے میں ہندو ستان بھر کے دورے کیے جب کہ انہوں نے کچھ عرصہ برما میں بھی قیام کیا ۔1911میں اپنے بڑے بھائی مولانا ظفر علی خان کے قائل کرنے پر انہوں نے محکمہ ڈاک و تار کی ملازمت سے اپنی بارہ سالہ رفاقت ختم کرتے ہوئے اپنے آپ کو زمیندار سے منسلک کیااور یوں اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو شدید مالی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا اسی دوران مولانا ظفر علی خان یورپ کے دورے پر چلے گئے ۔اس موقع پرچوہدری غلام حیدر خان کی زیر ادارت زمیندار اس دوران سخت ترین مضامین اور خبریں چھپنے پر انگریز حکومت نے زمیندار کو بندکر دیا اور دس ہزار روپے کی ضمانت طلب کی گئی چوہدری غلام حیدر خان اس صورت حال میں کلکتہ چلے گئے اور وہاں سے روزنامہ ترجمان جاری کیا اشتعال انگیز مضامین اور خبریں چھاپنے پر ترجمان کا پنجاب میں داخلہ بند کر دیا گیا اس پر چوہدری غلام حیدر خان نے روزنامہ صداقت جاری کیا جیسے وہ 1926تک ایڈٹ کر تے رہے چوہدری غلام حیدر خان کا شمار علی برادران کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا وہ خلافت کمیٹی کے اہم ممبر رہے اور اس خبار کے ترجمان اخبار روزنامہ خلافت کے معاون مدیر بھی رہے اسی دور میں سیدحبیب کی گرفتاری اور بعدازاں سزا کے دوران غلام حیدر خان نے روزنامہ سیاست کی ادارت سنبھالی انگریز حکومت کے خلاف الزامات پر مبنی مضامین چھاپنے پر چوہدری صاحب کو ماشل لاء کے تحت گرفتار کر لیا گیا ۔انہوں نے علی برادران کی رہائی کے لئے بڑ سر گرمی سے کام کیااس کے علاوہ انہوں نے غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کے سلسلے میں مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا غلام حیدر خان نے پرنس اور ویلز کے بائیکاٹ اور مصطفو ی فتویٰ کی ضبطگی کے خلاف بھی مظاہریں کیے برٹش راج کے دوران خفیہ رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ چوہدری غلام حیدر خان اسلامی زہن کے آدمی ہیں اور ان کا شمار ابولکلام آزاد اور دیگر انتہا پسند و کے دوستوں میں ہوتا ہے چوہدری غلام حیدر خان کو اردو ، فارسی اور انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا انہوں نے صحافت کو ایک مشن سمجھا 1912میں اپنے جوا ں سال بیٹے عمر کی موت کی خبر ان کو روزنامہ زمیندار کے دفتر میں دی گئی اس کے باوجود وہ اخبار کی مکمل تیاری کے سلسلے میں رات گئے تک دفتر میں موجود رہے ۔چوہدری غلام حیدر خان آل انڈیا ریڈیو لاہور کے ابتدائی دور میں ڈرامہ نگاری اور فیچر نگار ی کرتے رہے ۔ ان کی معروف تخلیقات میں کامیاب زندگی ، آزادی کی جنگ اور ترکیِ حرم کو بہت پزیرائی حاصل ہوئی ۔ ان کی حضرت علامہ اقبال شفا الملک حکیم محمد حسن قرشی اور دیگر معروف شخصیات کے ساتھ خصوصی مراسم تھے وہ اپنے وقت کے واحد صحافی تھے جن کا لکھا ہوا اداریہ روزنامہ زمیندار میں ان کے نام کے ساتھ چھپتاتھا ۔ چوہدری غلام حیدر خان کے اکلوتے صاحب زادے راجہ فاروق علی خان ممتاز ڈرامہ نگار اور ادیب تھے چوہدری غلام حیدر خان نے اپنے بھائی مولانا ظفر علی خان کے حیات اور خدمات پر ایک ضخیم کتاب ظفر الملت تحریر کی تھی جسے مر کزیہ مجلس مولانا ظفر علی خان کے زیرِ اہتمام ان کے پوتے راجہ اسد علی خان کی زیرِ نگرانی شائع کیا جا رہا ہے۔
اورینٹل کالج لاہور کے نوجوان محقق وقار خالد نے چوہدری غلام حیدر خان کی گراں قومی خدمات پرممتازدانش ، ادیب اورصدر شعبہ اردو اورینٹل کالج پرو فیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی نگرانی میں اپنا مقالہـ’’ غلام حیدر خان کی ادبی خدمات‘‘ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے ۔
چوہدری غلام حیدر خان کا انتقال لاہور میں 9دسمبر 1970کو ہوا اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے آبائی گاؤں کرم آباد میں بڑے بھائی مولانا ظفر علی خان کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا کہنا ہے کہ چوہدری غلام حیدر خان وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اخلاص ، ایثارجاں فشانی سے عمر بھر مولانا ظفر علی خان کا ساتھ دیا۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *