• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جماعت اسلامی- جو چال بھی چلی قیامت کی چلی/نذر حافی

جماعت اسلامی- جو چال بھی چلی قیامت کی چلی/نذر حافی

ملکی صورتحال دیکھ لیجئے۔ لوگوں کے پاس آٹے کی قوّتِ خرید بھی نہیں رہی۔ قحط کی سی صورتحال میں فاقہ زدہ لوگ خودکُشی پر مجبور ہیں۔ سیاسی حضرات سے تو خدا کی پناہ، البتہ لوگوں کی چیخوں سے توجہ ہٹانے کیلئے جماعت اسلامی نے کیا ہی خوب پتہ کھیلا۔ جماعت اسلامی کے رہنماء مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایوان میں فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2020ء پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کی توہین پر اس وقت تین سال قید کی سزا ہے، جبکہ کسی شہری کی توہین کی سزا پانچ سال مقرر کی گئی ہے، لہٰذا اس بل کی بدولت صحابہ کرامؓ کی توہین کی سزا میں اضافہ ہوسکے گا۔ وفاقی وزیر قانون نے بل کی مخالفت نہیں کی، جس کے بعد انہوں نے ایوان میں بل پیش کیا اور ایوان نے بل کی شق وار منظوری دے دی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بل کے پیچھے میں سال 2019ء سے لگا ہوا تھا، یہ بل قائمہ کمیٹی سے بھی منظور ہوا اور قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا۔

ہمیں جماعت اسلامی یا مولانا عبدالاکبر چترالی پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مولانا مودودی ؒ صاحب اور قاضی حسین احمد مرحوم اس وقت جنت الفردوس میں جماعت اسلامی کے بارے میں یقیناً منفی خیالات رکھتے ہونگے۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ آپ مولانا مودودی صاحب کا لٹریچر پڑھنے اور قاضی حسین احمد صاحب کی تقاریر سننے کے بجائے صرف یہ بِل پیش کرنے کی ٹائمنگ دیکھ لیجئے۔ ایک طرف لوگ بے روزگاری، افلاس، غربت اور مہنگائی کے مارے بلبلا رہے ہیں، خودکُشیاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف جماعت اسلامی نے عین اسی وقت سب کو ایک خالصتاً مذہبی ایشو میں الجھا دیا ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہوگا۔ ماضی میں پھر مولانا مودودی صاحب سے ملاقات ہوسکتی ہے اور اُن کے پاکستان کے بارے میں نظریات جان کر آپ کو دھچکا بھی لگ سکتا ہے۔

لہذا یہ کالم پڑھنےکے دوران آپ مولانا مرحوم کو فی الحال ایک طرف ہی رکھئے اور مختصراً یہ جان لیجئے کہ 1971ء میں جماعت اسلامی نے بنگالیوں کے خلاف وہی کردار اداکیا تھا، جو بعد ازاں طالبان اور داعش نے پاکستانیوں کے خلاف اداکیا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمارے بڑوں کے کہنے پر البدر اور الشّمس کے نام سے دو فاشسٹ جتھے بنائے اور پھر باقی آپ خود تحقیق کر لیجئے۔ ہر تجزیہ کار کی اپنی رائے ہوتی ہے اور میری رائے میں جماعت اسلامی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ پاکستان میں صرف یہی جماعت ہے کہ جو اتحاد اور یکسوئی کی ضرورت کے عین وقت بھائی کو بھائی کے خلاف کھڑا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ البدر اور الشّمس کے نام سے انہوں نے بنگالیوں کے ہاتھوں بنگالیوں کا قتلِ عام کرایا۔ جان لیجئے کہ ایسے کاموں کے پیچھے بڑے بڑے دماغ ہوتے ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ کبھی بھی البدر اور الشّمس کے کردار پر”مین سٹریم میڈیا” ٹیبل ٹاک نہیں کراتا۔ خیر اس کے بعد پاکستان میں جتنے بھی دہشت گرد گروپ منظم ہوئے یا تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں سے جو دہشت گرد پکڑے گئے، آپ کو اُن کا کھرا کہیں نہ کہیں اسی جماعت کے ہاں ملے گا۔

دور تک دیکھنے والے کہتے ہیں کہ موجودہ بِل اصل میں جماعت کی کراچی سے انتخابات جیتنے کی قیمت ہے۔ اب میڈیا، سیاستدان، علماء، لکھاری ملک کی بدترین صورتحال کو چھوڑ کر مولانا عبدالاکبر چترالی کے بِل پر لگ جائیں گے۔ 1971ء کی طرح اب پھر کون سوچے گا کہ ملک کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے کا اصلی ذمہ دار کون ہے؟ مبارک ہو کہ اب فاقہ کش لوگوں، کرپٹ حکمرانوں، نااہل سیاستدانوں، سرکش اداروں اور ملک کی ابتری کی بحث ختم اور عوام کے درمیان ایک لمبا مذہبی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ گویا جو چال بھی چلی قیامت کی چلی۔ لوگ بھوک سے مر تو سکتے ہیں، لیکن اب اس بِل سے تو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ پاکستان میں ویسے بھی عقیدے کے نام پر دوسروں کو مارنے والوں کا طوطی بولتا ہے۔ ایسے میں مولانا عبدالاکبر چترالی نے بھیبروقت اقدام کیا۔ اصلی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے، 1971ء کی طرح اگر قومی مفاد میں کچھ لوگ مارے بھی گئے تو کوئی بڑی بات نہیں۔جماعت کی روایتی سیاست کے مطابق یہ بِل اسی وقت منظور ہونا چاہیئے تھا سو ہوگیا۔ اب جو ہوگا، سو دیکھا جائے گا۔

بہرحال سنجیدہ حلقوں کو پاکستان میں بلاسفیمی قانون کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لینا چاہیئے۔ بحث تو جماعت اسلامی نے ویسے بھی دوسری طرف پھیر دی ہے۔لہذا چلتے چلتے مجھے کوئی توہینِ صحابہ کا مسئلہ ہی سمجھا دے۔ شیعہ حضرات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم صحابہ کرام ؒکے پاوں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سُرمہ مانتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم تو کسی کافر کی توہین کو بھی حرام سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ مانتے ہی نہیں کہ ہم توہین کرتے ہیں۔ لہذا اب توہین کی تعریف ہوتے ہوتے نجانے کتنے گھرانوں کے چراغ گُل ہو جائیں گے۔ ہم توہین کی تعریف کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی قومی اسمبلی سے انتہائی ادب کے ساتھ صرف مندرجہ زیل دو سوالات پوچھنا چاہتے ہیں:

1۔ کیا کائنات میں کُفر اور شرک سے بڑی برائی کوئی اور موجود ہے؟ اگر نہیں تو کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمدﷺ کے والدین کو نعوذباللہ کافر و مشرک کہنا، لکھنا اور اس عقیدے کی تبلیغ کرنا “بلاسفیمی قانون” کی زد میں کیوں نہیں آتا؟ ہمارے پیارے نبیؐ کے والدین کو کافر و مشرک کہنے سے پاکستان کے پچانوے فی صد مسلمانوں کی دِل آزاری ہوتی ہے۔ آخر ایسا کرنے والوں کو چھوٹ کیوں ہے۔؟
2۔ ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ انتہائی متّقی، مقدس، نیک اور پارسا ہستیاں ہیں اور یا پھر جن لوگوں نے ہمارے پیارے نبیؐ کے بعد اُن کے اہلبیت سے بغض رکھا، دشمنی کی، انہیں رُلایا اور ستایا، انہیں تنہاء کیا اور انہیں شہید کیا، اس کے علاوہ شراب نوشی، فسق و فجور، موج و مستی کے ساتھ ساتھ جلیل القدر صحابہ کرام کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے! کیا یہ سب کرنے والے بھی صحابی ہیں۔؟

Advertisements
julia rana solicitors

یہ فیصلہ ہم قومی اسمبلی پر ہی چھوڑتے ہیں، لیکن مولانا چترالی صاحب کی بارگاہ میں اتنا عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ انتہائی باکردار، مقدس، پاکیزہ اور اہلِ بیت کی مطیع ہستیاں ہیں تو پھر یہ واضح ہے کہ ہر مسلمان صحابہ کرام ؓ کا عاشق ہے، لیکن اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ جن لوگوں نے ہمارے پیارے نبیؐ کے بعد اُن کے اہلبیت سے بغض رکھا، اُن کی آل سے دشمنی کی، ان کی اولاد کو رُلایا اور ستایا، انہیں بے آسرا و تنہا اور شہید کیا، اس کے علاوہ شراب نوشی، فسق و فجور، موج و مستی کے ساتھ ساتھ “وہ لوگ” جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے قتل کے بھی مرتکب ہوئے! اگر آپ اُن لوگوں کو صحابی کہتے ہیں تو پھر تو آپ خود صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ صحابہ کرام ؓکے حوالے سے آپ اپنا موقف واضح کر دیجئے، چونکہ ہم جماعت اسلامی کے اس پرانے وطیرے سے نالاں ہیں کہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ (مولانا مودودی مرحوم، جناب قاضی حسین احمد اور جماعت کے دیگر مخلص کارکنان و مرحومین کی ارواح سے معذرت چاہتا ہوں۔ جماعت کی مسلسل منفی پالیسیوں کے باعث تنگ آکر کچھ ایسے تلخ حقائق سامنے لانے پڑے)۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply