کرونا اور قدرتی طرزِ زندگی۔۔محمد ہارون الرشید

لاک ڈاؤن نے ایک بات تو واضح کر دی ہے کہ حکومت اگر چاہے تو کسی بھی فیصلے پر عملدرآمد کروا سکتی ہے، کوئی احتجاج، کوئی اپیل اور کوئی دھمکی اُس کو فیصلے پر عملدر آمد سے روک نہیں سکتی۔
معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے ملک کو Herd Immunity کی طرف لے جانے کا غیراعلانیہ اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے سے کسی بھی وقت رجوع کرنے کا (میں بوجوہ یوٹرن کی اصطلاح استعمال نہیں کر رہا) اختیار بھی اپنے پاس رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور مرحلہ وار کاروبارِ زندگی کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔جو دیگر ممالک لاک ڈاؤن ختم کر رہے ہین وہاں کرونا متاثرین میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی یہ رحجان بڑھ ہی رہا ہے۔ 14 اپریل کو جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی، تب سے اب تک کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ روزانہ ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں (پچھلے 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 1700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں) اور 35 سے 40 اموات واقع ہو رہی ہیں۔ ایسے وقت میں لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کتنا درست ہے یہ وزیراعظم کے بیان کا دوسرا حصہ خود بتا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ کیسز بڑھے (جو پہلے ہی بڑھ رہے ہیں) تو دوبارہ سب کچھ بند کرنا پڑے گا لیکن مجھے یہاں اس فیصلے کے درست یا نادرست ہونے پر بات نہیں کرنی۔

اس وقت دکانوں اور مارکیٹوں کے کھلنے کے جو اوقات مقرر کیے گئے ہیں وہ نماز فجر سے شام پانچ بجے تک ہیں۔۔۔ مکرر عرض ہے کہ اس لاک ڈاؤن سے ایک بات تو بہرحال واضح ہو گئی کہ حکومت چاہے تو کسی بھی فیصلے پر عملدرآمد کروا سکتی ہے۔۔ کیا ہم مارکیٹوں اور دکانوں کے یہ اوقات مستقل نہیں کر سکتے؟ ان اوقات کو مستقل کرنے سے ہم بیک وقت کئی فائدے سمیٹ سکتے ہیں۔ نمازِ فجر کے بعد سونا بے برکتی قرار دیا گیا ہے، دن کام کرنے اور رات آرام کرنے  کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس وقت ہمارا عالم یہ ہے کہ ہماری مارکیٹیں دوپہر کو کھلتی ہیں اور آدھی رات کو بند ہوتی ہیں۔۔ وہ وقت جس میں کاروبار کھول کے ہم برکت حاصل کر سکتے ہیں، وہ ہم سو کر نحوست میں گزارتے ہیں۔ کرونا نے پوری دنیا کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ ہم قدرتی طرزِ زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ لہٰذا ان اوقات کو مستقل کرنے سے پہلا فائدہ تو یہ ہو گا کہ ہم برکت کے اوقات سے برکت سمیٹ سکیں گے۔

دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ دن کی روشنی کا استعمال بڑھنے سے رات کو آنکھوں کو خیرہ کرنے والی لاکھوں بتیاں ہمارے بازاروں میں جلتی ہیں، ان کا استعمال رک جانے سے بجلی کی بچت ہو گی۔

تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ بازاروں میں گزرنے والا وقت لوگ اپنے خاندان کے ساتھ گزاریں گے اور بازاروں میں خواہ مخواہ کی مٹرگشت کی بجائے صحتمند چہل قدمی کا رحجان بڑھے گا۔

چوتھا فائدہ یہ ہو گا کہ سماجی رابطوں میں اضافہ ہو گا اور وہ اس طرح کہ بلاوجہ بازاروں میں جانے اور گھومنے کی بجائے لوگ اپنے ہمسائیوں، دوستوں اور عزیز رشتے داروں سے میل جول بڑھانے کے لیے وقت نکال پائیں گے۔

پانچواں فائدہ یہ ہو گا کہ کاروبارِ زندگی نمازِ فجر کے ساتھ کھلنے کی وجہ سے رات رات بھر جاگنے کی نحوست کا خاتمہ کرنے میں خاطرخواہ مدد ملے گی۔

چھٹا فائدہ یہ ہو گا کہ کاروبار سرِ شام بند ہونے سے سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام ختم ہو جائے گا جس سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ان اوقات کو مستقل کرنے پر معاشرے میں ایک مثبت سوچ پائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کوئی انہونی نہیں ہے، ترقی یافتہ ممالک میں یہ طرزِ عمل عام ہے۔ میں نے برطانیہ میں رہ کر دیکھا ہے کہ کس طرح منہ اندھیرے کاروبار کھل جاتے ہیں اور بوڑھے بوڑھے جوڑے بھی صبح چھے سات بجے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے گروسری کر رہے ہوتے ہیں، لوگ اپنے کاموں پر جاتے ہوئے مالز میں سے گزرتے ہوئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری بھی کر لیتے ہیں اور سرِ شام ہی سو جاتے ہیں۔ اُن کی رات جلدی سو جانے کی یہ روٹین صرف جمعے اور ہفتے کی شام کو ٹوٹتی ہے۔ گرمیوں میں وہاں سورج شام ساڑھے نو بجے تک غروب ہوتا ہے اس کے باوجود اُن کا کاروبار چھے بجے بند ہو جاتا ہے حالانکہ اُن کے پاس تو صبح سویرے کام کے آغاز سے برکت سمیٹنے کا تصور بھی موجود نہیں ہے۔

کرونا کی وبا ہمیں احساس دلا رہی ہے کہ ہمیں کاروبار کے ان اوقات کو مستقل اختیار کرنا ہو گا، ہمیں قدرتی طرزِ زندگی کی طرف لوٹنا ہو گا۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *