پاکستان میں بلیک فرائیڈے بلیک ہی رہا۔۔۔ محمد کمیل اسدی

SHOPPING

گذشتہ تحریر میں بلیک فرائیڈے پر گوش گزار کیا تھا کہ یہ نام جن وجوہات پر بھی  مشہور ہوا ان میں اسلام دشمنی  ہرگز شامل نہیں تھی ۔البتہ پاکستانیوں کے ساتھ اسی طرح کھلواڑ ہوا جس طرح سیاسی نمائندے ووٹ لینے سے پہلے کچھ اور دعوے کرتے ہیں اور ووٹ لینے کے بعد ہاتھی کے دکھانےکے دانت  اور ہوتے ہیں۔ ہم سب بلیک وائٹ اور بلیسڈ کے بحث مباحثہ میں ہی الجھے رہے اور نامعلوم افراد ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئے۔کراچی کے شاپنگ  مالز میں  ڈولمن مال، اوشن مال ، ایمل ٹاور، پارک ٹاور ، ایٹریم مال ، ملینیم مال اور صائمہ مال وغیرہ  کافی شہرت کے حامل ہیں اپر کلاس کے علاوہ مڈل طبقہ اورخُصُوصاً  برانڈز کے شوقین ان مالز کا ہی رخ کرتے ہیں کیونکہ سب برانڈز اور ورائٹی ایک جگہ دستیاب ہوجاتی ہے اور شاپنگ کے لئے مارا مارا نہیں پھرنا پڑتا۔

ڈالمن مال سی ویو جانے کا اتفاق ہوا کیونکہ ہم بھی 70فیصد ڈسکاؤنٹ  کا مزا چکھنا چاہتے تھے۔ گاڑیوں کی لمبی قطاروں اور بے ہنگم ٹریفک کے بعد جب مال میں داخل ہوئےتو مال میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔عوام  دکانوں پراس طرح حملہ آور ہوئی تھی جس طرح  شہد کی مکھیاں اپنے چھتے میں  چھیڑ چھاڑ پرپیچھے پڑ جاتی ہیں۔ لیوائس ،جرڈانو، ٹمبر لینڈ،  سٹون ایج ، کیمبرج ، چن ون ،آؤٹ فٹر وغیرہ وغیرہ جتنے بھی برانڈز کا وزٹ کیا تو بہت ہی زیادہ افسوس ہوا۔بورڈز پر 50،60، 40 فیصد ڈسکاؤنٹ   صرف کسٹومرز کو متوجہ کرنے کے لئے ضرور آویزاں تھے لیکن در حقیقت کسی پر 10 فیصد اور کسی آئٹم پر صرف 20 فیصدڈسکاؤنٹ  دیا جارہا تھا۔ اور اگر کسی برانڈ پر 50 فیصد ڈسکاؤنٹ موجو د بھی تھا تو وہ اتنی گھٹیا کوالٹی اور  غیر معیار ی تھے کہ ان کو خریدنے سے بہتر تھا کہ پاس موجود سمندر میں سمندر برد کردئیے جائیں۔ بلیک ، بلیسڈ ، وائٹ اور گرین فرائیڈے کے نام پر پاکستانی عوام کو  صرف لولی پاپ ہی دیا گیا ہے۔


ہوسکتا ہے چند ایک ایسے برانڈز ضرور ہوں جہاں میں وزٹ نہیں کر سکا اور وہاں واقعی ڈسکاؤنٹ مل رہا ہو۔ڈائنر (DINER) برانڈ ڈالمن مال میں موجود نہیں تھا اس کے لئے  صدر جانا پڑا۔ دکان کے باہر بورڈ آویزاں ضرور تھا کہ 50٪ تک ڈسکاؤنٹ مل سکتا ہے۔لیکن افسوس کہ استفسار پر دوکاندار ایک آئٹم بھی نہیں دکھا پایا جس پر یہ رعایت دی جاسکتی ہو۔ صرف 10 یا 20 فیصد رعایت پر  ہی  پینٹ شرٹس وغیرہ دستیا ب تھیں۔ اور ٹی شرٹس اتنے بڑے سٹور میں گدھے کے سر پر سینگ کی طرح غائب تھیں۔ قریب میں ہی ڈائنر کافیکٹری آؤٹ لیٹ موجود تھا۔لگے ہاتھوں اس کا بھی دورہ کرنا ضروری سمجھا ۔ وہاں 50 فیصد پر سیل ضرور لگی ہوئی تھی لیکن جتنی بھی ٹی شرٹس موجود تھیں ان میں سے زیادہ قیمت والی شرٹ  1399 روپے مبلغ تھی یعنی بہتر کوالٹی کی شرٹس اوردوسرے آئٹم  غائب کردئیے تھے اور جیسے ہی سیل پیریڈ ختم ہو گا سب عمرو عیار کی زنبیل سے برآمد ہو جائیں گے۔
ان کمپنیز کے مالکان ، پاکستان میں موجود پارٹرز اور شئیر ہولڈرز سے درخواست ہے کہ اگر یہ رعائیتی سہولت صرف یورپی ممالک امریکہ وغیرہ میں ہی میسر ہے تو یہ ڈرامہ ادھر نہ رچایا کریں۔دوسرا شکوہ اپنے ہم وطنوں سے ہے  کہ   پرانا مال جو پھینکنے کے ہی قابل ہوتا ہے آپ برانڈ کے چکر میں ٹرالیاں بھر بھر کے اس طرح خوش ہور ہے ہوتےہیں جیسے رستم زمان نے دنگل جیت لیا ہو۔ ایک دفعہ سبزی کے بائیکاٹ کی طرح ان برانڈز کا بھی رخ کریں اور ان کمپنیز کو بلیک اینڈ وائٹ فرائیڈےکلرفل فرائیڈے میں  بدلنے پر مجبور کریں۔

Save

SHOPPING

Save

SHOPPING

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان میں بلیک فرائیڈے بلیک ہی رہا۔۔۔ محمد کمیل اسدی

  1. وہاں 50 فیصد پر سیل ضرور لگی ہوئی تھی لیکن جتنی بھی ٹی شرٹس موجود تھیں ان میں سبے سے زیادہ قیمت
    والی شرٹ 1399 روپے مبلغ تھی یعنی بہتر کوالٹی کی شرٹس اور دوسرے آئٹم غائب کردئیے تھے اور جیسے ہی سیل پیریڈ ختم ہو گا سب عمرو عیار کی
    زنبیل سے برامد ہو جائیں گے۔ 1399 روپے کی شرٹس پر 20 فیصد ڈسکاؤنٹ اور 800 والی شرٹس پر ہی 50 فیصد ڈسکاؤنٹ موجود تھا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *