دائرہ/خنسا سعید

اُس کی بے رنگ زندگی میں کوئی رنگینیاں باقی نہیں بچی تھیں. زندگی اُس سے روٹھ کر ایک کونے میں دبکی بیٹھی ہوئی تھی. وہ اُس کو منانے کی کوشش کرتا مگر بے سود۔۔
اب تو اُس کے خواب بھی اُس سے منہ پھیر چکے تھے. وہ جب جاگتا رہتا تو زندگی کو منانے کی کوشش کرتا، جب سو جاتا تو گم شدہ خوابوں کو تلاش کرتا، مگر دونوں نے شاید گٹھ جوڑ کر لیا تھا، ایک وقت تھا جب زندگی سے اُس کی بڑی پکی دوستی تھی اور خواب تو اُس پر بے حد مہربان تھے،جاگتی آنکھوں میں بھی رقص کرتے تھے۔
وہ ہمیشہ ایک خواب دیکھتا تھا کہ وہ ایک خستہ حال پُل پر چل رہا ہے، جس کے نیچے صاف شفاف پانی بہہ رہا ہے اور پانی کے اوپر رنگ برنگے پھول تیر رہے ہیں۔ وہ ابھی کچھ قدم ہی چل پاتا کہ پُل سے نیچے گر جاتا ہے۔
اور پھر وہ باقی کی رات سو نہ پاتا۔۔

وہ اس خواب سے بہت پریشان رہتا، اس کی تعبیر سب سے پوچھتا، مگر وہ کبھی کسی بھی تعبیر سے مطمئن نہ ہوتا، کیونکہ کسی ایک کی بھی بتائی ہوئی تعبیر سچ ثابت نہ ہوتی۔پھر یوں ہوا کہ اُس کو وہ خواب آنا بند ہو گیا۔

اب اُس کو کوئی بھی خواب نہ آتا، ایک رات وہ اسی پریشانی اور امید میں سو گیا کہ شاید آج میں کوئی خواب دیکھ ہی لوں گا۔۔

اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ ایک پُل پر چل رہا ہے جس کے نیچے پانی نہیں بہہ رہا، نہ ہی خوشبو بکھیرتے رنگ برنگے پھول ہیں،اور نہ ہی وہ گر رہا ہے، وہ چلتا ہے اور چلتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے وہ پُل ایک دائرے کی صورت بنایا گیا ہے. جس میں اُس کے سارے خواب قید ہیں اور زندگی ایک کونے میں دبکی بیٹھی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

وہ اُس رات نیند سے بیدار ہو جانا چاہتا تھا مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply