• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے, احاطہ عدالت میں عوام کا رش

عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے, احاطہ عدالت میں عوام کا رش

عمران خان کارکنوں کے جم غفیر کے ہمراہ لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی گاڑی احاطہ عدالت میں داخل ہوگئی ہے۔احاطہ عدالت میں عوام کے رش کے باعث عمران خان کو گاڑی سے نکلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ پولیس لوگوں کو پیچھے ہٹانے اور عمران خان کیلئے راستہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ججز اپنے چیمبر میں موجود ہیں ، عمران خان کے پیش ہوتے ہی سماعت شروع ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ عمران خان کو لاہور ہائیکور ٹ کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے۔

قبل ازیں جسٹس علی باقر نجفی کے عدالتی عملہ نے عمران خان کے وکیل کو ہدایات پہنچائیں تھیں کہ عمران خان کی درخواست پر سماعت کےلیے مزید 10 منٹ تک انتظار کیا جائے گا۔ تاہم 10 منٹ ختم ہونے پر مزید 5 منٹ کی مہلت دی گئی۔

واضح رہے کہ حفاظتی ضمانت کی درخواست اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق ہونے کا معاملہ، عمران خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر عمران خان کے دستخط نہ ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔ عدالت نے تین گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے عمران خان کو شام5 بجے پیش ہونے کا آخری موقع دیا ، تاہم آخرکار عمران خان قافلے کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ چکے ہیں۔

قبل ازیں سماعت کے دوران جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے پیش نہ ہونے پر سرزنش کی اور ریمارکس دئیے تھے کہ میں خان صاحب کو اظہار وجوع کا نوٹس کرتا ہوں اور 3 ہفتے کی تاریخ ڈال دیتا ہوں۔ جس پر وکیل عمران خان خواجہ طارق رحیم نے کہا عمران خان کل ہی آجاتے ہیں۔ جج صاحب نے کہا اتنی جلدی نہیں ہے۔ عمران خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم کے جملے پر عدالت میں قہقے لگ گئے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت نے پہلے ہی بہت رعایت دی ہے۔ عمران خان کے دستخط نہ ہونے پر وکیل اظہر صدیق کو توہین عدالت کا نوٹس دے سکتے ہیں۔ آپ کا رویہ معذرت خواہانہ ہونا چاہیے تھا۔ میں آپ کو اظہار وجوہ کا نوٹس دوں گا جواب تیار کرتے رہیں۔

وکیل نے درخواست کی کہ آپ درخواست خارج کردیں۔ جس پر جج صاحب نے کہا اگر عمران خان نےیہ درخواست دائر نہیں کی تو واپس کیسے لے سکتے ہیں ؟ یہ نہیں ہوتا کہ سماعت تھوڑی تھوڑی دیر بعد ملتوی ہوتی رہے۔لیکن سماعت پھر بھی چلے گی۔

وکیل عمران خان نے کہاہم درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔ جج صاحب نے کہا شوکاز کا جواب دیں، عدالت مطمئن ہوئی تو نمٹا دیں گے۔ عمران خان لیڈر اور رول ماڈل ہیں۔ انہیں رول ماڈل ہی رہنا چاہیے۔

Advertisements
julia rana solicitors

وکیل نے کہا شام 5 بجے وہ عدالت آجاتے ہیں، یہ عمران خان کیلئے بھی اچھا ہے۔ عمران خان عدالت آنے کو تیار ہیں اور معذرت بھی کریں گے۔5 بجے خان صاحب ادھر ہوں گے۔ عمران خان کے وکیل کی یقین دہانی پر عدالت نے سماعت پانج بجے تک کیلئے ملتوی کی۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply